پارلیمنٹ کی بالادستی کیلیے ایک قدم؟

آئین کی 26ویں ترمیم بالآخر منظور ہوگئی ہے اور اس کی مطابقت میں نئے چیف جج کی تقرری بھی ہو گئی ہے۔ اس ترمیم کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری محض سنیارٹی نہیں، سنیارٹی کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر ہوگی۔

اس سلسلے میں 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں متناسب نمائندگی کے تحت قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ سے 4 ممبران لیے گئے ہیں۔ اس میں حکومت پلس حکومتی اتحادیوں کے، اپوزیشن کے نمائندے بھی شامل کیےگئے ہیں اور یہ کمیٹی سادہ اکثریت سے نہیں ٹو تھرڈ میجارٹی سے اپنی سفارشات پرائم منسٹر کو بھیجے گی۔ چیف جسٹس کی مدت تین سال یا عمر کی حد 65 سال ہوگی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں آئینی بنچ بنیں گے۔ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں آئینی بینچز اور ججز کا تعین کرے گا۔ سوموٹو کا اختیار بھی چیف کی بجائے ان بنچز کو ہوگا۔ عدلیہ کو استدعا سے زیادہ کسی آئینی معاملے پر حکم یا تشریح کا اختیار نہ ہوگا۔ اس آئینی ترمیم پر اپوزیشن پی ٹی آئی کی طرف سے شدید تنقید ہو رہی ہے۔ یہ کہ اب حکومت من مانے فیصلے کروا سکے گی۔ ججز اپنی تقرری کے لیے حکومت کی طرف دیکھیں گے۔ آزاد جوڈیشری کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ جسٹس منصور کے بقول سپریم کورٹ میں روز یہ سوال اٹھے گا کہ یہ کیس عام بینچ سنے گا یا آئینی بینچ؟

پی ٹی آئی نے اسے جوڈیشری کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے اپنے وکلا کی مدد سے احتجاج کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی میں اپنے اراکین کی نامزدگیاں بھی کر دی تھیں۔ یہ بالکل ویسا ہی وتیرہ ہے جو ترمیم کے لیے پیش کیے گئے آئینی مسودے پر اختیار کیا گیا۔ پہلے اسے اپنی مرضی کے مطابق کمزور سے کمزور تر کروایا۔ خود مولانا فضل الرحمن کے الفاظ میں ہم نے کالے ناگ کے دانت توڑ دیے ہیں۔ جب یہ سب کچھ ہو گیا تو اچانک سے ترمیم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا کہ ہمارا بانی نہیں مان رہا۔

درویش کی نظر میں اس نوع کی حرکات ہمارے ملک کے عام آدمی کو کنفیوژ کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ ہمارے عام آدمی کا المیہ یہ ہے کہ وہ گہرائی میں جا پاتا ہے نہ اصل حقائق کی پرکھ یا تحقیقات کرتا ہے۔ اس لیے مفاد پرست لوگ یا گروہ اس کا ذہن خراب کرنے کے لیے طرح طرح کے لایعنی پروپیگینڈے کرتے پائے جاتے ہیں۔

درویش عرض گزار ہے کہ اس ملک یا اس سر زمین کےاصل وارث یہاں بسنے والے عوام ہیں۔ ہماری اجتماعی عوامی طاقت ہی اقتدار کا سر چشمہ ہے لہذا حکمرانی کا حق ان نمائندوں کو ہے جنہیں عوام چن کر پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ کی اتھارٹی یا بالادستی کے سامنے دیگر تمام اداروں یا محکموں کو سرنگوں ہونا چاہیے۔ خواہ وہ خاکی ہوں یا بلیک، یہ سبھی پبلک سرونٹ یعنی عوام کے ملازم یا نوکر ہیں۔ جبکہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ آواز خلق اور نقارہ خدا ہے۔

