اسلام آباد میں ایس سی او سمٹ اور جے شنکر
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 17 / اکتوبر / 2024
17 اکتوبر درویش کے پیر و مرشد سر سید کا جنم دن ہے۔ اس حوالے سے آج کا کالم سر سید ڈے پر تحریر کرنے کا پروگرام تھا۔ علاوہ ازیں ایک بڑی خبر یہ ہوئی ہے کہ حکومت کو مطلوبہ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں ٹو تھرڈ میجارٹی حاصل ہوگئی ہے۔
اس سے جوڈیشری میں آئینی و جمہوری تقاضوں کی مطابقت میں بہتری لانے کا اہتمام ہو سکے گا۔ اس اہم قومی ایشو کو بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے لیکن ان دنوں اسلام آباد میں جو بڑا ایونٹ ہوا ہے، پہلے اس کا جائزہ۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا تئیسواں سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے جس میں 10 رکن ممالک کے اعلی سطحی وفود نے شرکت کی۔ پاکستان نے اس سلسلے میں سکیورٹی کا بھرپور اہتمام کر رکھا تھا۔ تعلیمی ادارے اور مارکیٹس ہی بند نہ تھیں۔ سیاسی سرگرمیوں کی بھی گنجائش نہ تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان دنوں اسلام آباد میں ایک طرح کا مارشل لا نافذ تھا تاکہ یہاں سے عالمی میڈیا کے لیے کوئی بھی ناخوشگوار خبر نہ بن سکے۔
پی ٹی ائی نے ابتداً اس نوع کا اعلان کیا کہ وہ 15 اکتوبر کو یہاں احتجاجی مارچ کریں گے مگر صورتحال کی سنگینی کو سمجھ کر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ سفارتی لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماشااللہ الحمدللہ پاکستان کی میزبانی میں ایس سی او کی کامیاب سمٹ منعقد ہوئی ہے جس میں چین روس انڈیا اور ایران کے علاوہ سینٹرل ایشیا کے دیگر چھ ممالک کی قیادتیں شریک ہوئی ہیں۔ بالخصوص ہندوستان سے 9 برس قبل ششما سوراج تشریف لائی تھیں۔ اتنے طویل عرصے بعد فارن منسٹر ایس جے شنکر ادھر پدھار رہے ہیں، جنہیں ہمارے وزیر خارجہ کو خود ریسیو کرنا چاہیے تھا۔
ٹیررازم کے خلاف جدوجہد سے لے کر ایس سی او ممالک میں باہمی تجارت اور ہمہ پہلو تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر بھرپور گفت و شنید ہوئی۔ جے شنکر نے ایس سی او سمٹ کی شاندار میزبانی پر پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی اور انڈین عوام کی طرف سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اسے ایک تاریخی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ درویش کی کوشش کی ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی لفاظی کی بجائے کسی بھی ایشو کی اصلیت سامنے لائے۔ اس حوالے سے ایس سی او کی اسلام آباد سمٹ کوئی بھی ٹھوس اقدام اٹھانے یا کوئی بریک تھرو دلانے میں ناکام رہی ہے۔ کہنے کو یہ سمٹ تھی مگر اس میں چینی صدر شی اور روسی صدر پیوٹن تو رہے ایک طرف انڈین وزیراعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پرشکیان نے بھی خود شریک ہونا پسند نہیں فرمایا۔ اپنے وفود بھیجنے پر اکتفا کیا۔
حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی کے چیئرمین سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اپنا سارا غصہ دوسروں کی بجائے ناروا طور پرحسب سابق انڈین وزیراعظم پر نکالتے ہوئے کہا کہ مودی میں اعتماد نہیں ہے کہ وہ خود پاکستان آئیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب تک انڈین آئین میں دفعہ تین سو ستر بحال نہیں ہوتی، ہم بھارت سے پر بات نہیں کریں گے۔ اس کے برعکس حکمران مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف نے زیرک سیاستدان کی حیثیت سےنسبتاً بڑوں والی مدبرانہ گفتگو کی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈین صحافی برکھا دت سے گفتگو کرتے ہوئے تین مرتبہ منتخب سابق پرائم منسٹر نواز شریف نے محبت بھرے اسلوب میں کہا کہ اگر انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی خود پاکستان تشریف لاتے تو یہ بہت بہتر ہوتا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ ایسا موقع ملنا بہت دور نہیں جب وہ اور ہم اکٹھے بیٹھ کر بات چیت کر سکیں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس پاکستان اور بھارت کو باہمی تعلقات بہتر بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں میں تو شروع سے ہی پاک بھارت تعلقات کی بہتری کا متمنی رہا ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اس وقت یہ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
