ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شامت کیوں آئی ہوئی ہے؟
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- سوموار 07 / اکتوبر / 2024
بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سرکار دربار نے دورے کی دعوت دے کر بلایا ہے اور شہر شہر وہ گیان بانٹ رہے ہیں۔ گیان ایسا بانٹا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ان دنوں خوب رش لے رہے ہیں۔
یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے مجھے تو یہ شبہ ہو رہا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو جال میں پھنسا کر پاکستان بھیجا گیا ہے۔ یا تو ہمارے افسران قضا و قدر نے ایسا کیا ہے تاکہ بھارتی جم پل ڈاکٹر ذاکر نائیک کی قلعی کھل جائے اور ان کا پاکستانیوں پر اثر ختم ہو جائے۔ یا پھر بھارتی ایجنسی ”را “ نے ایسا کرکے ان سے اپنا حساب چکتا کیا ہے۔ اس وقت عام تاثر یہی ابھر رہا ہے کہ مفتی طارق مسعود اور مفتی قوی جیسے سوشل میڈیا سٹار بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک سے کہیں زیادہ دینی اور دنیاوی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
حضرت کی وجہ شہرت تقابل ادیان کا ماہر ہونا بیان کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ادھر ہندوستان وغیرہ میں ایسا تقابل کرکے لاکھوں غیر مسلموں کو اسلام قبول کروا چکے ہیں۔ گو تسلیم کہ وہ لاکھوں کہیں دکھائی نہیں دیے، بس سنائی ہی دیے ہیں، مگر یہ بات ضرور سچ ہوگی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ پاکستان میں تو 96.5 فیصد لوگ مسلمان ہیں، بیشتر غیر مسلموں کو تو ہم ترک وطن کرنے پر قائل کر چکے ہیں، تو وہ تقابل کیسے کریں گے اور اسلام کسے قبول کروائیں گے؟
ہماری الجھن اس وقت رفع ہوئی جب لکی مروت کی پلوشہ نامی ایک لڑکی نے ان سے سوال پوچھ لیا کہ حضرت ہمارا علاقہ ظاہری طور پر تو بہت اسلامی ہے، حلیہ بھی اسلامی ہے، عبادات اور تبلیغ پر بھِی بہت زور ہے، لیکن یہاں منشیات، سود، زنا، خصوصاً بچوں سے زنا یعنی پیڈوفیلیا وغیرہ بہت بڑھ گئے ہیں۔ تو اپنی فہم کے مطابق یہ تو بتا دیں کہ سوسائٹی اتنی اسلامی ہو کر بھی کیوں اس طرح گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ اور ہمارے علما ان برائیوں کے خلاف کیوں بات نہیں کرتے؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے آگ بگولا ہو کر فرمایا کہ یا تو معاشرہ اسلامی ہو سکتا ہے یا پھر ایسی برائیاں ہو سکتی ہیں۔ آپ نے معاشرے پر بغیر تحقیق کے ایسا الزام لگا دیا تو آپ نے اسلامی گستاخی کر دی ہے۔ فوراً معافی مانگیں۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نظر میں پاکستان ایک اسلامی معاشرہ نہیں۔ کیونکہ یہاں بہت سے ایسے گناہ اور جرائم ہوتے ہیں جو کسی اسلامی معاشرے میں ہونے ممکن ہی نہیں۔ اس لیے وہ پاکستانیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کریں گے اور پھر ہمیں بتایا جائے گا کہ اب ان کے ہاتھ پر پچیس کروڑ مزید افراد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
