امانتیں کئی سال کی

کتابوں کی دنیا سے اگر آپ جڑے رہیں تو آپ زندگی کے بارے میں تازہ فکر اور تازہ نظر رکھنے والے انسان بن جاتے ہیں،کتابیں دراصل زندگی کے تسلسل کا پتہ دیتی ہیں آج کا انسان اگر ماضی سے آگاہ ہے اور ماضی کا انسان اپنے ماضی سے آگاہ تھا تو اس کی وجہ بھی یہی کتابیں ہیں جو پُل کا کردار ادا کرتی ہیں۔

کتاب کبھی پرانی یا بوسیدہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے عہد کی تاریخ اور آواز ہوتی ہے۔میں آج جس کتاب کا تعارف کرانے جا رہا ہوں، وہ تو ہے ہی تاریخ کا بہتا دریا۔اُس میں گزری زندگی کے دس  برس اس طرح سمو دیئے گئے ہیں کہ یہ پورا عرصہ اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ بازو باندھ کے کھڑا نظر آتا ہے۔ میں ذکر کر رہا ہوں سید مجاہد علی کی دس ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب ”امانتیں کئی سال کی“ کا۔یہ کتاب کیا ہے ایک خاص عہد کی تاریخ کا خزینہ ہے جس میں بڑی ذمہ داری سے اُن واقعات،تحریکوں،رویوں،سانحوں اور تبدیلیوں کو محفوظ کیا گیا ہے،جو تاریخ پر نقش ہو کر اپنا دائمی نقش چھوڑ رہے تھے۔

تقریباً دس ہزار صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک ایسی ریفرنس بُک ہے جو ہر لائبریری میں طلبہ اور سکالرز کے استفادے کی خاطر موجود ہونی چاہئے۔ یہ واقعتا ً ایک جہانِ حیرت ہے،جو اپنے دامن میں اَن گنت حیرتیں لئے ہوئے ہے۔ سید مجاہد علی کا شمار اُن صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی دہائیوں پہلے پاکستان سے ہجرت کی اور دیارِ غیر میں جا بسے۔ انہوں نے ناروے کو اپنا مسکن بنایا تاہم  وہاں بھی قلم و قرطاس سے تعلق کو ٹوٹنے نہ دیا۔ صحافت سے جڑے رہے اور اپنی زبان اردو اور وطن سے محبت کی شمعیں جلاتے رہے۔ انہوں نے1981میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے ماہنامہ ”کارواں“ کا اجراکیا۔یہ ماہنامہ جریدہ دسمبر1996 تک شائع ہوتا رہا۔اس ماہنامے کے اجرا کا مقصد مختلف ایشیائی ممالک خصوصاً پاکستان سے آنے والے تارکین وطن کو ناروے کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اس ملک کی ثقافت، سیاست اور سماجیات سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اس ماہنامے کی خاص بات اس کا گفتگو  کے عنوان سے لکھا جانے والا اداریہ ہوتا تھا، جسے سید مجاہد علی لکھتے تھے۔اس بارے میں وہ لکھتے ہیں ”مقصد یہ تھا کہ علامتی انداز میں تارکین وطن کے احساسات و مشاہدات اور معمولاتِ زندگی کی ایک ایسی تصویر سامنے لائی جائے جو غور و فکر کے دروازے بھی کھولے اور ترک وطن کر کے نئے معاشرے میں آباد ہونے والے لوگوں کی جدوجہد اور مشکلات کا احاطہ بھی کر لیا جائے“۔

تاہم سید مجاہد علی چونکہ ساکت زندگی پر یقین نہیں رکھتے تھے ،اس لئے انہوں نے زمانے کے تقاضوں اور بدلتی ہوئی زندگی کو سامنے رکھ کر جدت  کی دنیا میں قدم رکھا۔انہوں نے یکم جنوری2012کو ناروے سے ایک آن لائن اخبار کا کارواں کے نام سے آغاز کیا۔اس اخبار میں جہاں معمول کے شعبے اور صفحات شامل تھے وہیں اس میں خصوصی عنوان کے تحت اداریے کا بھی آغاز کیا گیا۔یہ اداریہ درحقیقت ذمہ دارانہ، متوازن اور مدلل اسی روایت کا تسلسل تھا جو ہمارے بڑے اخبارات کا خاصا رہی ہے اور جس میں بڑے بڑے جید اداریہ نویسوں کے نام آتے ہیں۔

