مڈل ایسٹ میں بربریت کی برسی
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 09 / اکتوبر / 2024
مڈل ایسٹ میں 7 اکتوبر 2023 کو روا رکھی جانے والی بربریت اور خون ریزی کو ایک برس بیت گیا ہے لیکن بربادی کی داستان اختتام پذیر ہوتی نہیں دکھتی۔ اس ہولوکاسٹ کی پہلی تلخ برسی بشمول پاکستان اور امریکا بہت سے ممالک میں منائی گئی۔
دنیا کا کوئی بھی انسان بلا تمیز مذہب و ملت اور نسل و رنگت انسانی خون ریزی پر دکھی ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خون یہودی کا گرے یا مسلمان کا یا کسی ہندو کا، ہمیں اسے اپنی مذہبی و فرقہ ورانہ تنگناؤں میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ خون کا سرخ رنگ دنیا بھر کے تمام انسانوں میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ سب کے پیاروں کو دکھ درد بھی ایک جیسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں مشرق وسطی کی خون ریزی کے خلاف اس مرتبہ ایوان صدر میں صدر آصف زرداری کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے سوا تقریبا تمام نمایاں و غیر نمایاں پارٹیوں نے شرکت کی ہے۔ سب نے اپنے اپنے نقطہ نظر کا کھل کر اظہار کیا ہے اگرچہ مشترکہ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کرواتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر پوری دنیا میں آواز اٹھانی چاہیے۔
اس سلسلے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ پاکستان اپنا ایک ورکنگ گروپ قائم کرے گا جو پوری دنیا بالخصوص چین اور روس بھی جائے گا۔ بقول وزیراعظم یہ لوگ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں اس کاز کیلیے جائیں گے، محض سیر سپاٹے کے لیے نہیں۔ درویش کی تجویز ہے کہ مڈل ایسٹ پرابلم یا ایشو میں سب سے اہم یا کلیدی کردار عالمی سپر پاور امریکا کا ہے۔ یہ امریکا ہی ہے جو اسرائیل اور تمام عرب ممالک پر سب سے بڑھ کر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جہاں تک روس اور چین کا معاملہ ہے وہ تو پہلے ہی متذکرہ بالا مقاصد کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کی جب بھی بات آتی ہے تو یہ امریکا ہی ہے جو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایسی تمام قراردادوں کو ہمیشہ ویٹو کر دیتا ہے۔
جس طرح کہتے ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ ہمارا یہ سفارتی گروپ کہیں اور جانے کی بجائے امریکا ضرور جائے اور امریکی قیادت کے کان کھولے کہ اپنے لاڈلے اسرائیل کو سمجھاؤ کہ مانا 7 اکتوبر کو حماس کے شدت پسند جنگجوؤں نے آپ کے اتحادی ملک اسرائیل میں گھس کر ناجائز حملہ کیا تھا جس میں 1200 کے قریب اسرائیلی شہری مارے گئے تھے اور ہمارے حماس کے بھائیوں نے 255 اسرائیلی شہریوں کو یرغمالی بناتے ہوئے غزہ لے جانا ضروری سمجھا تھا۔ یہ ان کی بہت بڑی بھول یا غلطی تھی، جس کے رد عمل میں اسرائیل نے بھی غزہ کا تورا بورا بنا کر نہ صرف سارا انفراسٹرکچر تباہ کر ڈالا ہے بلکہ گنہگاروں کے ساتھ دیگر ہزاروں بے گناہ بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بالخصوص بچے اور خواتین، آخر ان بیچاروں کا کیا قصور تھا۔ یوں صورتحال کی یہ سنگینی غزہ سے آگے بڑھتے ہوئے لبنان تک پھیل چکی ہے۔
اس ناروا تباہی کو نہ روکا گیا تو خدشہ ہے کہ جنگی حالات تیسری بین الاقوامی جنگ کی طرف نہ چلے جائیں۔ کیونکہ حال ہی میں ایران نے اسرائیل پر جو 180 کے قریب میزائل داغے ہیں اگرچہ آئرن ڈوم کی جدید ٹیکنالوجی نے اسرائیل کا کوئی جانی نقصان نہیں ہونے دیا لیکن اگر جوابی سلسلہ مزید آگے بڑھا تو سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں بچے گا۔ ایران میں 1979 کا خمینی انقلاب بپا ہونے کے بعد عراقی صدر صدام حسین نے 1981 میں ایران پر حملہ کرتے ہوئے بدترین جنگ مسلط کر دی تھی۔ تب پوری دنیا کے سامنے ایرانی قیادت کا ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ سب سے پہلے اس امر کا تعین کیا جائے کہ حملے میں پہل کس نے کی تھی؟ ’جارح‘ کا تعین کیا جائے۔ ضیا الحق یادت میں او آئی سی کا ایک امن وفد بھی تہران گیا تھا۔ اس کے سامنے بھی خمینی نے یہی مطالبہ رکھا تھا۔ اس پس منظر میں مغربی جمہوری ممالک اور ان کے تجزیہ کار یہی سوال اس تازہ تباہی پر بھی اٹھاتے ہیں کہ 7 اکتوبر کو حملہ کرتے ہوئے بربادی کا آغاز کس نے کیا تھا؟ اور ان کے بے گناہ Non- Combatants شہریوں کو یرغمالی بناتے ہوۓ ساتھ لے گئے تھے، جن میں خواتین اور بزرگ بھی تھے۔
