عالمی قرض 100 کھرب ڈالر سے بڑھنے کا خدشہ: آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی ادارے نے کہا ہے کہ رواں سال دنیا کا مجموعی سرکاری قرض پہلی مرتبہ 100 کھرب ڈالر سے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کی رفتار پیشگوئیوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ کیونکہ سیاسی حالات اضافی اخراجات کے حق میں ہیں۔
سست شرح نمو قرض لینے کی ضرورت اور اخراجات کو بڑھا دیتی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کی تازہ مالیاتی مانیٹر رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 کے اختتام تک عالمی عوامی قرض مجموعی عالمی گھریلو پیداوار ( جی ڈی پی) کے 93 فیصد پر پہنچ جائے گا اور 2030 میں اس کے 100 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
واشنگٹن میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے کے سالانہ اجلاس سے قبل جاری کی گئی مالیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کو تسلیم کرنے کی کافی وجوہات موجود ہیں کہ عالمی قرض کی شرح موجودہ اندازوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھے گی کیونکہ دنیا کی سب بڑی معیشت امریکا میں زیادہ خرچ کرنے کی خواہش موجود ہے۔ آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ ’مالیاتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس کے حوالے سے سیاسی پابندیاں مزید مضبوط ہوگئی ہیں‘۔
رپورٹ کے مطابق گرین ٹرانزیشن، آبادی کی بڑھتی عمر، سیکیورٹی خدشات اور دیرینہ ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے کے باعث اخراجات پر دباؤ بڑھ رہا ہے’۔ عالمی قرض کی سطح میں اضافے سے متعلق آئی ایم ایف کے خدشات امریکی انتخابات سے 3 ہفتے قبل سامنے آئے ہیں جن میں دونوں صدارتی امیدواروں نے نئے ٹیکس نہ لگانے اور اخراجات میں اضافے کے وعدے کیے ہیں۔ جس کے باعث امریکی خسارے میں کھربوں ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ قرضوں کے تخمینے حقیقی نتائج کو بڑے فرق سے کم کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کی شرح 5 سال قبل لگائے گئے اندازوں سے 10فیصد زیادہ ہے۔ کمزور نمو، سخت مالیاتی حالات اور امریکا اور چین جیسی انتظامی طور پر اہم معیشتوں میں مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کی غیر یقینی صورتحال سے قرض میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