پلوشہ کا تعلق لکی مروت سے ہے۔ اس سے ہمیں لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مفتی عزیز الرحمان یاد آ گئے جو لاہور کے مدرسہ منظور الاسلامیہ میں شیخ الحدیث تھے اور جمعیت علمائے اسلام ضلع لاہور کے سینئیر نائب امیر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے ایک شاگرد نے ان پر الزام لگایا کہ وہ اس سے بالجبر جنسی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس نے مدرسے میں اور جگہ جگہ فریاد کی مگر کسی نے نہ سنی۔ پھر اس نے ویڈیو پبلک کر دیں۔ سوشل میڈیا پر خوب شور مچا، مفتی صاحب پھر مفرور ہوئے اور بالآخر پکڑے گئے۔ پولیس کو ابتدائی بیان میں انہوں نے فرمایا کہ انہیں نشہ آور چائے پلا کر ایسے کام کروائے گئے ہیں۔ اور مدرسے کے ایک استاد کو افغانی قرار دے کر شاگرد کو اس کا ایجنٹ قرار دے دیا۔ پھر کیا ہوا؟ ہمارا خیال ہے کہ وہی ہوا ہو گا جو پاکستان میں طاقتوروں کے باب میں ہوتا ہے اور مفتی صاحب ابھی بھی کسی مدرسے کے بچوں میں اپنا فیض عام کر رہے ہوں گے۔ آپ خود تحقیق کر لیں تو مناسب ہو گا۔
بہرحال اس ایک مشہور مقدمے سے ہی لکی مروت کے بارے میں پلوشہ کے بیان کو تقویت پہنچتی ہے۔ باقی قصور اور دیگر شہروں کے بچوں کے ریپ اور قتل کے مقدمات بھی بہت مشہور ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے تصدیق چاہی تھی تو کچھ واقعات کا سرسری ذکر کر دیا، باقی حالات سے تو پلوشہ کے علاوہ باقی سب پاکستانی بھی واقف ہیں۔
اب اگر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیان پر جائیں تو اس کی روشنی میں پاکستان ایک اسلامی معاشرہ نہیں، بس پاکستانی اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ وہ ایک اسلامی معاشرہ ہیں۔ نیز ان کی رائے کے مطابق تو ان بہت سی مساجد اور مدارس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جن کے بارے میں مختلف خبریں، مقدمات اور ویڈیوز آتی رہتی ہیں کہ وہاں بچوں کا ریپ ہوا ہے۔ خیر یہ معاملہ تو ہمارے علما اور ڈاکٹر ذاکر نائیک آپس میں مل بیٹھ کر طے کر لیں تو بہتر ہو گا۔
لیکن یہاں ایک زیادہ سنگین مسئلہ مزید پیدا ہوتا ہے۔ چوری، زنا، شراب نوشی اور ایسی دیگر برائیوں کا ارتکاب تو قرون اولیٰ کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ فقہ میں ان سب معاملات کی سزائیں بلاوجہ تو نہیں۔ یہ تو اسلامی مذہبی ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ چاہیں تو کسی بھی مفتی، فقیہ یا محدث سے پوچھ لیں۔ کیا ڈاکٹر ذاکر نائیک ان سے ناواقف ہیں؟ نعوذ باللہ کیا وہ قرون اولیٰ کے معاشرے پر بھی یہی حکم لگائیں گے کہ ان جرائم کی وجہ سے وہ اسلامی معاشرہ نہیں تھا؟ یا پھر وہ ان معاملات کے بارے میں اتنا بھی علم نہیں رکھتے جتنا ایک عام پڑھا لکھا مسلمان رکھتا ہے؟
انہیں شک کا فائدہ دینے کی کوشش کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے لڑکی کا سوال نہیں سمجھا۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اپنی سوشل میڈیا وال پر یہ سوال جواب دیکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے لڑکی کے سوال کو من چاہا رنگ دینے کی کوشش کی۔ اس کے بار بار اس رنگ کو درست کرنے کی کوششوں کو سختی سے ناکام بنایا، اور آخر میں اس پر بلاسفیمی کا الزام عائد کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے الفاظ یہ ہیں ”آپ یہ کہہ رہے ہیں میرا اسلامی معاشرہ ہے، پھر کہتے ہیں پیڈو فیلیا ہے، آپ اسلام پر تہمت لگا رہے ہو میری بہن“ ۔
