چینی وزیراعظم لی چیانگ ایس ای او کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے

  • سوموار 14 / اکتوبر / 2024

چین کے وزیراعظم لی چیانگ 4 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ کسی بھی چینی وزیراعظم کا 11 سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرا کے ہمراہ چینی ہم منصب کا نورخان ایئر بیس پر استقبال کیا۔

چینی وزیراعظم لی چیانگ وفد کے ہمراہ ایئرچائنا کے طیارے میں نور خان ایئر بیس پر اترے، جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال ودیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

نور خان ایئربیس پر دو بچوں نے چینی وزیراعظم کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے، پاکستان آمد پر چینی وزیراعظم کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس موقع پر چینی وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر دورہ پاکستان پر خوشی ہوئی۔ جہاز سے اترا تو مجھے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا، ایس سی او سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے پر خوشی ہے۔

انہوں نے پاکستان حکومت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کا ہر موقع پر ساتھ دینے والا آہنی بھائی ہے، پاکستان چین کا ہر موسم کا دوست، اسٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ پاکستان ابھرتی ہوئی منڈی اور بڑا مسلم ملک ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے چینی وزیراعظم کی آمد پر سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعظم لی چیانگ کا اسلام آباد میں استقبال کرکے بے حد خوشی ہوئی۔ اپنے بھائی لی چیانگ کے تاریخی دورے کی تعمیری نتائج کا یقین ہے۔ چینی وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مستحکم کرے گا۔ دونوں ملکوں کی آزمودہ شراکت داری، علاقائی استحکام، خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ چین، بھارت، روس، ایران اور کرغزستان سمیت مختلف ممالک کے وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر چین کے وزیراعظم لی چیانگ 14 سے 17 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔

دورے کے دوران چینی وزیر اعظم صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس ای او) علاقائی، سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تنظیم ہے، اس تنظیم کو ابتدا میں چین اور روس نے قائم کیا تھا۔ چین، روس، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان اور تاجکستان ایس ای او  کے ممبر ملک تھے۔ اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے مستقل ارکان کی تعداد 9 ہے۔ 3 ممالک مبصر اور 14 ممالک ڈائیلاگ پارٹنرز کی حیثیت سے تنظیم سے منسلک ہیں۔

ایس سی او دنیا کی 40 فیصد آبادی اور جی ڈی پی کا تقریباً 32 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ سربراہان مملکت کی کونسل شنگھائی تعاون تنظیم میں سب سے بڑا فیصلہ ساز فورم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس رکن ممالک کے دار الحکومت یا کسی ایک شہر میں ہر سال منعقد ہوتا ہے۔

ایس سی او تنظیم کے اہداف میں دوستانہ ہمسائیگی، تجارت، سائنس وٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، سیاحت کے شعبوں میں تعاون، خطے میں امن و امان اور سلامتی کو مشترکہ طور پر یقینی بنانا شامل ہے۔