پنجابی کا مان اکرم شیخ

لگ بھگ آٹھ سال قبل کی بات ہے۔ ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ عنوان تھا: بلھے شاہ دی گلوبلائزیشن ۔ بلھے شاہ کے حوالے سے یہ منفرد زاویہ پہلی بار سنا۔ اس منفرد موضوع پر گفتگو پنجابی کے معروف شاعر، محقق، مترجم اور دانشور اکرم شیخ نے کرنا تھی ۔ 

اکرم شیخ سے ان دنوں ان کی شاعری، تراجم اور کالم نگاری کے حوالے سے نیا نیا تعارف ہوا تھا۔ وہ اس قدر عمدہ اور منفرد محقق بھی تھے، اس کا اندازہ ان کی گفتگو کی گہرائی اور نکتہ آفرینی سے ہوا۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی والا معاملہ تھا۔ افسوس کہ پنجابی ادب کا یہ درخشاں ستارہ گزشتہ ہفتے راہی عدم ہو گیا۔

آگے بڑھنے سے قبل ان کا کچھ تعارف

اکرم شیخ 1948 میں لاہور کے نواحی قصبے للیانی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کیا مگر نصابی تعلیم سے اکتاہٹ ہو گئی لیکن مطالِعے کی عادت گھٹی میں داخل ہو گئی۔ قصور کے حلقہ ارباب ذوق میں ایک خاموش سامع کی حیثیت سے شریک ہوتے رہے اور علم و ادب کے مباحث بغور سنتے رہے۔ اسی دوران غزل اور افسانہ لکھنا شروع کر دیا۔ اسیر عابد سے تعلق استوار ہوا جو پنجابی زبان و ادب کے نامور دانشور تھے۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ کی ’’بالِ جبریل‘‘ اور ’’دیوانِ غالب ‘‘کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا ۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اکرم شیخ کی سوچ و فکر میں ماں بولی پنجابی کا چراغ روشن کیا۔ اور پھر چل سو چل۔ پنجابی زبان ہی طرز زیست اور سوچ کا مرکز بن گئی۔

1986 میں لاہور آئے۔ ایک اخبارمیں پروف ریڈر کی ملازمت کی۔ بہ قول ان کے اردو میرا ذریعہ روزگار تھا اور پنجابی میرا تخلیقی اظہار تھا۔ یہ سلسلہ بھرپور اور زرخیز ثابت ہوا۔ دو سال قبل تک ان کی اٹھارہ کتب شائع ہو چکی تھیں جبکہ گیارہ زیر طبع تھیں۔ بلھے شاہ سے اکرم شیخ کا خصوصی تعلق رہا۔ انہوں نے آغاز میں ہی بلھے شاہؒ کا کلام پڑھنا شروع کیا اور بقول ان کے"آج تک پڑھ رہا ہوں کیونکہ جب بھی پڑھتا ہوں، بلھے شاہ کی سوچ کا ایک نیا در وا ہوتا ہے"۔

اکرم شیخ کے مطالعے کا نچوڑ یہ تھا کہ بلھے شاہ محض ایک صوفی ہی نہیں دانشور، فلسفی، مورخ اور سماج کے ناقد بھی تھے۔ بلھے شاہ ایک ایسی جادونگری ہے ، شہر طلسمات ہے جس کے کئی ایک دروازے ہیں اور اس میں ہر طرح کے آئینے رکھے ہوئے ہیں اور اس میں انسان اپنے کئی روپ دیکھتا ہے۔ وہ ایک جگت صوفی ہے۔ بلھے شاہ پس ماندہ انسانیت کا صوفی ہے۔ صوفی ازم انسان سے ہوتا ہوا خدا کی طرف جاتاہے اور انسان میں ہی خدا تلاش کرتا ہے۔

 اکرم شیخ کو ہمیشہ یہ دکھ اور گلہ رہا کہ پنجابی کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ وہ اکثر کہتے کہ احمد راہی جیسے بڑے لوگوں کی بھی یہی رائے تھی۔ شیوکمار بٹالوی بھی ایسا ہی سوچتا تھا۔ وہ پنجابی ثقافت کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ ان کے بقول اتنی شاندار روایت رکھنے کے باوجود پنجابی زبان کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ تقسیم کے بعد کے حکمرانوں نے پنجابی زبان و ادب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔ مغلوں کی افسرشاہی جو انگریزوں کے ساتھ وابستہ تھی انہوں نے ہی پہلے فارسی، پھر اردو اور انگریزی کو پنجابی کے مقابلے میں ترجیح دی۔

