اسرائیل کو مؤثر جواب دیا جائے گا: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمٰعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اسرائیل کے حملے کا موثر جواب دینے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حملے کا جواب دینے کے لیے تہران اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔ اس سے قبل ایران نے اسرائیلی حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس سے صرف محدود نقصان ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ’صہیونی ریاست کی جانب سے تہران کے فوجی اہدف پر حملے کا موثر جواب دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جائے گا‘۔ ترجمان نے بغیر کسی وضاحت کے مزید کہا کہ ہمارے رد عمل کی نوعیت اسرائیل کے حملے کی نوعیت پر منحصر ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جوابی فضائی حملوں میں ایران کی میزائل سازی کی تنصیبات سمیت مختلف علاقوں میں دیگر سسٹمز کو نشانہ بنایا ۔ ایرانی فضائی دفاعی فورس نے اسرائیلی حملے میں متعدد فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور چار فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ۔
خیال رہے کہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں 4 فوجیوں کی شہادت اور محدود نقصان کے بعد اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل ہماری طاقت کا غلط اندازہ لگارہا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ایرانی حکام کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ اسرائیل کے سامنے ایران کی طاقت کا مظاہرہ کس طرح کیا جائے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اسریلی حملے کو ’نہ تو کم اہمیت دی جانی چاہئے اور نہ ہی بڑھا چڑھا کر بیان کرنا چاہیے‘۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو ایران نے لبنان میں اپنی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر 200 بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