پشتون جرگے پر بھی پابندی کی کوشش
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 09 / اکتوبر / 2024
پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگانے اور اس کے متعدد لیڈروں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے بعد حکومت نے پی ٹی ایم کے تحت خیبر پختون خوا کے ضلع خیبر میں پشتون جرگے کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ جرگہ جمعہ11 اکتوبر سے خیبر کے بڑے میدان میں منعقد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ جرگے کی جگہ پر پولیس کے اقدامات اور تشدد کی مختلف کارروائیوں میں چند لوگ جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔
پی ٹی ایم کی طرف سے اس جرگہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی تھیں اور اس میں ہزاروں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ البتہ اس جرگے کو قومی عدالت کہنے کی وجہ سے اب وزیر داخلہ نے سخت الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگرچہ پی ٹی ایم کی طرف سے جرگے کے لیے ’عدالت‘ کی اصطلاح استعمال کرنا غلط ہے لیکن وزیر داخلہ کی طرف سے ایک غلط اصطلاح کی بنیاد پر کسی صوبے کی قبائیلی روایت کو مسترد کرنے کا طریقہ بھی جائز نہیں ہوسکتا۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے البتہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اصرار کیاکہ ’حکومت جرگے کے نام پر کسی بھی صورت متوازی عدالت قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ پی ٹی ایم کے سپورٹر یہاں فساد کرائیں گے تو خاموش ہم بھی نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے جرگہ کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ۔یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے مگر جرگہ قبائل کے عمائدین کا ہوتا ہے اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو لانا جرگہ نہیں ہوتا ۔اسے کچھ اور کہتے ہیں‘۔ یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کو اس جرگے کے حوالے سے کون سی تشویش لاحق ہے۔ حالانکہ متعدد سیاسی جماعتوں کی مقامی شاخوں نے اس جرگے میں شمولیت کا اعلان کررکھا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے متعدد سیاسی جماعتوں کو اس جرگے میں مدعو کیا ہے تاکہ پشتون عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے واضح نقطہ نظر سامنے لایا جاسکے۔
یہ تو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ پی ٹی ایم اس جرگے کے ذریعے اپنی موجودگی کا ثبوت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ یعنی پشتون عوام کے مسائل کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ اس موقع کو اپنی سیاسی پہچان اور قوت کے اظہار کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس امکان کے باوجود یہ ساری کارروائی پر امن ہے اور اس میں کوئی ایسا نکتہ موجود نہیں ہے جسے قومی مفاد یا سلامتی کے خلاف قرار دیا جائے۔ اس کے باوجود حکومت اگر اس جرگے کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور ذبردستی اسے ختم کرانے کے لیے لیڈروں کو وسیع پیمانے پر گرفتار کیا جاتا ہے تو اس سے خیبر پختون خوا میں ناراضی میں اضافہ ہوگا۔ حقوق کے لیے اٹھائی جانے والی آوازیں ایسی ہی غلط حکمت عملی اور غیر ضروری دباؤ کی وجہ سے خود مختاری یا علیحدگی کی تحریک میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس موقع پر حکومت کو سوجھ بوجھ اور سیاسی زیرکی سے کام لینے کی ضرورت تھی۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ان لوگوں کو تنہا نہ چھوڑا جاتا بلکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں کے علاوہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں بھی اپنے نمائیندے اس جرگے میں روانہ کرتیں۔
