غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی کا ایک برس مکمل ہوگیا
اسرائیل پر حماس کے غیر متوقع حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت میں 42 ہزار شہری جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم اقوام متحدہ سمیت کوئی ملک اس جنگ کو رکوانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
پیر کو جنگ کا ایک برس مکمل ہونے کے دن اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسط میں حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیاروں سے بمباری کی ہے۔ حماس نے ایک برس قبل اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر کیے گئے حملے کے بعد اسرائیلی فورسز اور حزب اللہ میں بھی لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ اس لڑائی میں اب شدت آتی جا رہی ہے جس کے بعد خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان کے ساتھ ساتھ دارالحکومت بیروت میں بھی کارروائیاں کی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی شہر حیفا کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے بعض راکٹ حیفا شہر کے مختلف علاقوں پر گرے ہیں۔ راکٹ حملوں میں لگ بھگ 10 اسرائیلی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی اسرائیل کے شہر حیفا میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل پر حملے اور جنگ کا ایک برس مکمل ہونے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اتوار کو شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد پر فوجی اہلکاروں سے ملاقات کے لیے دورہ کیا۔ اس موقع پر بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک برس پہلے اسرائیل کو ایک خوف ناک دھچکا لگا تھا۔ ان کے بقول اس دن کے بعد گزشتہ 12 ماہ میں اسرائیل نے سارا نقشہ بدل دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے ایک برس مکمل ہونے پر تقریب میں شریک ہوں گے اور اس دوران موم بتیاں بھی روشن کی جائیں گی۔ حماس نے سات اکتوبر 2013 کو اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر غیر متوقع طور پر زمین، فضا اور بحری راستے سے حملہ کیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ حماس نے لگ بھگ ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے نصف سے زیادہ کو نومبر 2023 میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔ اب بھی لگ بھگ 100 یرغمالی حماس کی تحویل میں ہیں۔ اسرائیلی فورسز کا خیال ہے کہ حماس کی تحویل میں موجود یرغمالیوں میں سے ایک تہائی کی موت ہو چکی ہے۔
دوسری جانب سات اکتوبر 2023 کو ہی اسرائیلی فورسز نے غزہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور اسرائیل کی حکومت نے حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کی رہائی تک اعلانِ جنگ کیا تھا۔ ایک برس سے غزہ میں اسرائیل کی جنگ جوئی میں لگ بھگ 42 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 97 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کی آبادی جنگ کے آغاز سے قبل لگ بھگ 23 لاکھ تھی جس میں سے 80 فی صد سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ غزہ کی عسکری تنظیم حماس اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کو امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین سمیت ان کے بیشتر اتحادی ممالک دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