پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاج کی کال اتحادی حکومت کے رہنماؤں کا اظہار مذمت
حکومتی وزرا اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف دشمن کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ سب کچھ پلاننگ کے تحت ریاست کو کمزور کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس کے موقع پرکسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ جیل میں بیٹھا ایک شخص ملک کے خلاف سازش کررہا ہے۔ پی ٹی آئی والے ملکی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کرکے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔
ان کی سوچ بس یہ ہے بانی پی ٹی آئی نہیں تو کچھ نہیں، ایک صوبے کی تمام مشینری اور وسائل استعمال کیے گئے۔ ایک ہفتہ پہلے بھی اس جماعت نے اسلام آباد پر یلغار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ملک میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرایا۔ احتجاج کی کال پی ٹی آئی کی ملک دشمنی کا ثبوت ہے۔ ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے۔ پی ٹی آئی انتشار پھیلانے سے باز نہیں آرہی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کو افسوسناک اور ملک کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا۔ انہوں نے تحریک انصاف کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیتے ہوئے پیغام دیا کہ اس وقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہی ہیں۔ ملک کی خاطر اکٹھے ہوکر آگے بڑھنا چاہیے۔
پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے 15 اکتوبر کے دن احتجاج کی کال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دن ڈی چوک پر احتجاج سے تحریک انصاف کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اعلیٰ سطحی وفود اور عالمی میڈیا کی موجودگی میں اسلام آباد میں تماشہ لگانا قابل مذمت ہے۔ تحریک انصاف جتھوں اور انتشار کی سیاست سے ملکی مفادات پر حملہ کر رہی ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ دنیا پاکستان کے مثبت اشاریوں کی تعریف کررہی ہے۔ ایس سی او کانفرنس پاکستان کیلئے بڑا اعزاز ہے اور کامیابی ہے ۔ ایس سی او کے ذریعے تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں، 9 ممالک کے سربراہان پاکستان آئیں گے۔ پاکستان 15 اور 16 اکتوبر کو ایس سی او کی میزبانی کرےگا لیکن تحریک انتشار نے 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال دے دی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف احتجاج کے نام پر دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، سب کچھ پلاننگ کے تحت ریاست کو کمزور کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی نے پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کیلئے آئی ایم ایف کو خط لکھا تھا۔ وہ کامیاب نہیں ہوا تو اداروں پر حملے شروع کردیے، پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال دشمن سوچ کی عکاس ہے۔
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی نہیں بلکہ ملک دشمن جماعت ہے۔ واضح کردیا کہ ایس سی او کانفرنس کے موقعے پر کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے، احتجاج کرنے والوں کا بندوبست کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں گفت و شنید سے بات آگے بڑھتی ہے۔ کون سی ایسی چیز ہے جس کا حل نہیں، صرف تنقید سے معاملات حل نہیں ہوں گے، اپنی تجاویز دیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ایس سی او کانفرنس خوش اسلوبی سے آگے چلے گی۔ شرپسند عناصر کو رخنہ ڈالنے کا موقع نہیں ملے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے، انہوں نے اپنے مطالبات پورے کرنے کے لئے ہمیشہ غیر جمہوری اور غیر مہذب طریقہ اپنایا۔ ہر جماعت نے جدوجہد کی اور کرنی بھی چاہیے لیکن پی ٹی آئی کی لغت میں اتفاق رائے، افہام و تفہیم اور جمہوری روایات کی بات نہیں ہے۔ اپوزیشن اور اقتدار میں پی ٹی آئی کا کردار دیکھ لیں، نفرت، بغض، کینہ پروری اور بہتان ان کی سیاست کا محور ہے۔
متحدہ قومی مومنٹ ( ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی تینوں جماعتیں ضرورت کے تحت اصلاحتی ایجنڈے کی مخالفت یا حمایت کرتی ہیں۔ پی ٹی آئی عدالتی اصلاحت سے متعلق ماضی میں حق میں تھی، آج مخالفت اس لیے کررہی کہ سیاسی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 15 اکتوبر کو ایک بار پھر اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے حکومت پر اوچھے ہتھکنڈوں کے استعمال کاالزام لگادیا۔ پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے ورنہ 15 اکتوبر کو ڈی چوک پر دمادم مست قلندر ہوگا۔ شیخ وقاص اکرم نے اڈیالہ جیل میں بانی سے ملاقات کی اجازت ملنے پر احتجاج موخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