لاہور میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر راولپنڈی میں احتجاج، 250 طلبہ گرفتار

  • جمعرات 17 / اکتوبر / 2024

لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر راولپنڈی میں احتجاج کرنے والے کم ازکم 250 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ہجوم منتشر کرنے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔

راولپنڈی کے مختلف کالجز کیمپس کے باہر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ کمرشل مارکیٹ، سکستھ روڈ، مورگاہ اور پشاور کیمپس کے باہر یونیفارم پہنے طلبہ نے کیمپس پر پتھراؤ کیا اور نعرے بازی کی گئی۔ پشاور روڈ کیمپس پر طلبہ نے گیٹ اور شیشے توڑ دیئے اور مورگاہ کیمپس کے باہر طلبہ نے پتھراؤ کیا۔ احتجاج کے باعث ایوب پارک چوک مکمل بلاک ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر طلب کر لی گئی۔ مورگاہ پر بھی پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہو گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تمام زاویوں سے احتجاج کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ شہر میں مختلف کالجز کے باہر سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ تمام بلاک سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا ہم طلبہ کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے، احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ پر اگر کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا اور توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کرے گا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بعد ازاں، ترجمان پولیس انسپکٹر سجاد الحسن نے بتایا کہ ویڈیوز سے شناخت کے بعد 100 مزید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد کل تعداد 250 ہو گئی ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں غیر طلبہ عناصر بھی شامل ہیں، ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق غیر طلبہ عناصر نے مذموم مقاصد کے لیے احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ کی۔ شہر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کو پروپیگنڈے قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بچی زیادتی نہیں، گھٹیا سازش کا شکار بنی۔ بار بار کی احتجاج کی کال ناکام ہونے کےبعد انتہائی گھٹیا اور خطرناک منصوبہ بنایاگیا، فتنہ فساد کی جڑ خیبرپختونخوا حکومت ہے۔

مریم نواز نے جعلی خبر پھیلانے میں ملوث عناصر کےخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو کئی جانیں جاسکتی تھیں۔ سازش کے تمام تانے بانے کھل کر میرے سامنے آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کی فیکٹریوں کو اب بند ہونا چاہیے۔