سید مجاہد علی جب یہ اداریے لکھ رہے تھے تو اُن کے ذہن میں کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ انہیں کتابی شکل میں شائع کریں گے۔ وہ سمجھتے تھے جو کچھ وہ لکھ رہے، وہ قارئین تک پہنچ رہا ہے اور یہ کافی ہے۔اداریے لکھنے کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور کوئی اہم واقعہ ایسا نہیں ہوتا جس پر سید مجاہد علی کا اداریہ ہمارے قومی اخبارات سے پہلے نہ آ جاتا ہو۔یہ تاریخی و جامع اداریے بھی اس طرح محفوظ نہ ہوتے جس طرح”امانتیں کئی سال کی“ میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ لاہور میں قائم عکس پبلی کیشنز کے نوجوان سی ای او محمد فہد سے اس موقع پر بات ہوئی۔ انہوں نے جب ان اداریوں کے عنوانات اور مواد دیکھا تو یہ تجویز پیش کی انہیں کتابی شکل میں شائع ہونا چاہئے۔ سید مجاہد علی نے یہ تجویز مان لی اور ہزاروں اداریوں کو ”امانتیں کئی سال“ کے نام سے شائع کرنے کا آغاز ہوا۔دس جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں 2014سے 2023 تک لکھے گئے اداریے شامل ہیں۔یہ کام ملک کے بڑے بڑے اخبارات نہیں کر سکے جو سید مجاہد علی نے کیا ہے۔ حالانکہ تحقیق کے نقطہ نظر سے تمام بڑے اخبارات کے اداریوں کو اسی طرح کتابی شکل میں شائع کر کے لائبریوں میں محفوظ ہونا چاہئے تاکہ ملکی تاریخ سے آگاہ ہونے اور تحقیق کرنے کے خواہشمندوں کو یہ مواد میسر آ سکے۔

سید مجاہد علی نے یہ اداریے دیارِ غیر میں بیٹھ کر لکھے ہیں مگر اُن کی ملکی سیاست، حالات اور واقعات پر گہری نظر کی داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ہر مسئلے کو اُس کے پورے پس منظر اور تاریخ و سیاسی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ اُن کے اداریوں کا کینوس بہت وسیع ہے۔وہ عالمی سیاست و واقعات، دنیا میں بنتے بگڑتے تعلقات، مشرقِ وسطیٰ،ایران، افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ تین ہزار سے زائد ان اداریوں میں وہ سب کچھ مل جائے گا جو آج کی دنیا میں رونما ہو رہا ہے۔  تاہم اُن کا زیادہ تر فوکس پاکستان پر ہے۔پاکستان کے حالات پر اُنُ کے یہ اداریے نہ صرف حقائق کو آشکار کرتے ہیں بلکہ اُن سیاسی دو عملیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں،جو ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ رہا ہے۔

لندن میں مقیم صحافی فیضان عارف لکھتے ہی ”سید مجاہد علی ایک باوقار صحافی اور شاندار تجزیہ نگار ہیں یہ اُن چند اوورسیز پاکستانی صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کی لکھی ہوئی ہر تحریر بڑی توجہ سے پڑھی جاتی ہے۔میں اُن کی پیشہ ورانہ دیانتداری کا مداح ہوں لیکن انہوں نے اپنے قلم کو کسی بھی طرح کی جانبدارانہ آلودگی سے محفوظ رکھا ہے“۔

 سید مجاہد علی کے اداریوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے اُن کی حالات اور تاریخ پر کتنی گرفت ہے۔ پھر یہ بھی ایک بڑی خوبی اُن کے اداریوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کسی خاص ایجنڈے کو سامنے رکھ کر اداریہ نہیں لکھتے۔ اُن کے سامنے ضمیر کی عدالت ہوتی ہے اور اُس کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر وہ سچ لکھ دیتے ہیں، چاہے کسی کو بُرا ہی کیوں نہ لگے۔انہوں نے خود کو آزاد رکھا ہے۔ جن  دس برسوں کے اداریے اس کتاب میں شامل ہیں، اُن کے دوران پاکستان میں بڑے اہم واقعات رونما ہوئے اور سیاسی کشمکش اپنے عروج پر رہی۔تاہم سید مجاہد علی نے اپنا وزن کسی خاص پلڑے میں نہیں ڈالا، جو کچھ محسوس کیا اُسے پوری دیانتداری سے رقم کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا نام امانتوں سے منسوب کیا ہے۔سچ کی امانتیں، حقائق کی ضمانت کے ساتھ انہوں نے اپنے اداریوں میں سمو کر تاریخ کے دامن میں محفوظ کر دی ہیں اب جو چاہے اس آئینے میں اپنے مطلب اور ضرورت کا عکس دیکھ سکتا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ سید مجاہد علی بہت عمدہ نثر نگار ہیں اِن کے اداریوں میں ادب کی چاشنی بھی موجود ہوتی ہے۔ اور زبان و بیان کی وہ لطافت بھی جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔بلاشبہ دس جلدوں پر مشتمل یہ کتاب اردو ادب و صحافت میں گراں قدر اضافہ ہے،جس پر سید مجاہد علی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان )