26 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا

  • اتوار 20 / اکتوبر / 2024

چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ آف پاکستان کا اجلاس جاری ہے، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا۔ بل کی کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔

چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس کے آغاز پر نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نےچیئرمین سینیٹ سے معمول کی کارروائی ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ طویل مشاورت کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار کو 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا گیا اور اس میں پارلیمان نے بڑی محنت اور غور و خوض کے بعد ایک ایسا طریقہ کار متعارف کرایا جس میں یہ ممکن بنایا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کو شفاف اور میرٹ کے مطابق کیا جائے۔

اس کمیشن کی تشکیل اس طرح کی گئی کہ اس میں متعلقہ شراکت دار ہوں جبکہ صدر اور وزیراعظم نے اپنا اختیار چھوڑ کر پارلیمان کو دیا۔ لیکن اسی دوران سپریم کورٹ میں متفقہ طور پر منظور کی گئی 18ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کروائی گئی جسے فوری سماعت کیلیے منظور کرلیا گیا اور اس درخواست کی سماعتوں میں یہ پیغام دیا گیا کہ اگر اس نظام میں توازن ساتھ والی عمارت ( سپریم کورٹ) کومنتقل نہیں کریں گے تو یہ ترمیم منسوخ کردی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پارلیمان کی بالادستی اور آزادی پر کھلا عدم اعتماد اور کسی حملے سے کم نہیں تھا۔ ان حالات میں 19ویں ترمیم کی گئی اور 19 ویں ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کی کمپوزیشن کا جھکاؤ اعلیٰ عدالت کی طرف کردیا گیا اور پارلیمانی کمیٹی کے اختیارات میں بھی تبدیلی کردی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بارکونسل نے بارہا اس حوالے سے مطالبہ کیا اور یہاں تک کہا گیا کہ اس نظام سے زیادہ بہتر نظام اس وقت کام کررہا تھا جب ججز کی تقرری صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 175اے میں مناسب ترامیم کی جائیں اور اس کے بعد پچھلے 6 سے 8 ہفتوں میں مختلف ملاقاتوں کے بعد اس کمیشن کی جو شکل بنی ہے وہ آج آپ کے سامنے رکھی جارہی ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس اپنی مدت پوری کرکے چلے جائیں گے۔ سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ سے تین ملاقاتیں ہوئیں جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایکسٹیشن میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہت پروپیگنڈا کیا گیا۔

اس دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر اب مجھے کوئی جلد بازی کا طعنہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا پہلے دن سے کوشش تھی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتفاقِ رائے سے ترمیم لائی جائے۔ ہماری اور مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی کا آنے والا جواب مایوس کن ہے۔

دریں اثنا تحریک انصاف کے چئیرمین یرسٹر گوہر نے بتایا کہ ان کی جماعت 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ایک اصولی موقف اپنا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے اس بل کو پیش کیا گیا اور کمیٹیوں سے گزارا گیا، اور بار بار وقت تبدیل کیا گیا، جیسے ہمارے ایم این ایز اور سینیٹرز کو ہراساں کیا گیا اس کی ہم نے شدید مذمت کی ہے۔ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے اور آئینی ترمیم کے لئے ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