یعنی ایسا نہیں کہ انہیں سوال کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ سوال کی خوب سمجھ آ گئی تھی، انہوں نے جواب دینے سے خود کو عاجز پایا تو اپنا دامن بچایا اور سوالی پر انگاروں کو اچھال دیا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ عالم یا فقیہ نہیں، محض رٹے باز ہیں۔ اس لیے سلیبس سے باہر سوال آ جائے تو پھنس جاتے ہیں۔ اور جو ریفرنس دیتے ہیں، ان کو کراس چیک کرنے والوں نے ان ریفرنسوں کی غلطیاں نکال کر یوٹیوب پر ڈالی ہوئی ہیں۔ وہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے محض یادداشت ہی ایسی بڑی خوبی ہے تو چیٹ جی پی ٹی کی یادداشت ان کے مقابلے میں نہ صرف بہت بہتر ہے، بلکہ وہ آرٹی فیشل انٹیلیجنس بھی رکھتا ہے۔ نسبتاً، اس کے دیے جوابات مزاحیہ ہونے کی حد تک غلط کم ہی نکلتے ہیں۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ان سوال جواب کے سیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آرٹی فیشل یا اصل انٹیلی جنس سے تہی ہیں۔
دوسری ویڈیو میں میٹرک کی ایک بچی نے مردوں کی دوسری شادی پر سوال کیا۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے غیر شادی شدہ خواتین کو، جن میں کنواریاں بھی شامل ہیں، بیوائیں بھی اور طلاق یافتہ بھی، بغیر کسی لحاظ کے نہایت صراحت سے پبلک پراپرٹی اور بازاری عورتیں قرار دے دیا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ٹویٹر وال پر دونوں ویڈیو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کی سہولت کے لیے کچھ اختصار کے ساتھ ان کے الفاظ یہاں نقل کر دیتا ہوں :۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میٹرک کی ایک بچی کے سوال پر کہ مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی کیوں اجازت ہے، جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جن خواتین کو شادی کے لیے مرد دستیاب نہیں، ”یا تو وہ ایسے مرد سے شادی کریں جن کی بیوی آلریڈی ہے، یا وہ بازاری عورت بن جائے۔ بازاری عورت، اتنا سخت لفظ۔ میں انگلش میں بولتا ہوں پبلک پراپرٹی۔ لوگ اعتراض لیتے ہیں، میں کہتا ہوں اس سے اچھا لفظ میرے پاس ہے ہی نہیں“ ۔
لکی مروت کی پلوشہ نے سوال کرتے ہوئے کہا:
”میں جس جگہ سے بیلونگ کرتی ہوں، وہاں کمپلیٹ اسلامی ریلیجس سوسائٹی ہے۔ وہاں خواتین بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں جاتیں۔ وہاں پہ عورتیں گھروں میں رہتی ہیں اور مرد کوئی نماز قضا نہیں کرتے۔ اور ہر شب جمعہ کو تبلیغی جماعت کے دعوتی اجتماع میں جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں لوگوں کا سوشل کنڈکٹ بھی ریلیجس بیسڈ ہے۔ میرا کویسچن یہاں پہ یہ ہے، آپ کے وزڈم کے مد نظر، کیا ریزن ہو سکتی ہے کہ وہاں پہ ڈرگ ایڈکشن، ایڈلٹری، پیڈوفائلز، جیسے سود اور اس طرح کی برائیاں جڑ پا چکی ہیں۔ آپ ریزن کیا بتا سکتے ہیں کہ وہاں پہ سوسائٹی کیوں کولیپس ہو رہی ہے، اور ہمارے علما ان کو کال آؤٹ کیوں نہیں کرتے، سپیسفکلی پیڈوفائلز کو۔“
ڈاکٹر موصوف نے سوال کے مفہوم کو اپنا رنگ دیتے ہوئے، درمیان میں تمسخر اڑایا، اور پھر فرمایا
”آپ کے سوال میں تکرار ہے۔ آپ کہتی ہیں کہ آپ کا معاشرہ اسلامی ہے، پھر بولتی ہیں پیڈوفائل ہے۔“
لڑکی نے وضاحت کی کوشش کی، جو ڈاکٹر موصوف نے سختی سے بات کاٹ کر ناکام بنا دی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک: ”آپ نے سوال پوچھا اب خاموش رہیں گی؟ سوال ختم ہو گیا نا؟ میرا جواب سننا چاہتی ہیں آپ کہ نہیں؟ آپ سننا چاہتی ہیں کہ نہیں؟ آپ کا سوال ختم، ابھی میرا جواب سنیے۔ “
