وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کردیے

  • جمعرات 10 / اکتوبر / 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 5 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں اور ان معاہدوں کے خاتمے سے عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا۔ قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ بعدازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری معیشت آہستہ آہستہ استحکام کی جانب گامزن ہے اور کل ہی ایک اور اہم معلومات موصول ہوئیں کہ ہماری سہ ماہی ترسیلات زر 8.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو کسی بھی سہ ماہی میں ترسیلات زر کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔

پاکستان کی معیشت اب آگے بڑھ رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اور بھی سفر تیزی سے طے کرنا ہے جس میں ماضی کی طرح چیلنجز آئیں گے لیکن پچھلے سات ماہ میں جس طرح مسائل اور چیلنجز کے باوجود ہم نے بطور ٹیم ان کا سامنا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا آپ کو اجر کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عام آدمی نے مہنگائی، بینک کے پالیسی ریٹ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی شکل میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ کابینہ کے تمام اراکین کے ساتھ پاکستان کے عوام کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے بے پناہ صبر اور تحمل کے ساتھ یہ مشکلات کاٹیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس گرمیوں کے موسم میں عوام کو کچھ ریلیف دینے کے لیے وفاق نے 50ارب روپے کی رقم سے 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ریلیف دیا اور یقیناً اس سے انہیں کچھ سہولت ملی۔ اسی طرح صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دو ماہ کے لیے 50ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کر کے 400 سے 500 یونٹ تک کے صارفین کو دو ماہ کی سہولت دی جس کا انہیں بہت فائدہ پہنچا۔

ان اقدامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کی مشکلات سے ناصرف پوری طرح باخبر ہیں بلکہ ان کو ریلیف دینے کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ کیا جا رہا ہے، یہ عوام کی نمائندہ حکومت ہے اور ہمیں عوام کی مشکلات کا پورا احساس اور شعور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مہنگائی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور پچھلے سال اس ماہ مہنگائی 32 فیصد تھی اور اس سال وہ 6.7 فیصد پر آ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ماضی میں پاکستان کے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے، بجلی چوری، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات سمیت دیگر چیلنجز کی وجہ سے ہم عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکے اور اگر ان سے چھٹکارا پالیں تو ہم عوام کو بجلی میں سبسڈیز دے سکیں گے۔ عوام کو بجا طور پر شکوہ ہے کہ گزرے سالوں میں جو آئی پی پیز سے معاہدے ہوئے وہ ناصرف اپنے منافع کما چکے ہیں اور سرمایہ کاری واپس حاصل کر چکے ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ منافع بھی حاصل کر چکے ہیں۔ تو اب عوام کو کیا مل رہا ہے، یہ عام آدمی کا بالکل جائز سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ آئی پی پیز نے باہمی رضامندی اور ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے آئی پی پیز سے بجلی کی خریداری کے معاہدے مکمل طور پر ختم کر دیے ہیں۔ ان کے آئی پی پیز کے سابقہ واجبات کو ادا کیا جائے گا اور اس میں سود شامل نہیں ہو گا۔