مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی کامیابی

  • بدھ 09 / اکتوبر / 2024

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 10 سال کے طویل عرصے کے بعد کرائے گئے اسمبلی انتخابات میں علاقائی جماعت نیشنل کانفرنس اور کانگریس پارٹی کے اتحاد نے بھاری مینڈیٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت سازی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے اتحاد کے متفقہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔ ان کے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ پہلے ہی انہیں وزیرِ اعلیٰ بنانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ عمر عبداللہ نے انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے فوری بعد بھارتی وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں تاخیر نہ کریں۔

سماجی ویب سائٹ 'ایکس' کے ذریعے وزیرِ اعظم کی طرف سے نیشنل کانفرنس کو انتخابات میں بھاری کامیابی ملنے پر دیے گیے مبارک باد کے پیغام کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ وفاقیت کی حقیقی روح کے عین مطابق جموں و کشمیر کی نئی حکومت اور وفاق کے درمیان تعلقات مثبت اور تعمیری نوعیت کے ہوں گے۔

جموں و کشمیر اسمبلی کے آخری انتخابات 2014 میں ہوئے تھے۔ جون 2018 میں علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد ریاست کے گورنر نے اسمبلی تحلیل کردی تھی اور اسمبلی چھ سال کی مقررہ مدت پوری نہیں کرپائی تھی۔

جموں و کشمیر اسمبلی کی نسشتوں کی کُل تعداد 119 ہے جن میں سے 90 پر براہِ راست ووٹنگ ہوئی تھی۔ پانچ پر نامزدگیاں ہوں گی جب کہ 24 نشستیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیے مختص ہیں۔ اسمبلی کی 90 عام نشستوں کے لیے 900 سے زائد امیدوار میدان میں تھے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اعلان کے مطابق تین مراحل میں کرائے گئے ان انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو 42 اور کانگریس کو چھ نشستیں ملی ہیں۔ ان انتخابات میں انفرادی حیثیت سے کانگریس کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ کانگریس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ کی گئی پری پول سیٹ شیئرنگ کے تحت 32 نشستوں کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے صرف چھ کامیاب ہوئے ہیں۔

جموں میں کانگریس کو صرف ایک سیٹ ملی ہے اور وادیٔ کشمیر کے پانچ حلقوں میں اس کے امیدواروں کی کامیابی کو کانگریس کی اپنی کوشش سے زیادہ نیشنل کانفرنس کی حمایت کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ نئی دہلی میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں خطے کے ہندو اکثریتی علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ البتہ بی جے پی کی جموں و کشمیر شاخ کے صدر رویندر رینہ نشست ہار گئے ہیں۔

بی جے پی کو جموں خطے کی 43 نشستوں میں سے 29 پر کامیابی ملی ہے لیکن یہ مسلم اکثریتی وادیٔ کشمیر میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کرسکی۔ یہاں اس کے بیش تر امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ہیں۔ وادی میں جن آزار امیدواروں کو بی جے پی کی علانیہ یا غیر علانیہ حمایت حاصل تھی وہ بھی بری طرح ہار گئے ہیں۔