انڈین صحافی برکھادت کے مطابق اپنے انٹرویو میں نواز شریف نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے لاہور ڈیکلریشن کی خلاف ورزیاں ہوئی تھیں جو لاہور میں ان کے اور انڈین پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی کے درمیان طے پایا تھا۔ یہ نواز شریف ہی تھے جو 2014 میں نریندرا مودی کے پرائم منسٹر منتخب ہونے پر انڈیا گئے تھے۔ اور ان کی تیسری جیت پر انہوں نے مبارکباد کا پیغام بھی بھجوایا تھا۔ انہی کے دور میں اسی برس مودی لاہور بھی آئے تھے۔ آج ہی درویش نے اپنے ایک اہم وفاقی وزیر سے جب یہ کہا کہ آپ پاک انڈیا منافرت ختم کرنے اور اسے دوستی میں بدلنے کے لیے اپنا مثبت رول کیوں ادا نہیں کرتے؟ تو وہ جھٹ سے بولے کہ بڑے
میاں صاحب یہ رول بطریق احسن ادا کر رہے ہیں۔ عرض کی کہ پھر چھوٹے میاں نے کس کے کہنے پر انہیں خراب کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے؟
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ایک قومی قائد اور منجھے ہوئے سیاستدان کی حیثیت سے نواز شریف ہمیشہ خطے کے دو ارب انسانوں کی بھلائی کے لیے اپنے تفکرات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اصل طاقتور جو ہماری خارجہ پالیسی کے معمار ہیں، اس کجی کو درست کرنے کا اختیار ان کےمضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہی کے ساتھ اس ایشو پر محبت و احترام کے ساتھ استدلال کرتے ہوئے مکالمہ کیا جائے کہ پاکستان کا مستقل قومی مفاد بھارت دوستی میں ہے نہ کہ دشمنی میں۔ پچھلی سات دہائیوں سے کشمیر ایشو جو بھی رہا ہے اب اس میں جان نہیں۔ اور تو اور ہماری پوری مسلم امہ میں بھی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی اس ایشو پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ اس لیے ہماری خارجہ پالیسی میں اب خالص پاکستان کے معاشی وتجارتی مفادات کو اولیت حاصل ہونی چاہیے۔
پاک ہند تعلقات کی خرابی کا سارا ملبہ جن پر ڈال دیا جاتا ہے، وہ اتنے بھی کند ذہن نہیں ہیں بلکہ کئی معاملات کو وہ ہمارے موقع پرست اقتدار کے لالچی و حریص لیڈروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک طاقتور شخصیت نے یہ کہا تھا اس وقت پاک بھارت تجارتی تعلقات کی بحالی کا پلڑا پاکستان کے حق میں ہے۔ یہ بھی کہ آج کے دور میں ممالک انفرادی طور پر نہیں بلکہ علاقائی طور پر باہم مل کر ترقی کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے جو سروے کروایا گیا تھا کتنی خوشگوار تبدیلی ہے کہ پنجاب جسے دیگر صوبوں کے برعکس ہمیشہ مخالفت میں پیش پیش دکھایا جاتا رہا ہے، سروے میں واضح ہوا کہ پنجاب کے نوجوانوں کی بھاری میجارٹی انڈیا سے بہترین تعلقات استوار دیکھنا چاہتی ہے۔
آج کی دنیا دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال قبول کرنے کے لیے قطعی آمادہ و تیار نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کو جو شکایات افغانستان سے ہیں، وہی انڈیا کو پاکستان سے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس میں ہونے والی تقاریر سے اس حقیقت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ہر ملک کا سارا زور معاشی طاقت بننے اور باہمی تعلقات کو تجارتی بنیادوں پر استوار کرناہے۔ اس سلسلے میں یورپین یونین کی مثالیں تو دی جاتی ہیں لیکن مغربی جمہوری اقوام نے بالفعل جو اقدامات اٹھائے ہیں انہیں بطور مثال اپنایا نہیں جا رہا۔ ہمارے تجزیہ کاروں میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو ایس سی او کو امریکی مخالفت میں نیٹو کے ہم پلہ لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسی تعلی بازی سے احتراز کرنا چاہیے۔
اس وقت پوری دنیا میں جس طرح علاقائی تعاون کی اپروچ ابھری ہے، ایس سی او کے مقاصد کو بھی اسی تناظر میں سمجھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ بالخصوص ممبر ممالک کے باہمی تنازعات کو یہاں زیر بحث لانے کی بجائے ساری تگ و دوتجارتی و معاشی تعلقات کو بڑھاوا دینے پر صرف کرنی ہوگی۔ جنہیں کسی بھی علاقائی تنازع کا اسیر یا یرغمالی نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان کو تنازعات کے باوجود انڈیا چائینہ تجارتی حجم سے سبق سیکھتے ہوۓ سارک کی بحالی کا اہتمام کرنا ہو گا۔