ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر احتجاج اور تحریک انصاف

تحریک انصاف نے ایک ایسے موقع پر اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ میں ’غیرقانونی‘ احتجاج کرنے کا  اعلا ن کیا ہے جس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس  پاکستان کے دارالحکومت میں منعقد ہوگا۔  منگل کو   منعقد ہونے  والے اجلاس  سے پہلے غیر ملکی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ سوموار سے ہی شروع ہورہا ہے۔ تاہم  منگل کے روز ہی تحریک انصاف نے ڈی گراؤنڈ میں عمران خان کی رہائی کے لیے مظاہرہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

کسی سیاسی پارٹی  کو احتجاج کرنے اور سیاسی معاملات پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے یا اختلاف سامنے لانے کا پورا حق حاصل ہونا چاہئے۔ البتہ ایسا  کسی  بھی حق  کا استعمال  قانون کی حدود میں رہ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہ ممکن  ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں دفعہ 144 کا غلط طور سے استعمال کررہی ہوں لیکن اگر کوئی سیاسی  پارٹی پر امن احتجاج کی بات کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی قانونی پابندی کو جوتے کی نوک پررکھنے کا اعلان بھی کیا جاتا ہے تو اسے  قانونی  یا  پر امن احتجاج نہیں  کہا  جاسکتا ۔ تحریک انصاف اس وقت ملکی مفادات کے مقابلے میں اپنے سیاسی ضرورتوں    کو زیادہ اہم و ضروری سمجھ رہی ہے۔ اسی لیے حکومتی وزیروں، حکمران پارٹیوں کے نمائیندوں و ترجمانوں اور متعدد تجزیہ نگاروں کو یہ کہنے کا موقع مل  رہا ہے کہ  پی ٹی آئی  جان  بوجھ کر ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتی ہے جس سے موجودہ حکومت ہی کو گزند نہ پہنچے بلکہ ملک کا بھی نقصان ہو۔ پارٹی کو خود سوچنا چاہئے کہ یہ طرز عمل کس حد تک حقیقت پسندانہ یا ذمہ دارانہ ہے۔

حیرت انگیز طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہونے سے  چند روز  پہلے تحریک انصاف نے اسی روز ڈی گراؤنڈ  پر  ہی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔  کسی بھی مظاہرے، جلوس یا جلسے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اور اس کے لیڈر اپنی ناراضی ظاہر کریں اور حکام کی توجہ معاملات کے  ان پہلوؤں کی طرف مبذول کرائی جائے جن کی وجہ سے سیاسی بے چینی پیدا ہورہی ہے یا کسی  پارٹی کو  پریشانی لاحق ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے جہاں ایک طرف عدالتوں سے رجوع کرکے ریلیف لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو عوامی سطح پر اپنی  مقبولیت کی دھاک بٹھانے کے لیے بھی جلسے جلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو اگر موجودہ صورت حال میں 15 اکتوبر کو ہی احتجاج کرنا تھا تاکہ بیرون ملک سے آئے ہوئے وفود تک یہ اطلاع پہنچ جائے کہ اس ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی موجودہ حکومت کی  حامی نہیں ہے اور اس سیاسی انتظام کو ناجائز، غیرقانونی اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر استوار کیا گیا نظام سمجھتی ہے تو بھی اس کے لیے ڈی گراؤنڈ پہنچنا اور چند سو لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کی سکیورٹی انتظامات کو للکارنا درست طریقہ نہیں  تھا۔  البتہ تحریک انصاف کی قیادت نے منگل کو ڈی گراؤنڈ میں پوری قوت سے مظاہرہ کرنے کے لیے لاہور میں احتجاج کا پروگرام  منسوخ کرکے پارٹی کے تمام لیڈروں اور کارکنوں سے  اپیل کی ہے کہ وہ ہر قیمت پر ڈی گراؤنڈ  پہنچ کر احتجاج کریں تاکہ اس ’فسطائی‘ نظام کا خاتمہ ہوسکے۔

