ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر حملہ، 10 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

  • جمعہ 25 / اکتوبر / 2024

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے بتایا کہ جمعرات کی رات فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 10 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کنٹرول روم کے اہلکار محمد رؤف نے بتایا کہ حملہ درازندہ روڈ پر زام چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ یہ سڑک خیبرپختونخوا کو بلوچستان کے شہر ژوب سے ملاتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ایک سینیئر انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ حملے میں سات اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز  نے پولیس کے دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔ ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ان کے ایک سینیئر رہنما استاد قریشی کے قتل کا بدلہ تھا۔ پاکستان فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ قریشی اُن نو شدت پسندوں میں شامل تھے، جنہیں افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع باجوڑ میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران مارا گیا۔ اس آپریشن میں دو خودکش حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حملوں سے سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’ہم دہشت گردی کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں اور سکیورٹی فورسز کے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘۔ ڈیرہ اسماعیل خان گذشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہے۔