مشتاق شیدا : قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 20 / اکتوبر / 2024
مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا ۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں ۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں۔
بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں ۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے میں شروع ہوا جب میں روزنامہ جنگ کے ساتھ وابستہ تھا۔ اور جنگ ملتان کا ادبی صفحہ ترتیب دیتا تھا ۔ 21 اگست2007 کو نام ور افسانہ نگار اور ناول نگار قراۃ العین حیدر کا انتقال ہوا تو میں نےان کی یاد میں جنگ کا خصوصی ایڈیشن تیار کیا اور اس ایڈیشن کی تیاری کے لیے مجھے مشتاق شیدا صاحب کی مدد کی ضرورت تھی ۔
میں جانتا تھا کہ اس شہر میں قراۃ العین حیدر کا سب سے بڑے شیدائی مشتاق شیدا صاحب ہیں جن کی نہ صرف ان کے ساتھ خط و کتابت رہی بلکہ وہ انہیں ملنے کے لیے بھارت کا بارہا دورہ بھی کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر عامر سہیل نے مجھے خاص طور پر بتایا تھا کہ اس ایڈیشن کی تیاری میں تمہیں مشتاق زیادہ صاحب سے بہت کچھ مل جائے گا ۔ مشتاق صاحب کے پاس قرا ۃ العین حیدر کی تصاویر بھی تھیں ان کے یادگار خطوط بھی ۔ وہ قرا ۃ العین حیدر کے بڑے پرستار تھے۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ ابتدائی ملاقات تو یہ یہی تھی جو بعد ازاں دوستی میں تبدیل ہو گئی ۔ پھر یہ ہوا کہ میں نے مختلف اوقات میں ان کے پاس جانا شروع کر دیا ۔ کبھی خود ان کا مجھے فون آ جاتا تھا ۔ وہ طویل گفتگو کرتے تھے صبح صبح ابھی میں نیند میں ہوتا تھا تو ان کا مجھے فون آ جاتا تھا ۔ پھر وہ ایک طویل گفتگو کرتے اور آخر میں مجھے خود کہتے کہ یار تم تو ابھی نیند میں ہو میں پھر ٹیلی فون کرو ں گا ۔
اس کے بعد میں نے ان کے گھر جانا شروع کیا، ان کے پاس بیٹھنا شروع کیا ۔ ان کے ڈرائنگ روم میں بہت دیر ان کے ساتھ گفتگو رہتی تھی اور چائے کا دور چلتا تھا۔ ان کے پاس بہت سی کہانیاں تھیں سنانے کے لیے ۔ سو میرا ان کے ساتھ ایک محبت کا سلسلہ قائم ہوا جو اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ ملتان میں رہے ۔ وہ ایک بہت محبت کرنے والے انسان تھے۔ ایک مسکراتے ہوئے ، قہقہے لگاتے زندہ دل انسان ۔ شیدا صاحب محفل کے آدمی تھے اور جب وہ کسی محفل میں ہوتے تھے پھر توجہ کا مرکز بھی وہی رہتے تھے۔ موسیقی اور فلموں سے بھی انہیں بہت شغف تھا ۔ کئی فلم سازوں اور موسیقاروں سے ان کی ملاقاتیں رہیں، جن میں نوشاد اور انل بسواس کے نام قابل ذکر ہیں ۔
انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری مختلف شہروں میں رہے ساہیوال میں وقت گزارا ، سندھ میں بھی تعینات رہے ۔ مشتاق صاحب کی کتاب "میرا کار جہاں" 2016 میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کی تیاری بھی انہوں نے میرے ذمے لگائی ۔ کتاب کا نام بھی انہوں نے قراۃ العین حیدر کی کتاب کے نام سے اخذ کیا ۔ وہ بہت خوبصورت خاکے لکھتے تھے ۔ خاص طور پر زوار حسین اور خالد سعید کے بارے میں ان کے خاکے شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں ۔ مشتاق شیدا کی اس کتاب کو اگر ہم ”مشتاق شیداکا کارجہاں“ قراردیں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کتاب میں انہوں نے وہ سب کچھ جمع کردیا ہے جو ان کی زندگی کاحاصل ہے۔ اس میں خاکے بھی ہیں ، سفرنامے اور خطوط بھی، شاعری بھی ہے اور بہت سے دوستوں کاتذکرہ بھی۔ وہ دوست جو ان کے قریب رہے ۔ شیدا صاحب نے بہت متحرک زندگی گزاری ۔ وہ وکالت کے شعبے کے ساتھ منسلک رہے لیکن ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ کے ساتھ ان کی بے پناہ وابستگی بھی برقرار رہی۔ انہوں نے مختلف ممالک کے سفرکیے، موسیقاروں، اداکاروں، فلمسازوں، مصوروں اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم رہے۔
قرة العین حیدر کواگر مشتاق شیدا کے جیون کامحور قراردیا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ انہیں اس عظیم ناول نگار اور افسانہ نگار کے ساتھ والہانہ محبت بھی تھی اور عقیدت بھی۔ اوراس کا اظہار انہوں نے اپنی تحریروں میں جابجا واشگاف انداز میں کیا ہے۔ مشتاق صاحب معروف ماہر تعلیم ، افسانہ نگار اور محقق ڈاکٹر صباحت مشتاق کے والد تھے۔ 19 اکتوبر 2016 کو وہ اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ جمعرات مورخہ 20 اکتوبر کو مرکزی عید گاہ شمس آباد ملتان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ وہ 1970 میں ملتان آئے اور کم و بیش نصف صدی اسی شہر میں گزار دی ۔ ان کی وفات کے بعد بس ایک بار ہم نے ادبی بیٹھک میں انہیں یاد کیا تھا۔ لیکن پھر انہیں بھی اسی طرح فراموش کر دیا گیا جیسے ہم نے عرش صدیقی سمیت ایسی اور بہت سی شخصیات کو فراموش کیا جو اس شہر کا اثاثہ تھیں ۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)