کراچی: دہشت گرد حملے میں دو چینی شہری ہلاک

  • سوموار 07 / اکتوبر / 2024

کراچی میں کل رات 11 بجے کے قریب پورٹ قاسم اتھارٹی الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے چینی عملے کو لانے والے ایک قافلے پر کیے گئے حملے میں دو چینی شہری ہلاک، ایک زخمی ہوا ہے۔

چینی سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو رات  اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ پاکستان میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں میں کام کرنے کے لیے موجود ہے اور گزشتہ چند سالوں کے دوران ان پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھیں گذشتہ رات کراچی ایئرپورٹ کے قریب کانوائے پر ہونے والے حملے میں دو چینی شہریوں کی ہلاکت پر گہرا صدمہ اور دکھ ہوا ہے۔ ’میں اس گھناؤنے عمل کی مذمت کرتا ہوں اور چینی رہنماؤں اور باشندوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بھیانک حملے میں ملوث افراد  پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس بارے میں فوری تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان کی شناخت کرتے ہوئے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جایا۔ پاکستان اپنے چینی دوستوں کی حفاظت کے لیے پرعظم ہے۔ ہم ان کی سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے پیر کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور واقعے پر چینی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائی پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی پر حملہ ہے۔ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں، سہولت کاروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔ حملے میں ملوث افراد کو ضرور سزا ملے گی۔

مجید بریگیڈ سمیت اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