شگفتہ شاہ ۔ ایک باکمال مترجم
- تحریر انیس احمد
- منگل 08 / اکتوبر / 2024
سب سے پہلے تو شگفتہ شاہ کو مبارکباد کہ ان کا چوتھا ترجمہ اب ہمارے سامنے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی لٹریچر کی کسی کتاب کا برصغیر کی کسی بھی زبان میں ترجمہ ہونا، خود اس کتاب کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہاں کوئی چھوٹی سے چھوٹی زبان بولنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ جبکہ بڑی زبانوں کی تو بات ہی کیا جن میں اردو بھی شامل ہے جس کے بولنے اور سمجھنے والے اب دنیا کے ہر کونے میں آباد ہیں۔
ہماری رائے میں فکشن کا ترجمہ کرنا ، خود فکشن لکھنے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ اس میں آپ کو وہ فری ہینڈ دستیاب نہیں ہوتا جو افسانے یا ناول کے مصنف کو ہوتا ہے، جس کا قلم اپنی مرضی سے الفاظ کی بازیگری دکھاتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس ترجمہ کرنے والا لکھاری، پرکار کی طرح کھچے اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا جو مصنف نے پہلے سے کھینچ دیا ہوتا اور جس کی حدود میں رہتے ہوئے ہی آپ کو قلم چلانا پڑتا ہے۔ گویا مترجم کیلئے لازم ہے کہ وہ ، اوریجنل متن کی تما تر باریکیوں اورجزیات کو اپنے ترجمے میں یوں بیان کر دے جس انداز میں مصنف اسے اپنی زبان میں قارئین تک پہنچانا چاہتا ہے۔
شگفتہ شاہ کے تراجم پڑھتے ہوئے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ وہ اس فن میں اب کمال حاصل کرتی چلی جا رہی ہیں اور اپنے ہر نئے ترجمے میں وہ پہلے سے ایک لیول اوپر دکھائی دیتی ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وکٹوریہ کے مقابلے میں یینی کا ترجمہ کہیں زیادہ سلیس اور رواں ہے۔ مثلا یینی کا یہ اقتباس:
’اگرچہ وہ ابھی بہت سیانی نہیں ہوئی تھی، پھر بھی یہ بات اسے فورا سمجھ آ گئی کہ اب اس کے مرحوم والد ان کے گھر سے رخصت ہو چکے ہیں ۔ ان کی تصویر تو وہیں لٹکی رہی مگر وہ وہاں سے جا چکے تھے۔ تب اس پر یہ عقدہ کھلا کہ کہ موت حققت میں کیا ہوتی ہے۔ دراصل مرنے والے صرف دوسروں کی یادو ں میں زندہ رہتے ہیں، اور دوسرے جب چاہیں ان کی زندگی کی لو گُل کر سکتے ہیں۔ اور انہیں ہمیشہ کیلئے رخصت کر سکتے ہیں‘۔
اب دیکھئے یہ کہیں سے بھی ترجمہ نہیں لگتا ، بلکہ یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ اقتباس شاید اردو کے ہی کسی ناول سے لیا گیا ہے۔ صاف، واضح، مختصر اور کرسپ۔ ایسی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں لیکن ظاہر ہے محدود وقت میں ان سب کا بیان ممکن نہیں۔
مغربی لٹریچر کا اردو میں ترجمہ کرنے والوں کیلئے ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک آزاد اور کھلے معاشرے کی ثقافت کی کچھ مخصوص صفات اور زبان کو اپنے کلچر کے پس منظر میں بیان کرنے کیلئے کن الفاظ کا چناؤ کرے کہ وہ قاری پر بھاری بھی نہ گزرے اور اس بات کی دیانتدارانہ عکاسی بھی ہو جائے جو مصنف اپنے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں اس بات کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ بات کہی بھی اُسی لہجے اور سپرٹ میں جائے جو خود مصنف نے اختیار کیا ہو۔ شگفتہ شاہ اس مشکل مرحلے سے بھی کامیابی سے گزرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یینی ہی سے ایک اقتباس:
’جب گیرٹ نے اُسے اپنی بانہوں میں چھپا لینا چاہا ، تو اُس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ اس نے سوچا کہ وہ اسے بازوؤں میں لے کر پُر سکون کرنا چاہتا ہے اور اسے یہ سب بہت اچھا لگا تھا۔ وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اورجب وہ اس سے وہ سب لے رہی تھی ، جس کی اسے ضرورت تھی، تو بدلے میں اسے بھی تو کچھ دینا تھا‘۔
یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اردو میں ترجمہ کرتے وقت جب کوئی پیچیدہ موڑ آتا ہے اور آپ کچھ مخصوص تفصیلات میں جاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں تو مترجم کو اس مقصد کیلئے کسی دوسری زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ اردو میں اس کے لئے متبادل اور معیاری الفاظ دستیاب نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں اس مقصد کیلئے عام طور سے انگریزی ، عربی یا فارسی الفاظ کی نقاب اوڑھنی پڑتی ہے۔ شگفتہ شاہ نے ایسا بہت کم کیا ہے اور اب وہ ترجمے کے فن میں اس حد تک طاق ہو چکی ہیں کہ اصل متن کا براہ راست ترجمہ کرنے کی بجائے وہ اسے بین السطور ایسے بیان کر دیتی ہیں کہ مضمون کی روانی بھی برقرار رہتی ہے اور بات گھومتی گھامتی پڑھنے والے تک پہنچ بھی جاتی ہے۔۔۔ یعنی کچھ بھی نہ کہا، اور کہہ بھی گئے۔ ایسی شیشہ گری خاصی مشکل ہوتی ہے جس میں پھونک پھونک کر قلم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ اس میں زبان کا نہ صرف معیاری ہونا شرط ہے بلکہ اس بات کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اس میں اِبتِذال کا شائبہ بھی نہ ہو۔
شگفتہ شاہ کا ایک اور کارنامہ ناروے کی لوک کہانیوں کا انتخاب اور ان کے تراجم ہیں۔ انہیں پڑھتے ہوئے کسی اجنبیت کا احساس ہی نہیں ہوتا بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سردیوں کی رات میں آپ بستر میں گھسے اپنی نانی اماں سے کہانیاں سن رہے ہوں۔ ترجمے کی زبان اتنی سادہ اور دلچسپ ہے کہ بچہ ہو یا بڑا ، ایک ہی نشست میں ساری کہانیاں پڑھ لینا چاہے گا۔
شگفتہ شاہ کے تراجم پڑھتے ہوئے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی کتاب کا ترجمہ نہیں بلکہ شاید مصنف نے اپنا ناول لکھا ہی اردو میں ہے۔ اور ہماری رائے میں یہی اچھے ترجمے کی خوبی بھی ہے کہ مترجم اصل متن کے مفہوم پر توجہ دیتے ہوئے اسے ’ اڈیپٹ ‘ کر لیتا ہے یعنی بجائےلفظی ترجمے کے، اصل مفہوم کو اپنی زبان میں بیان کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ شگفتہ شاہ کے تراجم میں یہ بات خاص طور سے دیکھنے کو ملتی ہے کہ ان کی زبان نہ صرف با محاورہ ہے بلکہ وہ اپنی تحریر میں اصل متن کی سپرٹ کو نمایاں کرنے کی سعی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی ان کے حق میں جاتی ہے کہ وہ نہ صرف دونوں زبانوں میں دسترس رکھتی ہیں بلکہ اپنی ثقافت کے ساتھ ہی ساتھ نارویجین تہذیب اور ثقافت سے بھی ان کی گہری شناسائی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے ترجمے میں وہ مقامی تہذیب کو اسی انداز میں بیان کرنے پر قدرت رکھتی ہیں جیسے وہ خود اس کا حصہ ہوں۔ اور اس میں غلط ہے بھی کیا ؟ کوئی مانے یا نہ مانے، برسوں یہاں رہنے کے بعد ہم سب بھی تو اب اسی کلچر کا حصہ بن چکے ہیں ، جن کا ذکر کیے بغیر مستقبل کا مورخ یا مصنف اپنی تصنیف مکمل نہیں کر سکے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ آج کی کہانی جب مستقبل میں لکھی جائے گی تو اس میں ہمارا ذکر بھی ہو گا اور تب کی کوئی شگفتہ شاہ اس کا اردو میں ترجمہ بھی ضرور کرے گی۔
شگفتہ شاہ کی نئی کتاب ابھی ہم تک نہیں پہنچی لیکن یقیناً اس میں بھی ترجمے کا معیار اتنا ہی اعلی ہوگا جیسا کہ پہلی کتابوں کا ہے۔ امید ہے آپ ابھی اور بھی بہت کچھ لکھیں گی، بلکہ ہماری خواہش ہے کہ اتنے ناول ترجمہ کر لینے کے بعد اب آپ خود بھی کوئی ناول لکھ ہی دیں۔
( 5 اکتوبر کو شگفتہ شاہ کے اعزاز میں منعقد ہونی والی ایک نجی تقریب میں پڑھا گیا )