رتن ٹاٹا۔۔۔ ٹاٹا گڈ بائی ہو تو ایسا

بھارت اور دنیا بھر میں معروف بزنس مین رتن ٹاٹا رواں ہفتے 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین اور چیئرمین ایمرائٹس تھے۔ ٹاٹا گروپ بھارت کے چند پرانے بزنس گروپس میں سے ایک ہے جس کا کاروباری دورانیہ 158 سال ہو چکا بے ۔گزشتہ 30 سالوں میں حیرت انگیز ترقی سے ملک کے اندر اور بیرون ملک ٹاٹا گروپ نے دنیا میں اپنی شناخت بنائی اور منوائی۔ یہی وجہ ہے کہ رتن ٹاٹا کی وفات پر بھارت میں وزیر اعظم اور کاروباری حلقوں سے لے کر عام آدمی نے بھارتی سپوت کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اور خراج عقیدت پیش کیوں نہ کیا جاتا؟ اپنےڈیڑھ سو سالہ قیام کے دوران ٹاٹا گروپ نے بہت سی اونچ نیچ ،کامیابیاں، ناکامیاں ،قضیے اور جھگڑے بھی دیکھے۔ ڈیڑھ سو سال کے دوران دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں رونما نہ ہوئیں، ان انقلابی تبدیلیوں سے نمٹتے ہوئے گروپ نے نہ صرف اپنے اپ کو قائم رکھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز ترقی کی۔ ٹاٹا گروپ کے بھارتی معیشت میں کردار کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ گروپ کا کل ریونیو 165 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ٹاٹا گروپ کمپنیز کی ویلیویشن کا اندازہ 365 ارب ڈالر ہے ۔گروپ میں 10 لاکھ سے زائد لوگ کام کرتے ہیں۔ گزشتہ 30 سالوں میں ٹاٹا گروپ نے اپنے کاروبار کو دنیا بھر میں جس انداز میں پھیلایا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے مجموعی ریونیو میں 60 فیصد بھارت کے علاوہ دیگر عالمی ممالک سے حاصل ہوتا ہے۔

رتن ٹاٹا 1937 میں سورت شہر میں پیدا ہوئے ۔ امریکہ کی معروف کورنیل یونیورسٹی سے آرکیٹیکچر میں تعلیم حاصل کی۔ واپس آئے تو 1962 میں ٹاٹا گروپ کی ایک کمپنی میں پہلے بطور ٹرینی اور بعد ازاں اسسٹنٹ کے طور پہ کچھ عرصہ کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف گروپ کمپنیز میں کام کیا ۔نام کے ساتھ ٹاٹا کی نسبت اپنی جگہ لیکن انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، ویژن ، دھیمے اور بااعتماد انداز سے اپنی منفرد شناخت بنائی۔ 70/ 80 کی دہائی کے دوران بھارت میں کاروبار ریگولیشنز کے جال میں شدید الجھا رہا۔ ان حالات میں گروپ کے پھیلاؤ اور سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ اور نئے سیکٹرز میں حصہ لینا ہمیشہ ایک چیلنج رہا۔ رتن ٹاٹا نے اس مشکل کاروباری ماحول میں گروپ کی سینئر مینجمنٹ تک ترقی کی اور پھر وہ تاریخی لمحہ آیا جب 60 سال تک گروپ چیئرمین جے آر ڈی ٹاٹا کو اپنے جانشین کا فیصلہ کرنا تھا ۔گروپ میں کم از کم چار لوگ انتہائی باصلاحیت اور عمدہ کارکردگی کی بنا پر امیدوار تھے۔ تاہم جے آر ڈی ٹاٹا نے رتن ٹاٹا کا انتخاب کیا۔ وقت نے دیکھا کہ رتن ٹاٹا نے اپنے انتخاب کو بہترین انداز میں صحیح ثابت کر دیا۔ 

رتن ٹاٹا نے 1991 میں ٹاٹا گروپ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو گروپ کا سالانہ ریونیو چار ارب ڈالر تھا۔ 2012 میں چیئرمین شپ سے رتن ٹاٹا کے ریٹائر ہونے پر گروپ کا ریونیو ایک سو ارب ڈالر کراس کر چکا تھا ۔گزشتہ سال ٹاٹا گروپ کا سالانہ ریوینیو 165 ارب ڈالر تھا۔ بطور چیئرمین رتن ٹاٹا نے گروپ کی کمان سنبھالی تو جے آر ڈی ٹاٹا کی 60 سالہ گورننس کے بعد اپنا مقام بنانا اسان نہ تھا ۔ 90 کی دہائی سے بھارت میں ریفارمز کا عہد شروع ہوا جس کے نتیجے میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں بھارت کے نجی سیکٹر نے حیرت انگیز ترقی کی یہاں تک کہ گزشتہ کئی سالوں سے بھارت دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔

