سرور غزالی کے سفر نامے

سرور غزالی کے مجموعۂ سفر نامہ'سفر شرط ہے' کے دورانِ مطالعہ فرطِ انبساط میں یہ کلمۂ تحسین منہ سے کود پڑا تھا کہ یہ سفر نامے معلومات افزا ڈاکومنٹری فلم جیسے ہیں، جو وقتِ قرآت لطفِ نظارہ اور حصولِ علم و آگہی سے مسرور و محظوظ کرتے  ہیں۔

رودادِ سفر اور سفر نامے یکساں نہیں ہوتے۔ رودادِ سفر، فقط ایک سرسری بیان ہوتا ہے، جس میں راوی بغیر ترتیب و ضابطہ سفر کی سہولت و صعوبت، ذاتی محسوسات و مشاہدات اور حصولیابی کو بیان کردیتا ہے۔ لیکن ایک سفرنامہ نگار سیّاح کا مطمحِ نظر سیاحت کے ساتھ مقامِ سیاحت کے متعلق زیادہ سے زیادہ دریافت اور معلومات کا حصول اور اُن کا فنّی پیرائے میں اظہار و بیان ہوتا ہے۔ لہٰذا سفرنامہ نگار کا تجسس اور طلبِ جویائی ہمہ وقت اُس سے دو قدم آگے آگے چلتی ہیں۔ وہ منصوبہ بند طریقے سے آغازِ سیاحت کرتا اور وقت و اخراجاتِ سفر کو مانندِ ایندھن استعمال کرتا ہے۔ وہ تھکانِ سفر اور خطروں کی پرواہ کئے بغیر دشوار ترین مقامات تک جا پہنچتا ہے۔ اُس میں کولمبس جیسا جنون اور جرات رندانہ بھی ہوتا ہے۔

دورانِ سفر اُس کی چاہت اور بےقراری قابلِ دید ہوتی ہے۔ وہ اپنے مطالعے اور علم کی بنیاد پر سیاحتی مقامات کو اپنی نظر، نظریے اور مخصوص زاویوں سے بھی دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ وہ اپنے گائڈ اور مقامی اشخاص سے مشہور و مشتہر اور روایتی باتوں کو بھی سنتا اور سیاحتی مقامات کے متعلق تاریخی و تہذیبی اور منسوبہ و مشتہر معلومات و نکات کی حسبِ استطاعت تحقیقات کرتا اور اپنے علم اور مشاہدات کو مع جزئیات ذہن اور نوٹ بُک میں بھی محفوظ کرتا جاتا ہے۔ پھر وہ ماخوذ و اندوختہ معلومات اور اپنے محسوسات و مشاہدات کو فنّی پیرایۂ بیان میں پیش کرتا ہے۔ اُس کا دلکش اندازِ پیشکش قاری کے لئے مانندِ زادِ راہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی سفرنامے کی قرآت کرتے وقت قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ سفرنامے کو پڑھ نہیں رہا بلکہ وہ سیّاح کا ہم سفر اور ناظرِ مقام بھی ہے۔ سرور غزالی کے سفر ناموں کی قرآت کے وقت مجھے ایسا ہی محسوس ہوا اور مجھ پر اِس امر کا اعتراف لازم ہوگیا کہ سرور غزالی ایک منفرد و ممتاز فکشن نگار کے ساتھ ایک منفرد اور صاحبِ طرز سفرنامہ نگار بھی ہیں۔

سرور غزالی نے اِس مجموعے کا انتساب فہیم اسلام انصاری اور خواجہ محمد اعظم کے نام کیا ہے۔ دیباچہ بعنوان 'حرفِ اوّل' میں سرور غزالی نے اعتراف کیا ہے :

"میری یہ کتاب سفرنامہ یا سفری داستان کبھی بھی کتابی صورت میں نہ منظر عام پر آتی اگر فیس بُک پر اسے پڑھنے والے، اس کی شد و مد سے تعریف نہ کرتے، اِسے نہ سراہتے۔ کچھ لوگوں کی فرمائش بھی یہی تھی کہ اس سفری داستان کو مجلد، کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ چنانچہ اس کتاب کا پیش لفظ بھی انہی چاہنے والوں کی تحریر کی صورت میں حاضر ہے۔"

اذکار حسین کا شاملِ مجموعہ مضمون 'سفری داستان میں تازہ کاری کا وُرود' قاری کو قرآت کے لئے اُکساتا ہے۔ موصوف نے سچ کہا ہے :

