علی امین گنڈا پور کا ڈرامہ: پس پردہ کون متحرک ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 06 / اکتوبر / 2024
خیبر پختون خوا اسمبلی کا اجلاس اپنے وزیر اعلیٰ کی پراسرار گم شدگی پر احتجاج کرنے اور لائحہ عمل بنانے کے لیے طلب کیاگیا تھا لیکن اس دوران میں علی امین گنڈا پور نے وہاں پہنچ کر گھسی پٹی تقریر کی اور دعویٰ کیا کہ وہ چوبیس گھنٹے تک اسلام آباد میں ہی موجود تھے لیکن پولیس کو نہیں ملے۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیوں اور اس بار کس سے ملاقات کے لیے ’روپوش‘ ہوئے تھے۔
اس سے پہلے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں سنگجانی کے مقام پر تحریک انصاف کے جلسہ میں علی امین پور گنڈا پور کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد جب حکومت تحریک انصاف کے لیڈروں کو گرفتارکرہی تھی ، تب بھی خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پراسرار طور سے غائب ہوگئے تھے ۔ سات آٹھ گھنٹے ’گم شدہ‘ رہنے کے بعد وہ اچانک پشاور میں رونما ہوئے اور بتایا کہ وہ ’اہم ملاقات‘ کے لیے کسی جگہ گئے تھے۔ اس وقت بھی نہ تو علی امین گنڈا پور نے یہ بتایا کہ وہ کس سے اور کس موضوع پر بات چیت کے لیے گئے تھے اور نہ تحریک انصاف نے اس بات پر معذرت کی ضرورت محسوس کی اس نے کہ اپنی مرضی سے غائب ہوجانے والے لیڈر کو گمشدہ کہتےہوئے ایجنسیوں اور حکومت پر اغوا کا بے بنیاد الزام عائد کیا تھا۔ علی امین گنڈا پور سے وضاحت طلب نہیں کی گئی کہ وہ تمام رابطے منقطع کرکے ایک ایسے وقت میں کس مشن پر روانہ ہوئے تھے جس وقت پوری پارٹی قیادت گرفتاریوں اور پولیس جبر کا سامنا کررہی تھی؟
اس پس منظر میں علی امین گنڈا پور کے کردار اور نیک نیتی کے بارے میں سوالات سامنے آتے ہیں۔ ایک بار پھر وہ بظاہر اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ میں احتجاج کرنے اور دھرنا دینے کے لیے پشاور سے نکلے لیکن اسلام آباد پہنچ کر اچانک وہاں سے خیبر پختون خوا ہاؤس پہنچ گئے۔ اس دوران میں پولیس اور اور رینجرز ان مظاہرین سے نمٹنے کی کوشش کرتی رہی جن کے بارے میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ وہ پیشہ ور لوگ تھے۔ ان میں کے پی کے پولیس کے متعدد اہل کار بھی شامل تھے۔ ان میں سے 11 پولیس والوں کو تو وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے گرفتار بھی کیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے پی کے ہاؤس پر رینجرز کی ریڈ کے اعلان کے ساتھ یہ الزام تراشی کرتے ہوئے میدان میں نکل آئی کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے تو اسے ایک وزیر اعلیٰ کے اغوا کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے چوبیس گھنٹے کے اندر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو رہا کرنے کا الٹی میٹم بھی دے دیا۔ دوسری طرف صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اجلاس طلب کرنے کا مراسلہ جاری کیا گیا جس میں میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اغوا ہونے کے معاملے پر بحث کی جائے گی‘۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بدتمیزی کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ البتہ وفاقی حکومت کے خلاف صوبائی اسمبلی کا اجلاس علی مین گنڈا پور کی واپسی اور یہ اعتراف سن کر تالیاں پیٹتا رہا کہ وہ تو خود ہی روپوش تھے۔ کسی رکن اسمبلی نے یہ سوال کرنے کا حوصلہ نہیں کیا کہ پھر اس مدت میں گرفتاری اور اغوا کا ڈرامہ رچانے اور تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل جھوٹ پھیلانے کا کیا جواز تھا؟
اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ’پہلے بھی علی امین گنڈرا پور سات گھنٹے کے لیے روپوش ہوئے تھے اور اب بھی وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ خودساختہ روپوش تھے ۔جبکہ پی ٹی آئی اور ان کے اپنے بھائی ان کی گرفتاری کا الزام حکومت پر عائد کر رہے تھے‘۔ نجی چینل سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ’علی امین وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں‘۔ اس بارے میں وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’علی امین کل ہی خیبر پختونخوا پہنچ گئے تھے اور آج انہوں نے اسمبلی پہنچ کر ڈرامہ کیا اور ساری پارٹی اس ڈرامے پر کام کر رہی تھی تاکہ اداروں پر تنقید کی جا سکے‘۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ ’یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان معاشی بحران سے نہ نکلے۔ دنیا پاکستان سے تعاون نہ کرے اور آنے والی کانفرنس کو سبوتاژ کیا جائے‘۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہفتہ عشرہ بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے۔ گزشتہ روز ہی نئی دہلی سے اعلان کیا گیا ہے کہ وزیر خارجہ جے شنکر اس اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کریں گے۔ لگ بھگ ایک دہائی میں یہ کسی بھارتی وزیر کی طرف پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ اسی لیے تحریک انصاف کی طرف سے اس وقت اچانک احتجاج کرنے اور دفعہ 144 کے باوجود اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ پہنچنے کا اعلان متعدد حلقوں کے لیے تشویش کا سبب تھا۔ حتی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ آئینی معاملات اور سیاسی امور پر تعاون کی بات چیت کرنے والے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے لیڈر مولانا فضل الرحمان نے بھی تحریک انصاف سے اس موقع پر احتجاج مؤخر کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غیر ملکی مہمان چلے جائیں پھر احتجاج کرلیا جائے۔ البتہ اس کے برعکس تحریک انصاف نے احتجاج شدید کرنے اور عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جان لڑا دینے کی اپیلیں جاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔
اس دوران میں علی امین گنڈا پور کی گمشدگی پر کیا جانے والا پروپیگنڈا اوراحتجاج لایعنی اور بے بنیاد لگتا ہے۔ البتہ یہ بھی سوچنا اہم ہے کہ یہ احتجاج واقعی اس غلط فہمی کی بنیاد پر کیا جارہا تھا کہ ایک ایسے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو گرفتار کرلیا گیا جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پارٹی اس’ غیر آئینی و غیر قانونی ‘ اقدام پر برافروختہ تھی؟ یا جیسا کہ رانا ثنااللہ نے اشارہ دیا ہے کہ تحریک انصاف جان بوجھ کر یہ ڈرامہ رچا رہی تھی تاکہ اداروں کو بدنام کیا جاسکے؟ اس کا جواب بہر حال تحریک انصاف کو دینا چاہئے ۔ورنہ اس کی سیاسی سنجیدگی کے بارے میں سنگین سوالات سامنے آئیں گے۔ کیا پارٹی کو علم تھا کہ علی امین گنڈا پور اپنی مرضی سے روپوش ہیں لیکن اس کے لیڈر سیاسی مقاصد کے لئے اسے اغوا اور گرفتاری بتا کر لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کیا اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی کو ڈی گراؤنڈ پر احتجاج میں ناکامی پر بدحواسی سمجھا جائے یا اس طریقے سے پارٹی کسی بھی طرح اپنے مایوس کارکنوں اور ہمدردوں کو گھروں سے باہر نکالنے کی کوشش کررہی تھی۔
اس کا کوئی بھی مقصد ہو کسی بڑی سیاسی پارٹی سے جو سیاسی راستے سے انتخابات کے ذریعے ملک پر حکومت کرنے کا خواب دیکھتی ہے، یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ جھوٹ کی بنیاد پر سیاسی بیانیہ استوار کرے گی۔ تحریک انصاف اگر اس معاملہ پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے صاف الفاظ میں معافی نہیں مانگتی تو پارٹی کی نیک نیتی اور سیاسی ساکھ پر سوالات اٹھانا جائز ہوگا۔