رتن ٹاٹا نے عہدہ سنبھالا تو گروپ میں بہت حد تک خود مختار ڈویژنز اپنے اپنے فیلڈز میں کام کرتے تھے۔ تاہم رتن ٹاٹا نے خود مختار اور نیم خود مختار گورننس سٹرکچر کو ایک مربوط مرکزی نظم میں تبدیل کیا ۔ اس کے ساتھ ہی سیمنٹ ٹیکسٹائلز اور فارما سیوٹیکل سمیت بہت سے کاروبار بیچ دیے جو نقصان کا باعث تھے یا ان میں گروتھ کے چانسز بہت کم تھے۔ سافٹ ویئر اور سٹیل بزنس کے ساتھ ساتھ نئے بزنسز کی طرف فوکس ہوا جن میں ٹیلی کمیونیکیشنز، کار سازی، ایوی ایشن, انشورنس، فنانس اور ریٹیل انڈسٹریز شامل ہیں۔ بھارت سے باہر کئی بڑے کاروبار خریدے جس کے نتیجے میں ٹاٹا گروپ کا نام دنیا کے تمام بڑے ممالک اور براعظموں میں نمایاں ہوا۔

رتن ٹاٹا کی ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ان کی ناکامیاں بھی قابل ذکر ہیں کہ کامیابی اور ناکامی دھوپ چھاؤں کا لازمی کھیل ہے ۔ کارسازی میں قدم رکھا تو کار ڈویژن کو 90 کی دہائی کے وسط میں پانچ سو کروڑ کا نقصان ہوا ۔ شیر ہولڈرز نے خاصا ہنگامہ برپا کیا جس پر رتن ٹاٹا نے مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کر دی۔ 2005 میں رتن ٹاٹا نے دنیا کی سستی ترین کار بنانے کا اعلان کیا ۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر یہ پروجیکٹ لانچ ہونے کے بعد کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا اور اپنے پیچھے ٹھیک ٹھاک نقصان چھوڑ گیا ۔ 2001 میں ایک گروپ کمپنی میں 500 کروڑ کا فراڈ سامنے آیا جو ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ 2011 میں ایک پرانے کاروباری رفیق کے بیٹے کو اپنا جاننشین بنایا، تاہم چار سال بعد اسے بزور برخاست کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے جانشین مستری اور ان میں ایک طویل قانونی جنگ کا اغاز ہوا ۔ اس سے قبل 2008 کے لگ بھگ ٹو جی لائسنس کے سلسلے میں انہیں ایک پبلک ریلیشن فرم کی ریکارڈ کی گئی ٹیپس میں مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے ملوث بتایا گیا ۔ رتن ٹاٹا کی شخصیت ، مزاج میں دھیما پن اور خود اعتمادی ہمیشہ ان ناکامیوں اور قضیوں سے موثر طریقے سے نمٹنے میں کام ائی۔

گزشتہ 30 سالوں کے دوران ایشیا کے بہت سے ممالک میں نجی سرمایہ کاروں نے ملکی معیشت کا رخ بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جنوبی کوریا میں بڑے گروپس، ہانگ کانگ میں لی کا شنگ سمیت انڈونیشیا ،سنگاپور اور ملائشیا میں ایسے درجنوں سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ملک کی معیشت کی کایا پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان اس اعتبار سے خسارے میں رہا ۔ انٹرپنیورشپ یا کاروباری ادارے قائم کرنے کی صلاحیت خداداد بھی ہے اور بہت حد تک اس کے لئے حکومتی پالیسیاں، کاروبار دوست ماحول ، موافق حالات اور دیگر اسباب بھی اہم ہوتے ہیں ۔

حکومت پچھلے کچھ عرصے سے بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے ہر جتن کر رہی ہے۔ انفرادی سرمایہ کاروں سے مفاہمتی دستاویزات پر دستخط اپنی جگہ مگر سرمایہ کاری کا ریلا دور دور تک نظر نہیں آتا ۔ حکومت اب دوسری حکومتوں سے سرمایہ کاری کے لیے ملتجی ہے۔ یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن خطے اور دنیا کی مثالیں واضح ہیں کہ مقامی انٹرپنیورشپ ، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے فروغ کے بغیر سرمایہ کاری کا خواب ادھورا رہتا یے۔ سمال اور میڈیم انٹرپرائزز پھلیں پھولیں تو کئی رتن ٹاٹا پیدا ہو سکتے ہیں۔