عمران خان اور وزیراعلی کے پی پر اسلام آباد پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ

  • منگل 08 / اکتوبر / 2024

تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران جاں بحق اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل عبد الحمید شاہ کے قتل کا مقدمہ تھانہ نون میں درج کر لیا گیا۔

مقدمے میں اقدام قتل، اغوا، اور دہشتگردی سمیت 12 دفعات شامل کی گئی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان، علی امین گنڈاپور، اعظم سواتی، بیرسٹر سیف، عمر ایوب اور عامر مغل کے ساتھ ساتھ 500 نامعلوم افراد کو اس معاملہ میں نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق عامر مغل نے شرکا کے ساتھ مل کر کانسٹیبل عبد الحمید کو زبردستی پکڑا اور ان پر لاتوں، مکوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے تشدد کیا۔ پھر عامر مغل اور ساتھی پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے عبد الحمید کو اغوا کر کے لے گئے اور انہیں بڈھانہ لنک روڈ پر بے ہوشی اور زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ عبد الحمید کو زخمی حالت میں پمز اسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں وہ جاں بحق ہوگئے۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں غیر معمولی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں جس کے باعث وہ گزشتہ تین دنوں کے دوران پارٹی کارکنوں کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف فسادات اور تشدد پر اکسانے میں کامیاب رہے۔

حسن ابدال پولیس نے بھی پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سمیت 63 دیگر پارٹی رہنماؤں اور 3 ہزار سے زائد کارکنوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بغاوت، دہشت گردی اور اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

اسلام آباد میں درج مقدمات میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان ’عدالتی احکامات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ جیل مینوئل کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور انہیں باہر کے لوگوں سے بات چیت کرنے اور لوگوں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے کر غیر معمولی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مقدمہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف مسلسل اکسا رہے تھے۔ اس کے علاوہ پارٹی رہنماؤں کو ایک پرتشدد مارچ کی قیادت کرنے کے لیے کہہ رہے تھے، جس کا مقصد افراتفری اور انتشار پھیلانا تھا۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2014 میں دھرنے کی وجہ سے جس طرح چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا، اس طرح شنگھائی تعاون تنظیم کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاق پر دن رات چڑھائی کی جا رہی ہے۔ 2014 میں بھی کئی ماہ ڈی چوک پر دھرنا دیا گیا جو چینی صدر کا دورہ ملتوی کرنے کے لیے تھا۔ 2014 میں دشمن کے جو عزائم تھے یہ اسی کا تسلسل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ان معاملات کو بالکل سنجیدہ نہیں لیا۔ جہاں دھرنے اور جلاؤ گھیراؤ ہوگا وہاں کون آکر سرمایہ کاری کرے گا۔ ملک کی جڑیں کاٹنے کے لیے سازشیں کی جا رہی ہیں اور اس جتھے کو پاکستان کی ترقی منظور نہیں۔ ان کو یہ فکر کھا رہی ہے کہ معیشت سنبھل گئی تو ہمیں کون پوچھے گا۔