ایران پر اسرائیل کا جوابی حملہ، دو فوجیوں کی پلاکت
اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملہ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے تہران میں دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور اس کے قریبی شہر کرج میں 5 دھماکوں کی آوازیں سنیں گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کے قریب دھماکے سنے گئے جبکہ تہران پر اسرائیلی حملے کے بعد کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔ ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنا ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران ائیرپورٹ کے قریب دھماکے کے علاوہ دمشق کے دیہی اور وسطی علاقوں میں بھی دھماکے سنے گئے۔ دھماکوں کی اطلاعات پر ایرانی فضائی حدود سے پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ وائٹ ہاؤ س کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں سے کچھ دیر پہلے امریکی صدربائیڈن کو ممکنہ کارروائی سے آگاہ کردیاگیا تھا۔
واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست سینکڑوں میزائل داغے گئے تھے۔ اب تک ایران نے صرف ’محدود نقصان‘ اور دو ایرانی فوجیوں کی ہلاکت سے آگاہ کیا ہے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات ایران کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے میزائلوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایران کی ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ مسافر پروازیں شیڈول کے مطابق اڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایرانی ٹی وی چینلز کے مطابق شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں کے تناظر میں ایران نے کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی اور واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران غیر ملکی جارحیت کے خلاف خود کو اپنے دفاع کا حقدار اور پابند سمجھتا ہے‘۔
دوسری طرف سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے بھی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلم کھلاخلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اور سلامتی کونسل سے امن کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے رات گئے ایران پر فضائی حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میزائل سازی کی تنصیبات، و دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ایک بیان میں نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر اپنے حالیہ حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنا کر حملے کیے۔ ان اہداف میں میزائل بنانے کی تنصیبات، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور دیگر فضائی صلاحیتیں شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر 200 کے قریب بیلسٹک میزائل داغے اور ایرانی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ ’اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو ایران مزید حملے کرے گا۔‘
امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کا جواب نہ دے۔
امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے ایک بار پھر جواب دینے کا فیصلہ کیا تو ہم تیار رہیں گے اور ایک بار پھر ایران کے لیے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ایسا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں کے تبادلے کا اختتام ہونا چاہیے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی قیادت کرنے اور اسرائیل سے پکڑے گئے یرغمالیوں کی واپسی سمیت غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوشش کے لیے تیار ہے۔