ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ہماری معصوم بچیاں؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 12 / اکتوبر / 2024
ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک انڈین شہری ہیں۔ ان کی پیدائش 18 اکتوبر 1965 کو ممبئی میں ایک مذہبی الذہن دودھ فروش عبدالکریم نائیک کے گھر ہوئی۔ انتہائی غربت کے باوجود وہ اپنی محنت اور لگن سے ٹوپی والا میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
ابتداً زبان میں لکنت تھی لیکن اس ہکلاہٹ کے باوجود انہوں نے انگلش اردو خطابت میں اپنا لوہا منوایا۔ تقابل ادیان ان کا پسندیدہ موضوع ہے، اس پس منظر میں وہ جنوبی افریقہ کے مشہور مناظرہ بار شیخ احمد دیدات اور پاکستانی معروف سکالر ڈاکٹر اسرار احمد سے بے حد متاثر ہیں، 1987 میں انہیں جہاں شیخ احمد دیدات کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، وہیں 1991 میں انہوں نے پاکستانی یاترا کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد سے فیض یابی حاصل کی جو کہ خود بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ اسلام کے داعی خطیب اور مبلغ تھے۔ انہوں نے ہی ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ہدایت کی تھی کہ ڈاکٹری اور مبلغی دونوں اکٹھی نہیں چل سکتیں۔
درویش کی ڈاکٹر ذاکر نائیک سے آگاہی 1991 سے ہی ہے۔ تب ناچیز غامدی صاحب کی قربت میں تھا اور بعد ازاں ڈاکٹر اسرار احمد سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ ڈاکٹر ذاکر کی شہرت 90 کی دہائی میں پھیلنا شروع ہو گئی تھی جب انہوں نے تقابل ادیان پر لیکچرز شروع کر دیے۔ جن کی ابتدا ساؤتھ افریقہ میں دیدات کی موجودگی میں ہوئی۔ دیدات نے ہی انہیں دیدات پلس کہا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنا پیس ٹی وی بھی بنالیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنی کئی خوبیوں کے باوجود کبھی ایک دن کے لیے بھی دیدات کی طرح درویش کے پسندیدہ نہیں رہے۔ انہیں ہمیشہ ایک شعبدہ باز رٹو ہی خیال کرتا رہا کیونکہ فکری طور پر وہ راسخ العقیدگی میں ڈاکٹر اسرار احمد سے بھی چار ہاتھ آگے، اپنے استاد شیخ احمد دیدات جیسے متشدد مناظر دکھائی دیے۔
درویش کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب ان کی بھرپور شہرت کا طوطی انڈیا سے آگے تک پھیلنا شروع ہوا تو مذہبی شعور سے نابلد لیکن عقیدت میں ڈوبے ہوئے نوجوان احباب اکثر ان کا ریفرنس دیتے ہوئے استفسار کرتے تو درویش کا جو جواب ہوتا وہ بیشتر سننے والوں کی پسند پر پورا نہ اترتا۔ ایک دفعہ تو شامی صاحب نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ شاید آج بھی ہمارے کئی احباب روز اول قائم ہونے والی، ان کے نظریات پر میری تنقیدی سوچ کو پسند نہ کریں۔ صاف لکھا تو ہمارے اخبار والے چھپنے نہیں دیں گے، اس لیے اس نوع کا آرٹیکل کسی وقت الگ سے تحریر کیا جاۓ گا۔ سچائی تو یہ ہے کہ ہماری آج کی دنیا میں شہرت و مقبولیت کو ہی قابلیت کا ثبوت اور سچائی کا معیارمانا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں طویل سرکاری دورے پر ان کی پاکستان یاترا کا پروگرام سامنے آیا تو جہاں ایک نوع کی تشویش ہوئی وہیں اس شر سے خیر کا ایک پہلو بھی ذہن میں آیا۔ تشویش اس بات کی کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت پہلے ہی زوروں پر ہے، لبرل سیکولر چھوڑ عام انسانوں کا یہاں جینا وبال جان ہوا پڑا ہے۔ بات بے بات خوف اور دھمکیاں ہیں سچ بولنا اور لکھنا مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر ذاکر کی آمد پر پہلے سے موجود شدت پسندی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ درویش بھڑکاؤ بھاشنوں کو تیلیاں لگانا ہی سمجھتا ہے۔