پورا سال گزرنے کے باوجود سوا سو کے قریب آج بھی حماس کے قبضے میں ہیں ۔ اس کے جواب میں ہم لوگ یہی کہتے ہیں کہ کسی کی غلط کاری کے رد عمل میں بھی ایک توازن پیش نظر رہنا چاہیے۔ اب اگر حماس کی قیادت نے ایک عاقبت نااندیش اقدام کیا تھا تو اس کی سزا عام لوگوں کو نہیں ملنی چاہیے۔
ہماری حالیہ متذکرہ بالا آل پارٹیز کانفرنس میں اگرچہ صدر مملکت نے پاکستان کا روایتی موقف پیش کرتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے جو کہ یو این اور او آئی سی کا بھی موقف ہے لیکن کچھ مذہبی جماعتوں نے اس سےاختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کا مطلب تو بلاواسطہ طور پر یہ ہوا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جبکہ حماس کا نعرہ ہےکہ “فرام ریور ٹو سی فلسطین فری”۔ اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب دو ریاستی حل کو مسترد کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں یو این کی قراردادیں کیا کہتی ہیں؟ اور او آئی سی کا موقف کیا ہے؟ ہمیں ادھر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں 1940 کی قرارداد لاہور اور جناح کے بیانات کو بنیاد بنانا چاہیے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، اس کا وجود مٹا دینا چاہیے۔ اس کانفرنس میں سب سے خوبصورت تجویز باچا خان کے پڑپوتے ایمل ولی خان نے پیش کی ہے۔ یہ کہ پاکستان اور افغانستان میں لڑنے والے تمام جہادیوں کو اپنا شوق پورا کرنے کے لیے اسرائیل بھجوا دیا جائے۔
یہاں اس امر پر بھی تنقید ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کانفرنس میں کیوں شریک نہیں ہوئی۔ حالانکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا یہ جمہوری حق ہے کہ وہ اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق کوئی بھی فیصلہ لے۔ اس پر یہودی ایجنٹ جیسے سنگین الزامات، قابل افسوس ہیں۔ مڈل ایسٹ پر سخت گیر موقف اپنانے والوں کی خدمت میں درویش کی گزارش ہے کہ وہ بین الاقوامی حقائق کا کچھ نہ کچھ ادراک حاصل کریں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا
جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو ابراہیم اکارڈ کے تحت باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ اور جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کسی طرح بھی سعودی عرب کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ آج حالات جس رخ پر آگے کو جا رہے ہیں ایسے میں کل کو جب سعودی عرب بھی اسی ابراہیمی اکارڈ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر لے گا، تو ہمارے یہ احباب اس وقت کہاں کھڑے ہوں گے؟ کیا تب آپ لوگ سعودی عرب کی مخالفت میں کھڑے ہو جائیں گے؟ یاد رہے کہ دوستی کے حوالے سے سعودی عرب ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کا محور ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ سعودیہ کی مخالفت کوئی پاکستان دشمن ہی کرے گا۔
براہ کرم اس حقیقت کو جذباتی تقاریر کرنے والے سمجھ لیں۔ بلند پرواز کو بھی چاہیے کہ سستی شہرت کے لیے جنونی تقاریر کی بجائے اگر درست حقائق کی مطابقت میں عقل و شعور پر مبنی گفتگو فرمائیں تو فی الوقت معاشی بربادی اور آئی ایم ایف کی خواری میں ملک و قوم کے لیے یہی بہتر ہوگا۔ ہمارا ملک اردوان یا خامنائی جیسی بڑھکوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہاں چینیوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے جس طرح مارا جا رہا ہے حکومت کو پہلے اس کی فکر ہونی چاہیے۔