تعلیمی اداروں میں جنسی زیادتی کی صورت حال پر لاہور ہائی کورٹ کا فل بنچ
لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات سے متعلق چیف جسٹس نے فل بنچ تشکیل دیا ہے جو منگل کے روز تعلیمی اداروں میں ہونے والے حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سے سماعت کرے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عظمی بخاری اور اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں خواتین غیر محفوظ ہیں اور ہراسانی اور تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ درخواست میں تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات پر اعلی سطح انکوائری اور طالبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی استدعا کی گئی تھی۔ آئی جی پنجاب عثمان انور، ایڈووکیٹ جنرل ،رجسٹرار یونیورسٹی فار ویمن یونیورسٹی عدالت کے حکم پر پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ’آپ نے بچی کی ویڈیو وائرل کرنے سے کیوں نہیں روکا؟‘ جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پی ٹی اے سے رابطہ کیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آج 18 تاریخ ہے ویڈیو 13 اور 14 تاریخ کو وائرل ہونا شروع ہوئی۔ 700 سے زائد سوشل اکاؤنٹس سے ویڈیو وائرل ہوئیں۔ آپ جاگتے اس وقت ہیں جب سب کچھ جل چکا ہوتا ہے۔‘ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ اتھارٹیز سے رابطہ تاخیر سے کیوں کیا؟ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے فوری ایف آئی اے سے رابطہ کیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کے ’آئی جی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے آپ نے بچوں کو سٹرکوں پر آنے دیا۔ آپ ہمیں دو دن کا حساب دینا ہے آپ 14 اور 15 کو کہاں تھے۔ آپ نے دو دن کچھ نہیں کیا بس انتظار کرتے رہے۔ آج بھی ٹک ٹاک، فیس بک اور ایکس پر ویڈیوز پڑی ہیں۔‘
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے کچھ ویب سائٹس کو بند کرنے کی درخواست بھیجی ہے وہ ابھی تک بند نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کو اپلوڈ ہونے سے روکنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو بچیاں سٹرکوں پر آئیں اگر انہیں کچھ ہو جاتا اس کا ذمہ دار کون تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے عدالت کو بتایا کہ 12 اکتوبر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ سے کہا گیا کہ نجی کالج میں لڑکی کا ریپ ہوا ہے۔ اسی دن ایس ایس پی متعلقہ کیمپس گئیں اور تحقیقات شروع کردی۔ فرسٹ ائیر کے بچوں کے اپنے واٹس ایپ گروپ ہیں جن پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انسٹاگرام کی پوسٹ واٹس ایپ گروپس میں شیر ہوئیں مگر کسی کو نہیں معلوم کہ کس کا ریپ ہوا۔ پیر کے روز تک کوئی متاثرہ بچی سامنے نہیں آئی۔
اس دوران دو اکتوبر کو ایک بچی گھر میں گرتی ہے جسے جنرل ہسپتال لایا جاتا ہے وہاں پر تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خالد اسحاق نے عدالت کو بتایا کہ بچی کی تمام میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کر دی ہیں۔ کالج سے غیر حاضر ہونے پر اس بچی کو واقعے میں متاثرہ قرار دیا گیا۔ وہ بچی الحمداللہ زندہ ہے مگر اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے سوال کیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں بچی کی خودکشی کے متعلق بتائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے روزنامچہ ساتھ لانے کو کہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جب بچی کی لٹکی ہوئی لاش کو اتارا گیا لیڈی پولیس کانسٹیبل ساتھ تھیں؟ روزنامچے میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