دہشت گردی کے خلاف پاکستان و بھارت کا یکساں مؤقف
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 16 / اکتوبر / 2024
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں سربراہی اجلاس کامیابی سے اختتام پزیر ہوگیا۔ متعدد غیرملکی مہمان واپس اپنے ملکوں کو روانہ ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں ایک بین الاقوامی تعاون تنظیم کا یہ اہم اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہؤا جب ملک میں احتجاج کا ماحول تھا اور ایک سیاسی پارٹی اپنے مطالبات کے لیے ڈی گراؤنڈ میں احتجاج کرنے کی دھمکی دے رہی تھی۔ تاہم ان مشکلات کے باوجود یہ اجلاس پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہؤا۔
اجلاس میں 8 رکن ممالک کے سربراہان حکومت نے شرکت کی۔ ایران اور بھارت کی نمائیندگی بالترتیب وزیر تجارت اور وزیر خارجہ نے کی۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف آخری لمحات میں اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں آسکے کیوں کہ علاقائی حالات کی وجہ سے ان کا تہران میں موجود رہنا ضروری تھا۔ ان کی جگہ وزیر تجارت نے اپنے ملک کی نمائیندگی کی۔ بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے ملک کے وفد کی قیادت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی نمائیندگی کی۔ بھارتی وزیر اعظم کی غیر موجودگی کو پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ دونوں ملک کے درمیان تعلقات میں طویل مدت سے سرد مہری حاوی ہے۔ بھارت ، پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ پاکستان نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختاری کی ضمانت دینے والی آئینی شق 370 ختم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے یہ سرکاری پوزیشن اختیار کی ہے کہ جب تک بھارت اس شق کو بحال نہیں کرے گا ، دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت نہیں ہوسکتی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں البتہ بھارت کی اعلیٰ سطحی نمائیندگی اور بھارتی مندوب کی بھرپور شرکت سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیڈر تبدیل شدہ حالات اور علاقائی صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور شاید کسی نہ کسی طریقے سے اپنا سخت گیر طرز عمل تبدیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ اور بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔ سربراہی اجلاس شروع ہونے سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھارتی صحافی برکھا دت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ اگرچہ نریندر مودی اس موقع پر پاکستان نہیں آئے لیکن مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے لیڈر مل بیٹھنے کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔ اس بیان کو پاکستان اور بھارت میں یکساں دلچسپی سے سنا گیا اور اس حوالے سے مختلف النوع خیالات و تبصرے بھی سامنے آئے۔ ایس سی او اجلاس کے اعلامیہ میں باہمی احترام اور علاقائی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار سامنے آنے کے بعد دیکھنا ہوگا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل برصغیر کے یہ دونوں ممالک کیسے اس تنظیم کے مقاصد اور اسلام آباد سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق تعلقات میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں ’ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام، علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فورم نے غیر امتیازی اور شفاف تجارتی نظام کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ ہر شعبہ میں باہمی تعاون کے فروغ اور کثیر الجہتی انجمنوں کی صلاحہیتوں کو استعمال کرنا اہم قرار دیا گیا‘۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے اصول، باہمی احترام اور قومی مفادات کا خیال رکھا جائے۔ اعلامیہ میں کامیابی سے یہ کانفرنس منعقد کروانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ خاص طور سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کی کونسل کی صدارت اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ کامیاب صدارت کے لیے بھارت اپنی مکمل حمایت کا اظہار کرتا ہے‘۔
بھارتی مندوب کی طرف سے پاکستانی خدمات کی توصیف دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی حد نرم رو رویہ کا اظہار ہے۔ پاکستان آنے سے پہلے وزیر خارجہ جے شنکر نے ایک تقریب میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایس سی او کے اجلاس میں شریک ہونے اسلام آباد جارہے ہیں۔ ان کا دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مواصلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔ یہ جواب اصولی طور سے درست تھا لیکن اس جواب کی روشنی میں ہونے والے تبصروں میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے بھارت ، پاکستان کو بدستور کافی فاصلے پر رکھنا چاہتا ہے اور باہمی تعلقات میں کسی پیش رفت کا خواہاں نہیں ہے۔ البتہ ایس سی او کانفرنس کے سخت شیڈول اور مختصر وقت کی صورت حال میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کے پاس اس اجلاس میں شرکت کے علاوہ کسی دوسری سرگرمی کے لیے وقت بھی نہیں تھا۔ کل سہ پہر پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دیے گئے عشائیہ میں شرکت کی اور آج اجلاس ختم ہونے کے فوری بعد انہیں نئی دہلی واپس جانا تھا۔ تاہم 9 سال بعد کسی عالمی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ہی سہی پاکستانی سرزمین پر بھارتی وزیر خارجہ کا قدم رکھنا ایک مثبت پیش قدمی ہے۔