اس افسوسناک واقعہ کے ایک دوسرے پہلو کی طرف خیبر پختون خوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ علی امین وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں‘۔ یعنی وہ عمران خان کی سیاسی لڑائی لڑنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ کسی بھی صوبے کے گورنر سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کوئی بیان دیتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر بات کرے گا۔ اس لیے فیصل کریم کنڈی کے پا س بھی اس بارے میں کچھ اشارے موجود ہونے چاہئیں۔ تاہم اس تصویر کا یہ رخ بھی دلچسپی کا سبب ہونا چاہئے کہ خود عمران خان خان کا اس معاملہ میں کیا کردار ہے۔ علی امین گنڈا پور خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ عمران خان کے حکم پر ہی بنے ہیں۔ وہ خود کو عمران خان کا ہی ’سپاہی‘ کہتے ہیں۔ عمران خان ہی کے حکم پر وہ خیبر پختون خوا سے احتجاجیوں کا ٹولہ لے کر اسلام آباد اور پنجاب پر دھاوا بولتے رہے ہیں۔ تاہم سنگجانی کے جلسہ میں تقریر کے بعد وہ ہر اجلاس یااحتجاج کے موقع پر کوئی نہ کوئی ڈرامائی صورت حال پیدا کرتے ہیں لیکن عمران خان انہیں پھر سے وہی کام کرنے کا ‘مشن‘ سونپ دیتے ہیں۔
اب اسلام آباد پولیس نے پانچ سو سے زیادہ افراد گرفتار کرکے بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر پیشہ ور لوگ ہیں جو محض شرپسندی اور اسلام آباد میں انتشار پیدا کرنے کے لیے لائے گئے تھے۔ اس مقصد سے نہ صرف خیبر پختون خوا کے مالی وسائل صرف کیے گئے بلکہ سرکاری عہدے دار بھی اس میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اب وفاقی حکومت اس حوالے سے خیبر پختون خوا حکومت کے کردار پر تحقیقات کروا رہی ہے۔ البتہ اگر علی امین گنڈا پو واقعی دلاور لیڈرہیں تو وہ عین موقع پر غائب کیوں ہوجاتے ہیں یا پھر دیر سے پہنچتے ہیں۔ کیا عمران خان کو ان کے دوہرے کردار کا علم ہے یا وہ بھی علی امین گنڈا پور کی اس ڈرامے بازی میں شامل ہیں۔ اگر علی امین گنڈا پور تازہ ترین ’گمشدگی‘ کے بعد بھی خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ رہتے ہیں اور عمران خان جیل میں ان سے پھر بھی ملاقات پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو علی امین گنڈا پور کی جگہ عمران خان کی نیت پر سوال اٹھانا چاہئے۔
عمران خان ملک میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کی سیاست کے ذریعے سیاسی ہدف یعنی اسٹبلشمنٹ کو مجبور کرکے اقتدار حاصل کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔ تحریک انصاف ہر ایسے موقع پر سوشل میڈیا پر ایسی مہم شروع کرتی ہے کہ جیسے اسٹبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدیدار جیل میں عمران خان کی منت سماجت کررہے ہیں کہ انہیں معاف کردیا جائے اور کسی بھی طرح وہ صلح پر آمادہ ہوجائیں۔ حالانکہ بظاہر حالات کی تصویر اس سے متضاد ہے۔ البتہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تصادم اور اشتعال انگیزی کی ناکام سیاست کرنے کے بعد عمران خان کو اب یہ مان لینا چاہئے کہ وہ اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر اسی وقت تحریک انصاف کو متحرک سیاسی قوت بنانے میں کامیاب ہوں گے جب اسے جائز سیاسی و پارلیمانی راستے سے جد و جہد کی طرف لایا جائے گا۔
قانون شکنی، تشدد، اشتعال انگیزی اور الزام تراشی کی سیاست سے تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ بھی اضافہ ہوگا اور اقتدار تک حصول مزید دشوار ہوتا چلاجائے گا۔