اس احتجاج کی کال دینے والے لیڈروں کو بھی بہت اچھی طرح علم ہوگا کہ حکومت یہ احتجاج کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ تحریک انصاف اگر پوری طاقت  سے بھی اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا ارادہ کرے گی تب بھی سکیورٹی فورسز ہر قیمت  پر اسے ڈی گراؤنڈ سے دور رکھنے  بلکہ اسلام آباد میں داخل ہونے  سے روکنے کے لیے پوری طاقت استعمال کریں گی۔   خاص طور سے جب اس مدت  لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات کے لیے فوج کو بھی تعینات کیا  ہؤا ہے تو یہ سوچ لینا خام خیالی ہے کہ  یہ احتجاج کسی تصادم کے بغیر ممکن ہوسکے گا۔ ایسے میں جب تحریک انصاف کے لیڈر اس احتجاج کو ’پر امن‘ بھی قرار دے رہے ہیں تو اسے کسی  بھی دلیل یا حجت کی بنیاد پر درست نہیں  مانا جاسکتا ہے۔ جب ایک پارٹی جان بوجھ کر اعلان شدہ قانونی پابندیوں کو توڑنے اور ہر قیمت پر اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں پہنچنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ یہ احتجاج پر امن ہوگا تو یا تو وہ خود کو دھوکہ دے رہی ہے یا پھر اپنے کارکنوں سے جھوٹ بول رہی  ہے کہ  سیاسی مطالبے کے  لیے پرامن احتجاج منظم کیا جارہا ہے۔

سرکاری ترجمانوں کے ان دعوؤں سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ  اگر ملک میں غیر ملکی مہمان آئے ہوئے ہوں تو اس موقع پر احتجاج کرنے والی پارٹی  واقعی ملک دشمنی کا ارتکاب کررہی ہے یا اس کا  یہ احتجاج کسی سازش کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ دنیا بھر کے ممالک میں غیر ملکی مہمانوں کی آمد پر احتجاج کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بعض  اوقات یہ احتجاج کسی آنے والی شخصیت کی سیاسی حکمت عملی کے خلاف منظم ہوتا ہے اوربعض اوقات اپنی ہی حکومت کے فیصلوں کو مسترد کرنے کے لیے اس  کا اہتمام کیا  جاتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے دنیا کے مہذب ممالک میں  نہ تو کوئی سیاسی پارٹی قانون شکنی  کا عہد کرتی ہے اور نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ اپنا راستہ روکنے والی کسی بھی رکاوٹ کو دور کرکے اس مقام تک پہنچیں گے جہاں جانے کا انہوں نے تہیہ کیا ہؤا ہے۔ ایسے تمام مواقع   پر پولیس  احتجاج  کا طریقہ اور جگہ  کا انتخاب کرتی ہے۔ اور احتجاج  کے منتظمین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ کس راستے سے کہاں پہنچ کر اپنا  احتجاج  ریکارڈ کرا  سکتے ہیں۔  اس طریقہ پر عمل کرنے سے نہ تو قانون ہاتھ میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی  کوئی بدنظمی دیکھنے میں آتی ہے۔ البتہ اگر کچھ عناصر  اس طے شدہ طریقہ کی خلاف ورزی کا   بیڑا اٹھائیں تو پولیس  ان کے ساتھ  نہایت سختی سے  نمٹتی ہے۔

احتجاج ہی کے لیے  سیاسی اور حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ اور پولیس یہ اہتمام بھی کرتے ہیں کہ کسی معاملہ پر علیحدہ مؤقف سامنے لانے کے لیے علامتی مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یعنی پولیس  منتظمین کو ایک خاص تعداد میں جو عام طور  سے چند درجن افراد پر مشتمل ہوتی ہے،  ایک خاص مقام پر آکر   مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دیتی ہے۔ اس طریقے سے مظاہرین اپنے تئیں ایسی جگہ پہنچ کر بینر اور نعروں کے ذریعے اپنا مطالبہ سامنے لاتے ہیں ، جہاں سے ان کے خیال میں حکمرانوں یا غیر ملکی مہمانوں تک ان کی آواز براہ راست پہنچ جائے اور انہیں احساس ہوجائے کہ  کسی خاص  معاملہ پر اس ملک میں   اتفاق رائے نہیں ہے۔  بلکہ مخالف رائے بھی موجود ہے۔ یہ ایک انتہائی مہذب اور قابل قبول طریقہ ہے لیکن ا س کے لیے سیاسی گروہوں اور انتظامیہ کو یکساں طور  وسیع الظرفی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ منتظمین اتنے ہی لوگوں کو جمع کرتے ہیں جن کی اجازت دی جاتی ہے اور انتظامیہ بھی ان لوگوں کو متفقہ مقام تک پہنچنے کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے۔