ڈاکٹر ذاکر نائیک: ”آپ نے جو سوال کیا، میرے حساب سے کونٹراڈکشن ہے۔ آپ نے کہا میرا معاشرہ بہت اسلامک ہے۔ اور میرے معاشرے میں پیڈوفائل ہیں۔ دونوں میں تکرار ہے۔ کوئی بھی اسلامی ماحول میں پیڈوفائل ہو ہی نہیں سکتا۔ یا آپ کا پہلا پارٹ غلط ہے یا دوسرا پارٹ۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ بہت اسلامی اور چوری کر رہا ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے۔ آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ کے سوال میں خطا ہے۔ پہلے پار یا دوسرے پار۔ ہاں کہ نہیں؟ سمپل؟ میرا معاشرہ بہت اسلامی ہے، پیڈو فائل ہے۔ پیڈوفائل مطلب بچوں کے ساتھ زنا کرنا۔ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ کون سی اسلامی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ قرآن مجید میں نکلا ہے؟ کون سا چیپٹر ہے کون سا ورس ہے کہ پیڈو فائل کرنا چاہیے؟ کون سی حدیث میں نکلا ہے؟ آپ کا کہنا، یا پہلی بار غلط ہے یا دوسری بار۔ اسی لیے آپ کے سوال میں تکرار ہے۔ آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ میرا معاشرہ سمجھتا ہے کہ بہت اسلامی ہے۔ تو مانوں گا۔ یہ بولنا کہ اسلامی ہے، خواتین باہر نکلتی نہیں ضرورت کے بنا، اور آدمی لوگ نکلتا ہے ضرورت کے بنا، یہ پرابلم ہے؟ کیا ضرورت ہے، پیڈوفیلیا؟ اسی لیے کبھی بھِی کسی پر الزام لگانے سے پہلے دس بار سوچو۔ اگر آپ یہ اللہ کے دربار میں سوال کریں گے، آپ تو پھنس جائیں گے میری بہن۔ آپ کو معافی مانگنا چاہیے، کہ آپ کا سوال غلط ہے۔“
لڑکی نے پھر سوال کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر موصوف نے بات کاٹ کر فرمایا
ڈاکٹر ذاکر نائیک: ”بہن بہن بہن، آپ کو پہلے قبول کرنا پڑے گا کہ میرا سوال غلط ہے۔ اگر آپ قبول نہیں کریں گے، تو میرا جواب ختم۔“
پلوشہ: ”اوکے سر، میرے سوال کی نوعیت غلط ہے“ ۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک: ”نوعیت غلط نہیں، سوال غلط ہے، آپ غلط ہیں۔ آپ یہ الزام لگا رہے ہیں آپ کے معاشرے پہ۔ پہلے کہتے ہیں اسلامی ہے پھر کہتے ہیں پیڈو فیلیا۔ دونوں غلط ہیں۔ دونوں میں سے ایک تو صحیح رہے گا ایک غلط رہے گا۔ یہ کیا ہوتا ہے آپ میڈیا کو سن سن کر رپیٹ کرتے ہیں۔ دونوں تو صحیح ہو ہی نہیں سکتا ہے۔“
آگے ڈاکٹر موصوف نے دونوں کے صحیح ہونے کی صورت میں نعوذ باللہ کہتے ہوئے قرآن کے بارے میں کچھ سوال کیے۔ وہ الفاظ آپ خود ویڈیو میں سنیں تو بہتر ہو گا۔ پہلے ہی مفتی طارق مسعود پھنسے ہوئے ہیں تو یہاں نہ لکھنا بہتر ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا:
”جب بھی کوئی انفارمیشن آتا ہے، آپ تحقیق کرو اسے دہرانے کے پہلے، آپ سارے مجمعے میں دہرا رہے ہیں۔ ہزاروں کا مجمع ہے۔ بیس ہزار پچیس ہزار۔ آپ یہ کہہ رہے ہیں میرا اسلامی معاشرہ ہے، پھر کہتے ہیں پیڈو فیلیا ہے، آپ اسلام پر تہمت لگا رہے ہو میری بہن۔ اور آپ معافی بھی نہیں مانگ رہے؟ یہ ہوتا ہے، غلطی بولنے کے بعد معافی مانگنے کا ہوتا ہے۔“
ویسے ڈاکٹر صاحب کے پاس انفارمیشن آ گئی تھیں، تو پلوشہ پر جھوٹ بولنے اور بلاسفیمی کا الزام لگانے سے پہلے خود تحقیق کر لیتے تو مناسب ہوتا۔ پولیس رپورٹس اور ریپ کے بعد قتل ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار دیکھ کر شاید انہیں لڑکی اتنی زیادہ جھوٹی نہ لگتی بلکہ اپنی کم علمی پر شرمسار ہوتے۔ ویسے بھارتی معاشرہ بھی پاکستان جیسا ہی ہے، کیا انہیں وہاں کے حالات کے بارے میں کچھ علم نہیں؟
(بشکریہ: ہم سب لاہور)