ان تحفظات کے باوجود خیر کا پہلو یہ لگا کہ ہمارا پاکستانی سماج اس وقت روایتی مذہبی حوالوں سے جس بدترین فکری جمود کا شکار ہے، ایسے میں اگر کوئی سر پھرا بھاری پتھر یا روڑے پھینکے گا تو گھٹن زدہ سماج میں کچھ نہ کچھ ہلچل یا ارتعاش ضرور آئے گا۔ کسی بھی بگڑے یا متشدد سماج میں تخریب سے ہی تعمیر کی گنجائش نکا لی جا سکتی ہے۔ آج الحمداللہ دونوں باتیں درست ثابت ہو رہی ہیں۔ بہت لوگ یہ استدلال فرما رہے ہیں کہ اے طاقتورو! اس ملک میں پہلے ملاؤں کی کیا کمی تھی جو تم نے ایک سخت گیر راسخ فکر یا سلفی العقیدہ داعی الی الخیر مبلغ مناظرخطیب کو درآمد کر لیا۔ کسی سائنسدان یا فلاسفر کو بلا لیتے، مذہبیت سے پہلے ہی ہماری پاکستانی قوم بدہضمی کا شکار ہے۔ تم ان بیچاروں کو اسی کی خوراکوں پر خوراکیں کیوں کھلائے جا رہے ہو؟
کہاوت ہے کہ دور کے ڈھول سہانے، اب وہی ڈھول اتنے قریب آکر بج رہا ہے تو نوجوان پوچھ رہے ہیں کہ اگر انڈیا کا یہی تحفہ منگوانا تھا تو پھر کیا بہتر نہ ہوتا کہ ممبئی کی جادونگری سے فلمی موسیقی کا تڑکا لگوا یا منگوا لیا جاتا۔ لیکن کتنا اچھا ہوا ہمارے جو دوست پہلے ان کےلیکچرز پر عش عش کر رہے تھے، انہیں بطور ریفرنسز پیش کرتے تھے، آج ان کا سہانا خواب یا نشہ تو ٹوٹا۔ ان کی آنکھیں تو کھلیں بلکہ براستہ نائک ان کھلنائیکوں پر قدامت پسندی اور راسخ العقیدگی کی بہت سی اصلیتیں واضح ہوئیں۔ جنہیں شک ہے وہ بے شک ان کی اب تک ہونے والی تمام تقاریر اور ان تقاریر میں اختیار کیے گئے سخت گیر لب و لہجے کو ایک مرتبہ پھر ملاحظہ فرما لیں۔ بالخصوص خواتین کے حوالے سے الہیات کے تصورات کھل کر سامنے آئے۔ یہ ناچیز ڈاکٹر صاحب کے افکار عالیہ پر قطعی تنقید نہیں کر رہا۔ ہیچمدان کی کیا مجال:
فقیہہ شہر کی تحقیر کیا مجال میری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
کالم لکھنے سے قبل درویش یہ سوچ رہا تھا کہ کچھ بھی نہ لکھوں صرف حضرت کے خیالات وملفوظات جن کا اظہار وہ اس اکتوبر کے مقدس مہینے میں جگہ بہ جگہ فرما رہے ہیں، محض ان کے یہ فرمودات ہی تحریر کر دوں تو سمجھنے والے سب کچھ سمجھ جائیں گے۔ ناچیز کا مدعا بھی پورا ہو جائے گا۔ اردومحاورہ کے عین مطابق سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی کو خراش تک نہیں آئے گی۔ اس سلسلے میں شروع ہو جاتے ہیں حضرت کے اولین خطاب سے جس میں آپ نے ملائشیا سے اپنے سفر وسیلہ ظفر کی روداد بیان کرتے ہوئے بڑے دکھ کے ساتھ فرمایا کہ پی آئی اے والوں نے اس اتنے نامی گرامی سٹیٹ گیسٹ کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا۔ ہزار کلوگرام کے اضافی وزن کا کرایہ معاف کرنے کی بجائے وصول کر لیا۔ تم پاکستانیوں سے انڈین لوگ کتنے اچھے ہیں۔ انڈیا کے ہندو مجھ سے کتنا اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ میں جب وہاں کہیں جاتا ہوں تو ہزار دو ہزار کا وزن مجھے ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ مودی غلط ہے انڈیا غلط نہیں ہے۔ انڈیا میں ہندو مجھے دیکھے گا تو کہے گا ڈاکٹر ذاکر نائیک جو کہے گا سچ کہے گا۔ سچ کے سوا کچھ نہیں کہے گا۔ جو عزت مجھے انڈیا میں ملتی ہے، وہ یہاں نہیں۔ جب میں اپنے دعوتی کام کے لیے نکلتا ہوں تو ہندو لوگ میرے پاؤں چھوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں ایسے نہ کرو وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھگوان کا آدمی ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک! یہی چیز تو ہم لبرل لوگ آپ کو سمجھاتے ہیں کہ ہندوؤں کا دل اور سینہ صدیوں سے اتنا کشادہ اور وسیع رہا ہے کہ ہم مسلمانوں کو انہیں سکھانے کی بجائے ان سے سیکھنا چاہئے۔ ہم لوگ آج اکیسویں صدی کے انسانوں کو کیا سکھلا رہے ہیں؟ یہ کہ تم سب جھوٹے باطل کافر اور بے دین لوگ ہو، تم سب دوزخی اور جہنمی لوگ ہو، دنیا میں صرف ہم دیندار لوگ ہیں صرف ہم مسلمان بہشتی یا جنتی مخلوق ہیں۔ امریکا میں رہنے سے پاکستان میں رہنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہاں سے جنت کا راستہ زیادہ آسان اور نزدیک ہے۔ آج جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے یہ کسی اور کا نہیں اللہ کا پلان ہے۔ وہ چاہے تو صبح تک اسرائیل نہیں رہے گا”۔
