لبنان میں بین الاقوامی امن فورس پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

  • اتوار 13 / اکتوبر / 2024

امریکہ کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کو اپے اسرائیلی ہم منصب یوو گیلنٹ کو لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس پر اسرائیل کے حملوں کی رپورٹس سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے میں لائیڈ آسٹن نے لبنان میں تعینات بین الاقوامی امن فورس کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی امن فورس کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

اس دوران لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس میں شامل 40 ممالک نے فورس پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ ان ممالک کے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امن مشن پر حملے فوری طور پر روکے جائیں۔ مشترکہ بیان جاری کرنے والے ممالک میں پولینڈ، انڈونیشیا، اٹلی اور بھارت بھی شامل ہیں۔

واضح رہےجنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے حملوں میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی تنصیبات بھی زد میں آئی ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان امن فورس پر ہونے والے حملون میں اب تک اس کے کم از کم پانچ اہل کار زخمی ہوچکے ہیں۔

جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حملے سے اقوام متحدہ کی امن فوج کی اہم ترین بیس بری طرح متاثر ہوئی ہے جس پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مغربی ممالک سے اس حملے کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا امریکی حکام کے مطابق اسرائیل نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں کا جواب دینے کے لیے اپنے اہداف کا تعین کرلیا ہے۔ امریکہ کے خبر رساں ادارے این بی سی کی ایک رپورٹ میں شناخت ظاہر کیے بغیر امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے گا یا کسی اہم شخصیت کو قتل کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تاحال جوابی کارروائی کے وقت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہہ ممکنہ کارروائی یہودیوں کے مقدس تہوار یومِ کپور کی تعطیلات کے دوران ہوسکتی ہے۔