تحریک انصاف کا احتجاج، اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند، 22 افراد گرفتار

  • جمعہ 04 / اکتوبر / 2024

اسلام آباد کے ریڈ زون میں ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے اکثر داخلی اور خارجی راستوں، سڑکوں اور شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ڈی چوک سے 22 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کےلیے اسلام آباد کے ڈی چوک پر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے مجموعی طور پر 22 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں اسلام آباد احتجاج کیلئے قافلہ پشاور ٹول پلازہ پہنچ گیا ہے۔ ہزاروں کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کا ٹول پلازہ پر استقبال کیا۔ قافلے میں ایمبولنسز، فائربریگیڈ کی گاڑیاں شامل ہیں جبکہ رکاوٹوں کو ہٹانے کےلیے کرینیں اور ایکسکیویٹر بھی موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے باعث دارالحکومت اسلام آباد میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور موبائل فون سروسز معطل ہے۔

اسلام آباد میں 26 نمبرچونگی کو ٹیکسلا کے مقام سے کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا ہے۔ فیض آباد، سیکٹر آئی ایٹ، آئی جے پی ڈبل روڈ، مارگلہ روڈبھی کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئ ہے۔ سنگجانی فیض آباد، سیکٹر جی الیون چوک، گولڑہ موڑ فلائی اوور اور انڈر پاس پر بھی کنٹینرز پہنچا دیےگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے سرائےعالمگیر سےجہلم، گجرات سے وزیرآباد کو ملانے والے 4 پل ٹریفک کیلئےبند کردیئے گئے ہیں۔ لاہور،منڈی بہاؤالدین، کھاریاں، گوجرنوالہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی جانے والےچھوٹے بڑے راستے بھی بند ہیں۔

ترجمان اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ شہری کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں، پولیس عوام کی جان و مال کےتحفظ کے لئے ہروقت مصروف عمل ہے۔ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ سفر کرتے ہوئے راستوں کی بندش کی پیش نظر ٹریفک ایڈوائزری کو مدنظر رکھیں۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد تمام سیاسی اجتماعات، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز کی 6 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئیں ہیں جبکہ اٹک میں رینجرز کے ساتھ ساتھ ایف سی بھی بلالی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق لاہور میں جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے۔ لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں پابندی کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کیلئے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے احکامات جاری کیے گئے ہیں، رینجرز کی خدمات کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلے لکھے گئے ہیں۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ غیر ملکی سربراہ کی دارالحکومت میں موجودگی میں احتجاج مناسب نہیں۔ پی ٹی آئی احتجاج کی کال پر نظر ثانی کرے، کوئی مظاہرہ کرے گا تو نرمی نہیں برتی جائے گی۔ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا اجلاس ختم ہونے تک اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کو احتجاج مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے آج ہونے والے احتجاج میں ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے احکامات پر ہر صورت عمل کیا جائےگا۔ علی امین گنڈپور نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا احتجاج پرامن ہوگا اور حالات کی خرابی کے ذمہ داری تشدد کرنے والے ہوں گے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے حکومت پر تشدد کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لیگی سرکار نے گلو بٹ تیار کر لیے ہیں، انہوں نے تنبیہہ کی کہ پنجاب پولیس آئینی حدود میں رہے ورنہ ان کے خلاف قانونی طور پر آخری حد تک جائیں گے۔

یاد رہے کہ 4 روز قبل پی ٹی آئی نے ’عدلیہ کی آزادی‘ کے لیے ملک گیر احتجاج کی تازہ کال دی تھی اور اسلام آباد میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود ڈی چوک پر بھی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اعلان میں کہا گیا تھا 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