بہت خوب ڈاکٹر نائیک اس طرح ہمارے لوگ جو اٹھتے بیٹھتے امریکا پر غصہ نکالتے رہتے ہیں، اب ہم انہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ غصہ تھوک دو یا پھر اس پر کرو جس کا یہ پلان ہے۔ نہیں کر سکتے تو سب کچھ اطمینان کے ساتھ سہو۔ جب آپ نے یہ فتویٰ جاری فرما دیا ہے کہ یوٹیوب کی آمدن حرام ہے تو پھر اپنے سارے چاہنے والے اسلامی بھائیوں سے کہو کر اس حرام خوری کو چھوڑ دو۔ دیگر باتیں تو خیر ہوتی رہیں گی قبلہ ذاکر نائیک نے ہماری نصف انسانی آبادی یعنی خواتین کے ساتھ جو حقارت آمیز رویہ پہلے دن سے اپنایا ہوا ہے، اس کے خلاف ہمارے باشعور میڈیا کو ہر سطح پر ضرور آواز اٹھانی چاہئے۔ دریدہ دہنی اور جسارت
کی اخیر ہے کہ دین اسلام کا اتنا بڑا داعی ومبلغ بھرے جلسوں میں یہ کہتا سنائی دے رہا تھا کہ “جن عورتوں کو کنوارے مرد نہیں ملتے وہ شادی شدہ مردوں کی دوسری اور تیسری بیویاں بن جائیں۔ جو عورت ایسے نہیں کرے گی وہ بازاری عورت بن جائے گی جس کا متبادل لفظ ہے “ پبلک پراپرٹی”۔ اور اس سے اچھا لفظ میرے پاس نہیں ہے”۔
استغفِرُاللہ اس وقت درویش کے ذہن میں کتنی معصوم خواتین گھوم گئی ہیں جنہوں نے ساری زندگی مدر ٹریسا اور لتا دیوی کی طرح اوروں کی خدمت کرتے گزار دی ہے۔ اور یہ جنونی انہیں کتنے گھٹیا خطابات دے رہا ہے، کاش یہ لوگ ایدھی مرحوم سے ہی کچھ سیکھ لیتے۔
جو کچھ اس حضرت نے سویٹ ہوم کی معصوم یتیم بچیوں کے متعلق کیا اور کہا، کوئی بھی حساس انسان اس پر دکھ اور کرب محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جی چاہ رہا ہے کہ وہ سارے الفاظ اس کی زبان میں یہاں سناؤں اور بتاؤں، شیلڈز دیتے ہوئے چھونے کا گندا کنسپٹ کیا دینی علوم و مدارس میں پڑھنے والوں کو زیب دیتا ہے؟ ہاں شاید صرف انہی کو زیب دیتا ہے اور پھر یہ کہ وہ لیڈی اینکر میری طرف چڑھ رہی تھی میں پیچھے ہٹ رہا تھا۔ اور پھر جو سلوک اس پختون بچی کے ساتھ کراچی میں کیا گیا جو اپنے کھوکھلے اسلامی سماج کی سب سے بڑی سچائی اور منافقت بیان کر رہی تھی۔ آپ شاباش دینے کی بجائےاسے کہہ رہے تھے میری بہن معافی مانگو، کس بات کی معافی؟ یہ کہ تم نے سوسائٹی کی ریاکاری پر سوال کیوں اٹھایا؟
چھوٹی بچیوں کو بہن کہتے ہوئےکسی بھی بزرگ کو تھوڑی سی شرم آنی چاہئے۔ آپ لوگ انہیں اپنی بیٹیاں کیوں نہیں کہتے؟ اس سے بڑی عمر کی تو آپ کی اپنی اولادیں ہیں۔ انسان کو اپنی سفید داڑھی کا ہی کچھ خیال کرنا چاہیے۔ اور پھر کوئی بھی انسان جب کسی کو اپنی بہن یا بیٹی کہتا ہے تو یہ محض کہنا نہیں ہوتا، اگر وہ انسان کا بچہ ہے تو جس کو بہن بیٹی کہہ دیا پھر عمر بھر اسےاسی نظر سے دیکھے گا۔ اگر منہ بولی ماں ہو سکتی ہے، آقا کی بیویوں کے حوالے سے مولوی لوگ اس پر بہت زور دیتے ہیں تو منہ بولی بہن یا بیٹی کیوں نہیں ہو سکتی؟
البتہ اگر کسی کے ذہن میں خرابی ہو تو پھر سگے رشتوں کا بھی کوئی احترام نہیں رہتا۔ ڈاکٹر صاحب ان ایشوز پر اس ناچیز کی آپ کے استاد ڈاکٹر اسرار احمد کے ساتھ بھی خوب بحثیں ہو چکی ہیں۔ براہ کرم آپ ان تنگناؤں سے نکلیں دنیا کے کتنے ممالک میں اسی شدت پسندی کی وجہ سے آپ پر پابندیاں لگ چکی ہیں۔ اس حد تک نہ جائیں کہ یہاں بلانے والے بھی پچھتائیں اور آئندہ ایسی جسارت سے توبہ کریں۔