پاک ہند تعلقات اور نواز شریف
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 25 / اکتوبر / 2024
پاکستان اور ہندوستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنے اپنے خطوں میں بیٹھے حسب استطاعت بارڈر کے اس پار پھول یا بارود برساتے رہتے ہیں۔ لمبی چوڑی چھوڑنے والوں کی بھی کمی نہیں۔
لیکن اگر آپ دونوں اطراف ہر دو خطوں پر ریسرچ کرنے والوں کی تلاش کریں تو آپ کو سخت مایوسی ہوگی۔ شاید ہمارے یہاں مغرب کی طرح اس نوع کا ٹرینڈ ہی نہیں ہے کہ دوسروں کے متعلق اتنی جانکاری لو کہ آپ انہی میں سے ایک دکھنے لگو۔ جو لوگ ایسی صلاحیت حاصل کرتے ہیں، شاید وہی لارنس آف عریبیہ جیسا شاندار یا جاندار رول ادا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کیلیے من مارتے ہوۓ سچی لگن کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے۔
ایس سی او کانفرنس میں انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے ساتھ کچھ بھارتی صحافی بھی پاکستان آئے جن کی خواہش پر لاہور میں ان کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ نواز شریف نے ان سے جو گفتگو کی اس پر کئی صحافیوں کو کچھ حیرت بھی ہوئی جس کا اظہار انہوں نے انڈیا واپس پہنچ کر اپنی رپورٹس میں کیا ہے۔ یہ کہ تین مرتبہ منتخب ہونے والے پردھان منتری نواز شریف نے مودی جی کی تعریف کی اور سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مودی کے متعلق جو منفی باتیں کی تھیں ان پر نواز شریف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس سے پاکستان اور انڈیا کے بگڑے تعلقات میں سدھار کی بجائے مزید خرابی آئی ۔ دونوں ملکوں اور پڑوسیوں کے لیڈروں کو ایک دوسرے کے متعلق بات کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر بہتر شبدوں یا لفظوں کا چناؤ کرنا چاہیے۔
انڈین صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ انڈین وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اچھی شروعات ہے۔ ہم نے پچھلے پچھتر برس کھودیے ہیں اب ہمیں اگلے پچھتر برسوں کے متعلق سوچنا چاہیے۔ پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے ہیں، اس لیے ہمیں اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے۔ دونوں اطراف اگرچہ گلے شکوے ہیں لیکن ہمیں ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ بات ایسے ہی آگے بڑھتی ہے اور جاری رہے تو اثرآفرینی ختم نہیں ہوتی ۔ اگر پرائم منسٹرمودی خود پاکستان تشریف لاتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ میں بھارت سے تعلقات بارے بہت مثبت سوچتا ہوں۔
نریندرا مودی کے دورہ لاہور سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ وہ ایک خوشگوار سرپرائز تھا۔ وہ چاہیں گے کہ مودی باضابطہ طور پر دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں۔ اور ہم نے دھاگے کو جہاں چھوڑا تھا اس کا سرا وہیں سے اٹھانا ہو گا۔ میں نے تو تعلقات ٹھیک کرنے کی بارہا کوشش کی ہے لیکن اس میں بار بار خلل ڈال دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں نواز شریف نے 1999 میں واجپائی کی لاہور یاترا کا بڑے احترام سے تذکرہ کیا جن کے واپس لوٹتے ہی یہاں کارگل کی جنگ چھیڑ دی گئی ۔اس موقع پر اپنے والد کے ساتھ بیٹھی چیف منسٹر پنجاب مریم نواز نے واجپائی اور مودی کے دوروں کو یاد کرتے ہوئے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں بھی بھارت کا دورہ کرنا چاہتی ہوں۔ خصوصاً بھارتی پنجاب کا، جس پر ساتھ بیٹھے نواز شریف نے کہا صرف پنجاب ہی کیوں آپ ہماچل، ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں بھی جائیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ تجارت سرمایہ کاری صنعت و سیاحت جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے کافی امکانات ہیں۔ اس طرح انہوں نے کرکٹ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ اور کہا کہ وہ پرجوش خواہش رکھتے ہیں کہ چیمپینز ٹرافی کے لیے بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آئے۔ کئی انڈین صحافیوں کو نواز شریف کی یہ باتیں سن کر حیرت بھی ہوئی کیونکہ ان میں سے بیشتر پاکستانی سیاست کے اندر کی اصلیت کو نہیں جان۔تے انہیں نہیں معلوم کہ نواز شریف نے اپنی اسی صلح جوئی کی سوچ رکھنے پر بارہا کتنی بھاری قیمت چکائی ہے۔ وہ نوازشریف کے بھائی کو ویسا ہی پرائم منسٹر سمجھ رہے ہیں ۔جبکہ اصلیت میں وہ بھائی ضرور ہے مگر نواز شریف کی مطابقت میں نہیں۔ بلکہ طاقت کے دیگر مراکز سے ہدایات لیتا ہے۔
ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کے بارے میں جب نواز شریف نے اصلیت واضح کی تھی تو اسے ان کے خلاف چارج شیٹ بنا کرخوب اچھالا گیا، یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات میں جب ایک صحافی نے کشمیر میں 370 کے حوالے سے سوال کرنا چاہا تو نواز شریف نے اشارہ کرتے ہوئے اسے منع کیا اور کہا کہ ان مسائل پر بات کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ اس کیلیے حکمت اور طریقے سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت دو طرفہ تعلقات نچلی سطح تک گرے پڑے ہیں، ہر دو ممالک کے ہائی کمشنزر دہلی اور اسلام آباد میں نہیں ہیں، بداعتمادی کا برا حال ہے۔ تجارت تقریباً بند ہے ۔منافرت بھرا پروپیگنڈہ عام ہے۔ اس ابتری کے باوجود یہ خوش کن امر ہے کہ ایس سی او میں جے شنکر کے آنے سے ہلکی سی بہتری کے آثار ابھرے ہیں۔ جیسے کہ بھارت نے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ عالمی تنظیم برکس میں شمولیت کے لیے پاکستان کی حمایت کرے گا۔ واضح رہے کہ اگر کوئی ایک رکن مخالفت کر دے تو یہ ممبرشپ نہیں مل سکتی۔ پاکستان نے عرصہ دراز سے اس میں شمولیت کی درخواست دے رکھی ہے۔ اس کا سمٹ اجلاس روسی شہر قازان میں ہوا ہے جس میں روسی و چینی صدور سمیت پرائم منسٹر انڈیا نریندر مودی بھی شریک ہوۓ ہیں۔
اسی طرح تجارتی حوالے سے بھی بھارت سے درآمدات میں ان مہینوں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں یہ حجم دو کروڑ 23 لاکھ ڈالر تھا جو اس سال دو کروڑ 33 لاکھ رہا ہے۔ پاکستان کی معاشی بدحالی کا یہ حال ہے کہ نگران دور کے چھ ماہ میں 840 ارب کا قرضہ لیا گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت اپنے چھ ماہ میں 5ہزار 552 ارب روپے کا قرضہ اٹھا چکی ہے۔ یہ پڑھتے ہوئے درویش کے کانوں میں انڈین ڈیفنس منسٹر راج ناتھ سنگھ کے وہ الفاظ گونج رہے تھے جو انہوں نے بانڈی پورہ کے کشمیری انتخابی حلقے میں پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے ادا کیے یہ کہ ہم کشمیر کو ترقی دینے کے لیے رقوم بھیجتے ہیں جبکہ دوسری طرف سے اس ترقی کو فنا کرنے کے لیے آتنک وادی بھیج دیے جاتے ہیں۔ جس کے لیے آپ کو دوسرے دیشوں سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں ۔اگر آپ یہ وتیرہ چھوڑ دیں، اچھے ہمسائے بن کر اچھے تعلقات قائم کریں تو انڈیا آپ کو آئی ایم ایف سے طلب کردہ پیکج سے کہیں زیادہ بڑا مالیاتی امدادی پیکج فراہم کر سکتا ہے۔ جس سے آپ کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ میں اپنے تمام پاکستانی دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھ کر آپ لوگوں کو کیا مل رہا ہے؟ آئیے ہم بھائیوں کی طرح مل کر اچھی ہمسائیگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ افسوس ہمارے میڈیا میں ان خوبصورت احساسات کو بھی نیگیٹو اسلوب میں پیش کیا گیا۔ حالانکہ یہ کتنی بڑی سچائی ہے۔
انڈیا کے پہلے پرائم منسٹر پنڈت نہرو کہا کرتے تھے کہ میں پاکستان کو کوئی غیر ملک نہیں سمجھتا۔ اس سے دشمنی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ تو میرے وجود کا حصہ ہے۔ انڈین گریٹ آرٹسٹ دلیپ کمار کہا کرتے تھے کہ تقسیم تو سیاست دانوں کی بنائی ہوئی سیاسی لکیر ہے، میں دونوں کو الگ الگ ممالک نہیں سمجھتا۔ یہ تو ہماری ایک ہی دھرتی ہے۔ پرائم منسٹر مودی کہتے ہیں کہ ہمیں مسابقت اسلحے بارود میں نہیں، غریبی مٹانے میں کرنی چاہیے۔ دوسری طرف پاکستانی سیاستدانوں میں پاک بھارت دوستی امن اور بھائی چارے کے لیے نواز شریف کی خدمات سب سے بڑھ کر ہیں۔ انڈین پترکاروں کو کیا معلوم نواز شریف کو کئی مرتبہ اس انسان نواز اپروچ کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ مگر پھر بھی ان کی ہمت ہے کہ وہ سلامتی و سچائی کی اس راہ پر پورے عزم کے ساتھ گامزن ہیں۔