"غزالی اہم تفریحی مقامات، شہروں اور شہریوں کا تذکرہ دوستانہ انداز میں یوں کرتے چلے جاتے ہیں کہ کہیں بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔ مختلف شہروں، ملکوں اور متعلقہ مقامات کا تذکرہ اور ان کا تاریخی پس منظر اور وہاں کے رسوم و رواج کے بارے میں وہ یوں بتاتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے وہیں کے باشندے ہوں۔ یہ اختصاص سرور غزالی کی سفری داستان کو دیگر سفر ناموں سے الگ کر دیتا ہے۔"

اِس مجموعے میں بالترتیب 'صحرائےناتمام'، 'ڈنمارک اور سویڈن کا سفر'، 'زلٹ ۔۔۔ ایک جزیرہ'، 'وینس کی گلیوں میں'، 'براٹیسلوا کی کہانی'، 'ہائیڈل برگ کی سیر'، 'اوزے ڈوم، مشرقی ساحل (بالٹک سی) کا ایک جزیرہ'، 'سفر نامہ بنگلہ دیش'، 'شمالی امریکہ کا سفر'، 'سانپوں کی ملکہ کی کہانی'، 'جل پریوں کا دیس۔۔۔ بلو ٹوتھ کا موجد'، 'لندن کی زمین دوز ٹرینیں ۔۔۔ جارج پنجم سے مکالمہ'، 'اندلس، غرناطہ اور قرطبہ کی سیر'، 'واسکوڈے گاما کے تعاقب میں'، 'اہرام مصر'، 'دوبئی میں بسنت اور پتنگ، جاب گئی بھاڑ میں'، 'ترکی میں انطالیہ'، 'چار روز ترکی کے شہر کیسری میں' ،'ویانا کی سیر'، 'ڈھاکہ کا سفر اور قصّہ اٹیچی کا'، 'علی وینٹ ٹو لندن۔۔۔'، 'لاہور سے کراچی'، 'ریل کا سفر اور پیش امام کی نوکری' ،'لندن برمنگھم کی سیر اور ادبی سرگرمیاں، لندن اور ایوارڈ'، 'اقبال خورشید، سید قیام الدین، اور مبشرزیدی'، '26 اپریل سے 6 مئی 2016 کے درمیان پاکستان میں'، 'کراچی کے ادیبوں سے ملاقات'، 'لندن میں کنواری سے ملاقات'، 'سفرنامہ پیرس' اور 'ہم نے ڈریسڈن دیکھا' سفر نامے شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ دورانِ سفر کی چند یادگار تصاویر قاری کے لئے وقتِ رخصت عنایت کردہ تحائف ہیں۔

دلکش عنوانات اِن سفرناموں کا ایک اہم اختصاص ہے، جو تاریخی قلعے کے بُرج کی طرح خوش آمدید کی صدا بلند کرتے ہیں۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ سرور غزالی ایک منفرد و ممتاز فکشن نگار اور حساس طبیعت شاعر بھی ہیں۔ موصوف کا مطالعہ وسیع تر اور مشاہدات عمیق ہیں۔ یہ انکشافِ تازہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ طرز سفر نامہ نگار بھی ہیں۔ ان کا یہ مجموعۂ سفر نامہ ذخیرۂ سفرنامہ میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔ موصوف دورانِ سیر و سیاحت نئی نئی دریافت اور مختلف النوع انکشافات پر پوری توجّہ دیتے ہیں۔ لہٰذا ایسے قاری جو ان مقامات کی سیر و سیاحت کرچکے ہوتے ہیں، وہ بھی اُن کی نظر، دریافت اور انکشاف پر داد و تحسین دینے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔ اب آئیے! سرور غزالی کی نظروں سے ڈنمارک اور سویڈن کا سفر کریں :

"انسان اس دنیا میں جب سے آیا ہے یہاں وہاں سفر میں ہے۔ زمین جو اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔ اور ہم اس میں بیٹھے بھی تو سفر کر رہے ہیں۔

ڈنمارک ایک جدید ترقی یافتہ ملک ہے اور جرمنی کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی جرمنی سے سرحدیں بالٹک سمندر سے ملتی ہیں۔ موجودہ ڈنمارک جو کبھی سلطنتِ ڈنمارک کہلاتا تھا اب بس ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کی کل آبادی چھ ملین سے بھی کم ہے یعنی پورے برلن شہر کی آبادی سے بھی کم۔ اسی طرح کوپن ہیگن کی آبادی فقط آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ ڈنمارک میں ایک مربع کلومیٹر میں اوسطاً ایک سو تیس افراد رہتے ہیں۔  ایک وادی میں قلعہ ہے جسے 'موزیڈے قلعے'

کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی قلعے، عالمی جنگ اول کی یادگار کو اب ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ قلعے کی موجودگی کا بظاہر یوں پتہ نہیں چلتا کہ یہ سمندر کی سطح کے نیچے ایک ڈھلان پر، زمین دوز قلعہ ہے جس میں جنگی حفاظتی خندقیں ہیں۔ اس میں تین چھوٹی خندق، چار بم رکھنے کے شیڈ اور ایک نقل و حمل کی نگرانی کا مرکز کے علاوہ اسلحہ خانہ بھی ہے۔ اس قلعے کی تعمیر سن 1913 تا 1916 میں کی گئی تھی۔  سن 1922 تک یہ پوری طرح فعال رہا۔  

ڈنمارک اور کوپن ہیگن کے مابین یہ 'اور یسونڈ برج' انجینئرنگ کا جدید شاہکار ہے۔ اس کا پہلا حصّہ زمین دوز سرنگ ہے جو ساحل سمندر کے نیچے سے گزرتی ہے اور پھر باہر نکل کر سمندر کے سینے پر مونگ دلتا ہوا برج کسی کشادہ شاہراہ کی مانند کھلے سمندر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جڑا ہوا ہے۔ اس برج کا نام بھی سویڈش اور ڈینش زبانوں کو ملا کر چنا گیا ہے۔ اسے ترچھے فولادی رسی کا برج کہا جاتا ہے۔ اس کی پہلی منزل جو بسوں اور کاروں کے لئے مخصوص ہے جبکہ نچلی منزل پر ریل کی بچھی پٹریاں ریل گاڑی کے لئے مختص ہے۔ یہ دنیا کا طویل ترین دوہرا، سڑک اور ریل کی پٹریوں والا دو منزلہ پل ہے۔ ایک ہزار ملین یورو سے بنے پل پر سے آہنی کار کے ذریعہ ایک دفعہ گزرنے کے لئے، ٹول ٹیکس ترپن یورو ہے۔ اس پر سے گزرتی شاہراہ ای 20 کہلاتی ہے۔ اس دو منزلہ پل کی کل لمبائی 7845 میٹر اور چوڑائی 23 اعشاریہ 5 میٹر ہے۔ اس کو سنبھالنے والے ستونوں کی اونچائی دو سو چھ میٹر ہے۔ اِن ستونوں کے نچلے حصے کی پیمائش 9 اعشاریہ چار ضرب 12 اعشاریہ 6 کیلو میٹر ہے۔ اس پر سے روزانہ ستر ہزار گاڑیاں اور دو سو ریل گاڑیاں گزرتی ہیں۔ (صفحہ 26 تا 35 )

میں اِس سفر نامے کے قارئین کے تجسّس کو زائل کرنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا ایک سفر نامے کے کئی اقتباسات کو اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کر دیا۔ فکشن نگار سرور غزالی نے اپنی بہترین جزئیات نگاری، منظر کشی اور دلکش پیرایۂ بیان کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ اِن سفرناموں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں یکسانیت نہیں ہے۔ جب وہ بنگلہ دیش، پاکستان اور ادبی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں تو اندازہ بیان اور موضوعِ گفتگو مختلف ہوجاتا ہے۔ تبصرے کی حد اور حدِ تجاوز بھی مقرر ہے۔ لہٰذا میں اپنی گفتگو کا اختتام کرتا ہوں۔

اِس کا سروق دلکش، کاغذ عمدہ، طباعت دیدہ زیب اور قیمت بھی مناسب ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب پروف کی اغلاط سے پاک ہے۔ اُمید ہے اس مجموعے کی اتنی پذیرائی ہوگی کہ سرور غزالی صاحب کو اس کا دوسرا ایڈیشن (مجلد) منظر عام پر لانا ہوگا۔ میدانِ سفرنامہ کے جانباز سیّاح کو بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

نام کتاب : سفر ہے شرط (مجموعۂ سفرنامہ)

سفرنامہ نگار : سرور غزالی، جرمنی

صفحات : 216

قیمت : تین سو روپئے

ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی

مبصّر : ڈاکٹر شاہد جمیل، پٹنہ (انڈیا)