البتہ یہ طریقے کسی منظم مہذب انتظام کے تحت ہی  دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت عام طور سے جمہوری حقوق کی بات کرتے ہوئے  مغربی ممالک کے طریقوں اور روایات کا  حوالہ دیتی ہے لیکن خود مظاہرہ منظم کرتے ہوئے وہ اس مہذب روایت کو نہیں مانتی جس پر عمل کرکے ہی درحقیقت دنیا کی کامیاب جمہوریتیں مؤثر طریقے سے  ملکی انتظام  منتخب لوگوں کے ذریعے چلانے  میں کامیاب ہیں۔  پاکستان میں جمہوری روایت اس قدر راسخ  نہیں ہے کہ اسے مثالی کہا جاسکے لیکن اس روایت کو صحت مند بنیادوں پر استوار کرنے کی ذمہ داری  بہر حال سیاسی پارٹیوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کوئی سیاسی پارٹی محض اس لیے کسی قانون یا اصول کو ماننے سے انکار کرے کیوں کہ اس کے خیال میں اسے عوام کی حمایت حاصل ہے، تب بھی اسے درست یا جائز قرار نہیں دیاجاسکتا۔ کسی قانون کو محض  اس لیے  مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد اسے ماننے سے انکار کررہی ہے۔ کسی بھی منظم معاشرے میں  غلط قانون یا اس کے ناجائز استعمال  کو تبدیل کرنے کا راستہ بھی جمہوری اداروں سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔ تحریک انصاف بدقسمتی سے اس راستے کو  چننے سے گریز کررہی ہے۔

موجودہ  حالات میں بھی تحریک انصاف اگر واقعی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہی احتجاج ریکارڈ کرانا ضروری سمجھتی تھی تو اسے  ماردھاڑ  سے بھرپور  اعلانات کرنے اور یہ دعوے کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ  کارکنوں کا ہجوم منگل کو ہر رکاوٹ کو پھلانگتا ہؤا ڈی گراؤنڈ پہنچے گا ۔  تحریک انصاف ایک ملک گیر بڑی پارٹی ہے ۔ وہ اسلام آباد کے ریڈ زون کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج کا انتظام کرسکتی تھی۔ اگر اسلام آباد میں بھی  احتجاج ضروری تھا تو پولیس  و انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے طے کیا جاتا کہ اس کے چند لوگوں کو بینرز کے ساتھ ایک خاص وقت میں مختصر مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ پارٹی خاص طور سے یہ اعلان بھی کرسکتی تھی  کہ  وہ غیر ملکی مہمانوں کی آمد اور اس موقع سے وابستہ ملکی مفاد  کی وجہ سے   دارالحکومت کی طرف مارچ نہیں کرے گی۔ ایسا اعلان کرنے سے پارٹی  کی پزیرائی میں اضافہ ہوتا اور حامی ہی نہیں مخالفین بھی اس کی توصیف پر مجبور ہوتے۔ لیکن  نام نہاد انقلاب لانے  کی  داعی  پی ٹی آئی کوئی ایسا منظم سیاسی  فیصلہ کرنے میں ناکام رہتی ہے جس سے ملک میں سیاسی جمہوری روایت مضبوط ہو اور  اختلافات کو  انتشار اور فساد کا سبب نہ بنایا جائے۔

تحریک انصاف کے لیڈر شیخ وقاص اکرم کے مختلف بیانات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی قیاس ہوتا ہے کہ منگل کو اسلام آباد  پر چڑھائی کرنے کا اعلان درحقیقت سیاسی توجہ حاصل کرنے کا ہتھکنڈا ہے  اور منگل تک اس ارادے کو ترک کردیا جائے گا۔ البتہ یہ احتجاج ملتوی کرنے کے لیے  پہلے  عمران خان  کی رہائی کے  علاوہ یہ شرط رکھی گئی کہ  ان سے  پارٹی لیڈروں کو ملنے کی اجازت دی جائے۔  اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں  کہ  ’ ہمیں جیل کے اندر سے اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ اس لیے عمران خان کے معالج  کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔ وہاں سے سب درست ہونے کی اطلاع پر احتجاج ملتوی کردیا جائے گا‘۔ اس بیان سے تو یہی لگتا ہے  کہ تحریک انصاف شاید اب خود اپنے اعلان  سے منحرف ہونے کا کوئی راستہ تلاش کررہی ہے۔  البتہ ایسا کوئی بھی  فیصلہ مستحسن ہوگا اور اس سے تحریک انصاف کی حیثیت یا مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تحریک انصاف کو بھی  حساس مواقع پر ریاستی  اداروں سے تصادم کی حکمت عملی تبدیل کرکے  اپنے سیاسی جثہ اور صلاحیت کی بنیاد پر سیاسی  زور آزمائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ پارٹی پہلے ہی سانحہ 9 مئی  سے پیدا ہونے والی گرد سے باہر نہیں نکل سکی۔   تصادم کا کوئی بھی نیا طریقہ پارٹی کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوگا۔ عمران خان اور پارٹی کے دوسرے لیڈروں کومعلوم ہونا چاہئے کہ حکومت اور ان کے مخالفین تو اسے کسی جال میں پھانسنا چاہیں گے۔ اس سے بچنا تحریک انصاف کی اپنی ذمہ داری ہے۔