ہوسکتا ہے کہ پی ٹی ایم نے دیگر سیاسی جماعتوں کو جرگے میں شرکت کے لیے مدعو نہ کیا ہو لیکن سیاسی کام کرنے والی قیادت کے لیے شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کسی گروہ یا تنظیم سے رابطہ کرنا اور اس کے اجتماع میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار غیر معمولی واقعہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح بڑی سیاسی پارٹیاں خیبر پختون خوا کے لوگوں کو اپنی موجودگی ظاہر کرکے، ان کے جائز حقوق کے لئے اظہار یک جہتی کرسکتی تھیں۔ اگر کچھ لوگ ایسے اجتماع کو کسی ریاست دشمن مقصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے تو اسے پرامن طریقے اور سیاسی حکمت عملی سے ناکام بنایا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت خود پی ٹی ایم سے کہہ سکتی تھی کہ اس جرگے میں چونکہ عوامی حقوق اور مسائل کی بات ہوگی، اس لیے حکومت کے نمائیندے بھی مبصر کے طور پر اس میں شامل ہوں گے تاکہ عوامی نمائیندوں کے جذبات کو براہ راست سن سکیں اور اس کے بارے میں حکومت کو رپورٹ کرسکیں۔
یہی نہیں بلکہ ملک میں انتشار اور فساد کی جو کیفیت اس وقت موجود ہے اسے دیکھتے ہوئے تو دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری بنفس نفیس اس جرگے میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے۔ یہ درست ہے کہ اس شرکت سے پشتون جرگے کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا لیکن ا س کے ساتھ ہی پشتون عوام کو یہ پیغام بھی پہنچایا جاتا کہ قومی لیڈر ملک کے دیگر حصوں کی طرح پشتون عوام کے جائز مطالبات کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے ان کے شانہ بہ شانہ ہیں۔ اس طرح یہ جرگہ ایک علاقائی تنظیم کا سیاسی پاور شو بننے کی بجائے قومی یک جہتی کا ایسا پلیٹ فارم بن جاتا جو ملک و قوم کو ساتھ مل کر مسائل حل کرنے کی طرف گامزن کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوتا۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت و بڑی سیاسی پارٹیاں ایسا کوئی شفاف سیاسی اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی باتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے کے لوگوں کی ضرورتوں کو سمجھنے اور انہیں خوش اسلوبی سے حل کرنے کی بنیادی صلاحیت ہی سے محروم ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وزارت داخلہ کے منصب پر فائزہونے کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس کسی بھی سیاسی مطالبے کو پوری طاقت سے کچلنے کا لائسنس ہے۔ وزیر داخلہ اور حکومت کی یہی حکمت عملی ناجائز اور غلط ہے۔ محسن نقوی نے اس حوالے سے منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں چند روز پہلے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مظاہرے کو دبانے یا ناکام بنانے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ’ پی ٹی آئی اور علی امین گنڈاپور کی ڈی چوک پر آمد اور جلسہ یا احتجاج کرنے کی خواہش ادھوری رہ گئی ۔ہم نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ علی امین گنڈا پور کا ڈی چوک آنے کا دعویٰ ادھورا رہ گیا ‘۔ حیرت ہے اسلام آباد کے شہریوں کو تین روز تک محصور رکھنے، موبائل سروس جیسی بنیادی سہولت پر پابندی لگا کر، شہر کی گلیوں بازاروں کو کنٹینروں سے بند کرکے ایک سیاسی احتجاج کا راستہ روکنے کو وزیر داخلہ اپنی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس حقیقت پر شرمندہ ہونا چاہئے کہ گو کہ وہ ایک نام نہاد ’منتخب جمہوری حکومت‘ کے نمائیندے ہیں لیکن اس حکومت کے طریقے آمرانہ اور غیر جمہوری ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی پوری توجہ کراچی میں چینی شہریوں پر خود کش حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کی طرف مبذول ہونی چاہئے تھی۔ اور اسے چینی حکومت کو نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ ملک کو حالت جنگ میں رکھنے کے باوجود کیسے بلوچستان کا ایک دہشت گرد گروہ کراچی جیسے شہر میں ایک المناک حملہ کرنے میں کامیاب ہؤا۔ یہ کامیابی اس گروہ کی حکمت عملی سے زیادہ حکومتی اداروں کی ناکامی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن تو ضرور ملک دشمن عناصر کی پشت پناہی کرتے ہوں گے لیکن ریاست کے اپنے ادارے سکیورٹی فراہم کرنے میں کمزوری کا شکار ہیں۔ کوئی بھی دہشت گرد گروہ حساس اور خفیہ معلومات تک حصول کے بغیر اس قسم کا ہلاکت خیز حملہ نہیں کرسکتا۔ البتہ صدر سے لے کر نچلے درجے تک کے سیاسی ترجمانوں کے بیانات کے بعد اس معاملہ کو بھلا کر خیبر پختون خوا میں ایک تنظیم کا قلع قمع کرکے قومی سلامتی یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا جارہا ہے۔
اس حکمت عملی کا یہ پہلو بھی تشویشناک اور افسوسناک ہے کہ یہ سارے فیصلے ایک سیاسی حکومت کررہی ہے لیکن اس حوالے سے تمام انگلیاں ملک کے سکیورٹی اداروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ اس طرح حکومت ملکی اداروں کو جس بدنامی سے بچانے کی کوشش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، اپنی ناقص پالیسی کی وجہ سے خود ہی انہیں ملوث کرنے اور بدنام کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ یہ فیصلے فوج کی ایما پر ہورہے ہیں۔ اگر فوجی قیادت کی طرف سے ایسا کوئی مشورہ دیا بھی جاتا ہے تو بھی ملک کے وزیر اعظم اور کابینہ کے پاس اتنی بصیرت و صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ فوج کو درست طریقے آزمانے اور مسائل کو طاقت کی بجائے مصالحت و تدبر سے حل کرنے پر آمادہ کرے۔ فوج صرف طاقت کے استعمال کا طریقہ جانتی ہے۔ ملکی آئین نے اسی لیے پالیسی سازی کے تمام اختیارات سیاسی حکومتوں کو عطا کیے ہیں تاکہ تشدد استعمال کرنے سے پہلے سوجھ بوجھ سے معاملات طے کرنے کا راستہ اختیار ہوسکے۔ محسن نقوی کی باتوں اور وزیر اعظم شہباز شریف کی عاقبت نااندیشانہ سیاست کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ جمہوری ادارے یا پارلیمنٹ اپنا آئینی فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ کسی ملک کے آئین کو گزند پہنچانے کا اس سے برا اور کیا طریقہ ہوسکتا ہے۔
محسن نقوی نے پشتون تحفظ موومنٹ پر ریاست کو بدنام کرنے اور بیرون ملک سے فنڈنگ لینے کے متعدد الزامات عائد کیے ہیں لیکن ثبوت کے نام پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے تمام شواہد جلد ہی سامنے لائے جائیں گے۔ الزام کی بنیاد پر ایک تنظیم پر پابندی لگا کر اس کے زیر اہتمام ایک جرگے کو ناکام بنانے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔ کوئی انسان دوست حکومت جرم ثابت کرنے سے پہلے کسی گروہ کو سزا دینے کا اقدام نہیں کرے گی۔ حکومت کے پاس اگر پی ٹی ایم یا کسی دوسری تنظیم یا سیاسی جماعت کے خلاف ملک دشمنی کے ثبوت موجود ہیں تو سیاسی بیانات میں ان کا اعلان کرنے اور پابندیوں سے انہیں ٹھونسنے کی بجائے، بہتر ہوگا کہ کسی عدالتی فورم پر متعلقہ شخص کے خلاف ایسے جرائم کو ثابت کرکے سزا دلوائی جائے۔ پوری تنظیم کو اس کا قصور وار قرار نہ دیا جائے۔
وزیر داخلہ ملک میں پشتون جرگے کی صورت میں متوازی نظام عدل قائم کرنے کو مسترد کررہے ہیں حالانکہ جرگے کو جو بھی کہا جائے، وہ عدالت نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہ خود حکومتی اقدامات کو ملکی عدالتی نظام کے تابع کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ کسی نظام عدل پر اس سے زیادہ بے اعتباری اور کیاہوسکتی ہے۔