اس کا تقابل کسی بھی اور ادارے سے کیا جانا ازخود گناہ کبیرہ اور کفر سمجھا جانا چاہیے۔ درویش ان کالموں میں ہمیشہ سے عرض گزار رہا ہے کہ عوامی امنگوں کی ترجمان پارلیمنٹ آئین کی ماں اور انسانی عظمت کی امین و محافظ ہے جو کوئی انسانی عظمت کے سامنے سرنگوں یا سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ اس کا نام شیطان ابلیس ہے ہمارا میڈیا اتنی بڑی ابدی حقیقت ہمارے عوام کو ذہن نشین کیوں نہیں کرواتا؟ ہمارے نیم حکیم جو جمہوریت یا جمہور کی آواز کا ادراک نہیں رکھتے وہ کیوں پارلیمنٹ کا تقابل سپریم جوڈیشری یا کسی یونیفارم سے شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تو انسانیت یا شرف انسانی کی توہین ہے۔ اس کے سامنے کسی توہین عدالت یا بلاسفیمی کی کوئی حیثیت نہیں، جسے شک ہے وہ صبح ازل وقوع پذیر ہونے والے قصہ آدم کی رمز کو سمجھے جب خود خدا نے فرشتوں کو کہا کہ میری بجاۓ آدم کو سجدہ کرو محض احترام نہیں۔ احترام کی آخری ڈگری یعنی "سجدہ کرو" کہا گیا۔ عظمت انسانی کے سامنے سر تسلیم خم ہوجاؤ۔ یونیورسل ٹروتھ یا عالمگیر سچائی یہ ہے کہ پارلیمنٹ پر اگر کوئی قدغن ہے تو محض ہیومن رائٹس کی، اس کے علاوہ اس پر کسی نوع کی کوئی قدغن چاہے وہ کتنے مقدس لبادے میں آئے، آئین جمہوریت اور انسانی عظمت و وقار کی نفی ہے۔

افسوس صد افسوس اس ملک میں پارلیمنٹ کی کوکھ سے پیدا ہونے والے آئین کی پیداوار یا مرہون منت جوڈیشری نے اپنی دادی ماں کو ناکوں چنے چبوائے رکھے۔ یہ ہر موقع پر زور آوروں کی داشتہ بننے پر تو آمادہ و تیار رہی مگر پارلیمینٹ اور اس کی منتخب قیادت کو ہمیشہ آنکھیں دکھاتی پائی گئی۔ منتخب پرائم منسٹر جو عوام کا والی وارث باپ اور قومی قائد ہوتا ہے، سپریم کورٹ نامی منصف ہستی بلا بن کر اسے فائر کرتی رہی۔ کس قانون یا آئین نے اسے یہ حق دیا تھا کہ وہ
تین مرتبہ کے منتخب پرائم منسٹر کو یہ کہتے ہوئے فائر کر دے کہ آپ نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی؟ گیلانی صاحب آپ نے اپنے پارٹی قائد کے خلاف نفرت انگیز خط کیوں نہیں لکھا؟ ہم تمہیں گھر بھیج رہے ہیں۔ 25 کروڑ عوام کے نمائندہ قومی قائد کی یہ تحقیر کہ 17 افراد 25 کروڑ عوام پر حاوی ہو جائیں اگر یہ جوڈیشل ڈکٹیٹر شپ نہیں تو اور کیا ہے؟

درویش نے اس جوڈیشل ایکٹیوازم کے خلاف بہت لکھا، پیہم لکھا۔ شکر ہے آج کسی حد تک شنوائی ہوئی ہے۔ اگرچہ پوری نہیں ہوئی، ملا ملٹری الائنس کا ابدی سایہ بدستور مسلط رہے گا۔ ویسے پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ ٹو تھرڈ کی بجائے سمپل میجارٹی بھی ہو سکتا تھا۔ سنیارٹی تین کی بجاۓ پانچ تک قابل ملاحظہ ہو سکتی تھی۔ اگر اتحاری مان جاتے، ہماری سپریم جوڈیشری میں براجمان ججز نے جوڈیشل ایکٹیوزم کے تحت انتہا کر دی تھی۔ ایک طرف عسکری ڈکٹیٹروں کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے، آمروں کو پوری ڈھٹائی سے وہ اتھارٹی پیش کرتے جس کا استحقاق خود انہیں حاصل نہ تھا۔ دوسری جانب منتخب جمہوری قیادت کے سامنے بادشاہ گر کا روپ دھار لیتے۔ خدا خدا کر کے ایک تحفے سے جان چھوٹتی تو اسی ڈھب کا دوسرا تحفہ جلوہ گر ہو جاتا رہا۔ یہ لوگ خلائی سے بھی بڑھ کر ماورائی مخلوق ثابت ہوئے۔ بندہ پوچھے جج کا کیا کام ہے کہ وہ ڈیم بنانے کے لیے چندے جمع کرے یا کہے کہ میں اس ڈیم کا چوکیدار ہوں۔ ٹماٹروں کی قیمتوں کا تعین بھی میں نے کرنا ہے۔ آئین سازی بھی میں کروں گ۔ا دوسرے لفظوں میں آئین وہ ہوگا جو آٹھ کا ٹولہ بیان کرے گا بلکہ آئین کیا چیز ہے ہم چونکہ جج لگ گئے ہیں، اس لیے ہم جو بھی فیصلہ لکھیں گے وہی آئین ہوگا۔ اس طرح فارن پالیسی بھی وہ ہو گی جو ہم بنائیں گے۔ جج جج کو لگائے گا، سیاستدان کون ہیں ججز لگانے والے۔