اس کے علاوہ سربراہی اجلاس میں تقریر کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے متعدد ایسے اشارے دیے جن میں باہمی احترام، مل جل کر کام کرنے اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’باہمی تعلقات میں ایماندارانہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ہمارا تعاون باہمی احترام اور خودمختاری و برابری پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ رابطے کا فروغ نئی کارکردگیوں کو جنم دے سکتا ہے‘۔ یہ سب باتیں پاکستانی قیادت کی طرف سے بھی کی جاتی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نے بھی انہی متفقہ اصولوں کا حوالہ دیا اور ان پر اصرار کیا ہے۔ اب دونوں ملکوں کے لیڈروں کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جو کہتے ہیں، ان پر عمل کرکے بھی دکھائیں۔ خاص طور سے ایماندارانہ گفتگو اسی وقت ہوسکتی ہے جب دونوں ملکوں کے لیڈر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے سے انکار کی بجائے مل بیٹھ کر بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ اسی طرح باہمی احترام اور علاقائی سالمیت کے مقاصد بھی ایک دوسرے کا مؤقف سننے اور کوئی متفقہ راستہ نکال کرہی ممکن ہوسکتا ہے ۔
یوں تو ایس سی او کانفرنس دس رکن ممالک کے نمائیندوں پر مشتمل تھی لیکن اس دوران میں میڈیا کی توجہ پاکستان اور بھارت کے لیڈروں کے رویہ اور باتوں پر مبذول رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے میز بان ملک کے سربراہ حکومت اور کانفرنس کے صدر کے طور پر اجلاس کی صدارت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے مل جل کر کام کرنے، مواصلت بڑھانے، موسمی حالات سے نمٹنے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کانفرنس کے شرکا سے اپیل کی کہ اس مقصد کے لیے افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے استعمال سے روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایس سی او ممالک کو تجارت اور ٹرانزٹ کے مواقع فراہم کرتا ہے جس سے تمام ارکان استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان بہترین مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مستحکم افغانستان نہ صرف ہماری خواہش ہے بلکہ یہ ہمارے لیے بہت ضروری بھی ہے۔ عالمی برداری افغانستان کی عبوری حکومت سے جامع بنیادوں پر سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرے۔ اور انسانی بنیادوں پر ان کی مدد کو آگے آئے۔ تاکہ افغانستان کی سرزمین کو کوئی بھی تنظیم ان کے پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کر سکے‘۔ کانفرنس کے میزبان اور صدر کے طور پر شہباز شریف کی یہ بات دہشت گردی کے خلاف قابل قدر اور مؤثر اپیل تھی۔
البتہ ان کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے دیگر امور کے علاوہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی بات کی۔ اس حوالے سے البتہ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کی سرکاری روایت کے برعکس جے شنکر نے اپنی تقریر میں براہ راست پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وسیع تناظر میں بات کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کو بنیادی نکتہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ترقی اور استحکام کا دارومدار امن پر ہے۔ امن کا مطلب دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا ہے۔ سرحد پار دہشتگردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسندی جیسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تو تجارت، عوامی سطح پر رابطے کا فروغ مشکل ہو جائے گا۔ سوچنا چاہئے حالات مختلف ہوں تو ہم کتنے بڑے فائدے حاصل کرسکتے ہیں‘۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تعاون، باہمی احترام اور خود مختار مساوات پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس میں علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اسے یکطرفہ ایجنڈوں کے بجائے حقیقی شراکت داری پر مبنی بنانا چاہئے‘۔
بھارتی وزیر خارجہ سبرا منیم جے شنکر نے ایس سی او چارٹر کے آرٹیکل 1 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس تنظیم کے قیام کا مقصد باہمی اعتماد، دوستی اور پڑوسیوں سے مضبوط روابط بہتر بناتے ہوئے علاقائی سطح پر کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ متوازن ترقی، انضمام اور تنازعات کی روک تھام کے لحاظ سے ایک مثبت قوت بننا ہے ۔ چارٹر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے تین چیلنجز کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ موجودہ دور میں ایس سی او چارٹر کے یہ اہداف مزید اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایماندارانہ گفتگو کریں کہ کیا اعتماد کی کمی ہے یا تعاون ناکافی ہے۔ آیا دوستی میں کمی ہے اور کہیں اچھی ہمسائیگی ناپید تو نہیں۔ تو یقیناً ہمیں ان وجوہات پر غور اور ان کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم چارٹر سے انتہائی پرخلوص وابستگی کا اعادہ کریں تو ہم اس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔
یہ ایک مثبت تقریر تھی۔ اس میں ایس سی او کے چارٹر پر عمل کرنے کے لیے ایماندارانہ کاوش کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا البتہ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے کے لیے جے شنکر کے بیان کردہ سنہری اصولوں کو کیسے بنیاد بناتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان اور عزم کو بھی شامل کرلیا جائے کہ ’ غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اخلاقی ذمے داری ہے جو ہم سب کی مجموعی توجہ کی حقدار ہے۔ ایس سی او خطے میں کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا غربت کے خاتمے کے لیے تعاون بہت ضروری ہے۔ ہم غربت کی بنیادی وجوہات کے خاتمے اور اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مطلوبہ تحریک فراہم کرتے رہیں گے‘۔
مسائل حل کرنے کے لیے دیانت دارانہ ڈائیلاگ کے علاوہ اگر غربت جیسے اہم مسئلہ کو پیش نظر رکھا جائے تو پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو احساس ہوسکتا ہے کہ ایس سی او کے خطے میں سب سے زیادہ غربت ان ہی دو ملکوں میں ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سخت گیر انا پسندی اور نفرتوں کے فروغ کی بجائے مل جل کر مسائل حل کرنے کا راستہ ہموار کرنا ضروری ہوگا۔