نوبل امن انعام ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی جاپانی تنظیم کو ملا
ناروے کی نوبل کمیٹی نے سال رواں کا نوبل امن انعام ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نیہون ہدانکیو کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنظیم جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں امریکی ایٹمی حملوں میں زندہ بچ جانے والوں نے قائم کی تھی۔
’نیہون ہیدانکیو‘ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور اس کے استعمال کے خلاف سرگرم ہے۔ نارویجین نوبیل کمیٹی کے سربراہ جورگن واٹن فریڈنس نے جمعے کو امن کے نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی حملوں میں زندہ بچ جانے والوں نے اپنی نکالیف اور دردناک یادوں کے باوجود دنیا کو اُمید دی اور امن کے لیے کام کیا۔
تنظیم کے سربراہ نے امن کا نوبل انعام ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ یقین ہے۔ واضح رہے کہ نوبل کمیٹی ماضی میں بھی جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے کوششوں پر امن کا نوبل انعام دے چکی ہے۔ 2017 میں آسٹریلیا جب کہ 1995 میں کینیڈا کی غیر سرکاری تنظیمیں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے کوششوں پر نوبل انعام لے چکی ہیں۔
جاپان کی تتظیم کو امن کا نوبل انعام ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان تنازعات کا شکار ہیں۔
گزشتہ برس امن کا نوبل انعام ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نرگس محمدی کو دیا گیا تھا۔ پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو 2014 میں تعلیم کے فروغ کے لیے کوششوں پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔
نوبل انعام حاصل کرنے والوں کو لگ بھگ 10 لاکھ ڈالر کی رقم بھی دی جاتی ہے۔ یہ رقم انعام کا آغاز کرنے والے سویڈش موجد الفریڈ نوبیل کے ترکے سے دی جاتی ہے۔ اس سے قبل منگل کو فزکس، بدھ کو کیمسٹری اور جمعرات کو ادب کے نوبل انعامات کا بھی اعلان ہوچکا ہے۔