آج پارلیمنٹ نے انہیں بتایا ہے کہ سیاست دان منتخب ہوکر عوام کی امنگوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔ حق سچ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کل کو اگر اس نوع کا فیصلہ کر دے کہ پرائم منسٹر کو جو اتھارٹی آرمی چیف کی تعیناتی پر ہے، وہی اتھارٹی چیف جسٹس کو لگانے کی ہوگی تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں بن سکتا۔ خاص ہمارے ملک میں پیدا ہونے والا جوڈیشل آمریت کا کیڑا مارنے کے لیے بہتر ہو کہ کسی وقت لفظ “سپریم کورٹ” کو “فیڈرل کورٹ” میں بدل دیا جائے۔ اب آئینی بنچز کی علیحدگی سے امید کی جا سکتی ہے کہ عوام کے ہزاروں مقدمات جو برسوں سے التوا کا شکار چلے آ رہے ہیں، ان کی بھی کوئی شنوائی ہو سکے گی۔

خبروں میں نمایاں رہنے کیلیے ہمارے ججز کئی دہائیوں سے سیاسی و مفاداتی مقدمات کو ہمہ وقت ترجیح دیتے ہوئے انصاف کا خون کرتے چلے آ رہے ہیں۔
یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کی قائم کردہ اعلی روایات کا امین بنتے ہوۓ پارلیمنٹ کی عظمت کے سامنے سرنگوں رہیں گے۔ قابل ستائش آئینی ترمیم کی منظوری پرتحسین کا حقدار ہر ممبر پارلیمنٹ ہے لیکن یہ معرکہ سر کرنے پر خصوصی شاباش پی پی کے جوان سال لیڈر بلاول بھٹو کا استحقاق ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے جو کاوشیں کیں، بڑوں کا جس طرح احترام کیا اور اسمبلی میں جو خوبصورت تقریر کی اگر یہ سلسلہ انہوں نے یونہی آگے بڑھایا اور بھارت مخالف طفلانہ بیان بازی کو ترک کرتے ہوئے اپنی والدہ مرحومہ کے تدبر کو اپنایا تو ایک دن ضرور قوم انہیں سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنے تدبر سے بے ہنگم پارہ کنٹرول کرتے ہوئے اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا اور تو اور پی ٹی آئی جیسوں سے بھی منوایا ہے۔ اور بلاول نے بھی انہیں اپنا سیاسی باپ قرار دیا۔ انہوں نے خود کو مولانا مفتی محمود اور نوابزادہ نصراللہ خان کا سیاسی وارث کہلانے کا حق ادا کیا۔ علاوہ ازیں باچا خاں کے پوتے ایمل ولی خان کی تقریر بھی قابل تحسین تھی۔ نواز شریف نے اپنے چالیس سالہ کرب کو جس طرح ایک شعر میں سمو دیا، وہ مناسب حال تھا۔
ناز و انداز سے کہتے ہیں کہ جینا ہوگا، زہر دیتے ہیں تو کہتے ہیں پینا ہوگا، جب پیتا ہوں تو کہتے ہیں مرتا بھی نہیں، جب مرتا ہوں تو کہتے ہیں جینا ہوگا۔