اکرم شیخ کی شائع کتابوں کے مضامین سے ان کی وسعت مطالعہ اور دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کافر کافر آکھدے(بلھے شاہ دا صوفی نظریہ)، نانک تے بلھا(دو پنجابی صوفیاں دی فکری سانجھ)، بلھا تے منصور(بلھے شاہ پر منصور حلاج کے اثرات)، بلھا بھگت(بھگتی تحریک اور بلھے شاہ)، بْرا حال ہو یا پنجاب دا (بلھے شاہ ؒکے زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات)،

ڈاڈھے نال پریت (بابا فریدؒ کی حیاتی اور کلام)، حسین فقیر نمانا (شاہ حسین کا فکری جائزہ)، بلھے شاہ دی گلوبلائزیشن(بلھے شاہ کا معاشی نظریہ)، میرا

بلھا شوہ(بلھے شاہ ایک وجود میں جگت صوفی)، نانک لالو لال ہے(گورونانک کی حیاتی کلام اور نظریہ)، پتھراں وچ اکھ(پنجابی غزلاں دا مجموعہ)، رب تے بھگت(بھگت کبیر بارے) و دیگر ۔

اکرم شیخ اپنی ذات میں ایک ادارے کی طرح تخلیقی کام کرتے رہے۔ انہوں نے ایک درجن کے لگ بھگ کتابوں کے تراجم بھی کیے۔ ان میں ہیر وارث شاہ(وارث شاہ کی ہیر کا اردو ترجمہ)، کیہ جاناں میں کون(بلھے شاہؒ کا کلام اور اس کی فکری تقسیم)، پنجاب کا صوفی ورثہ(حیاتی اور منتخب کلام کا اردو ترجمہ)، بابا فرید، گورونانک، شاہ حسینؒ، سلطان باہوؒ، بلھے شاہؒ، وارث شاہؒ، خواجہ غلام فرید، میاں محمد بخش، دوسرو نہ کوئی(میرا بائی کے کلام کا پنجابی ترجمہ)، ہندی معبد کی سرزمین(سفرنامہ) اورسچائی  کا زہر (انٹرویوز) شامل ہیں۔

پنجاب کی رومانوی داستانیں پنجابی ادب کا سرمایہ ہیں جنہیں پنجابی کلچر میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ تاہم ان رومانوی داستانوں کے بارے میں بھی ان کا ایک منفرد زاویہ تھا کہ پنجاب کی ساری رومانی داستانیں ’’مردشاہی‘‘ کی نمائندہ ہیں۔ جن میں عورت سے وفا کے تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ انہیں معصوم اور مظلوم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بے وفائی کے الزام بھی عائد ہوتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سب لکھنے والے مرد ہیں۔ ان کے نظریے کا بنیادی ماخذ وہ عورت ہے جو فسادی بھی ہے اور اس کی وجہ سے جنت سے دیس نکالا بھی ہوا تھا۔

تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ تمام داستانوں کے عنوان عورت کے نام سے شروع ہوتے ہیں۔ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنو، سہتی مراد، صرف ایک داستان ہے جس میں مرزا یعنی مرد کا نام سامنے آتا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق ان رومانوی داستانوں میں تمام الزامات واضح طور پر عورت پر عائد ہوتے ہیں جو صریحاً زیادتی ہے کیونکہ اگر کہانی کا گہرائی میں مطالعہ کریں تو مرد شاہی سوچ کا سایہ واضح طور پر سامنے آتا ہے۔

اکرم شیخ باکمال شاعر بھی تھے۔ سادگی، معنوی گہرائی اور پنجابی کلچر کے استعاروں کے ساتھ انتہائی عمدہ کلام مگر ان کی شاعری کو وہ شہرت نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے ۔ نمونہ کلام  ملاحظہ ہو:

چانن بھریا وسدا شہر اجاڑ گئے

سفنے سڑدے سڑدے اکھاں ساڑ گئے

کہیڑے دیسوں کون کھڈاری آئے سن

اڈدے پنچھی پھڑ کے پنجریں تاڑ گئے

(روشنیوں سے بھرا شہر اجاڑ گئے۔ خواب ہمیں جلاتے جلاتے آنکھیں بھی جلا گئے۔

یہ کس دیس سے فنکار شکاری آئے جنہوں نے اڑتے پرندوں کو پنجروں میں قید کر دیا)