جسٹس یحییٰ آفریدی کیلئے چیلنجز؟
- تحریر انصار عباسی
- سوموار 28 / اکتوبر / 2024
یحییٰ آفریدی پاکستان کے نئے چیف جسٹس بن گئے۔ اُن کے ماضی اور اُن کی شہرت کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن اُن کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے جس کا نتیجہ تین سال کے بعدنکلے گا جب وہ ریٹائر ہو ں گے اور جس کی بنیاد پر اُنہیں یاد رکھا جائے گا۔ اُن کے پاس ہونے یا فیل ہونے کا فیصلہ ہو گا۔
ججوں نے سیاست بہت کر لی۔ آزادی اور ’نہ جھکنے والے، نہ ڈرنے والے‘ سچے یا جھوٹے تاثر کے تمغے بھی کچھ نے اپنے سینوں پر سجا لیے اور کچھ یہ تمغے سجانےکیلئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے فیصلوں میں شیکسپیئرن انگریزی لکھنے، انگریزی ناولوں کا ذکر کرنے اور یہ تاثر دینے کہ میرے جیسا کوئی نہیں کا مقابلہ بھی دیکھ چکے۔ اب خدارا اپنا بنیادی کام بھی کر لیں۔ نئے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ عدلیہ کو اپنے اصل کام یعنی عوام کو جلد اور سستا انصاف دینے پر بھی لگا دیں۔
اب ٹی وی چینل کے ٹِکرز اور بریکنگ نیوز کو بھول کر اس ملک کے عوام کو انصاف دیں۔ لاکھوں مقدمات جو عدالتوں میں سالہا سال اور دہائیوں سے پڑے ہیں اُن کا فیصلہ کریں۔ لوگ جو کورٹ کچہری کا نام سن کر ڈرتے ہیں اُن کا پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد بحال کریں۔ ہمیں سیاسی جج نہیں چاہئے، ہمیں وہ جج چاہئے جو عوام کو جلد انصاف دے۔ یہ وہ اصل چیلنج ہے جس کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سامنا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ پر کسی کو اعتماد نہیں۔ اگر ایک طرف عوام اپنے عدالتی نظام سے بہت مایوس ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر میں بھی ہماری عدلیہ آخری نمبروں پر آتی ہے۔
چند روز قبل رول آف لا کی رپورٹ برائے سال 2024 میں 142 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 129واں رہا۔ جس کا مطلب ہے کہ ہمارا حال بہت ہی بُرا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے جس طرح ہماری اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج ایک دوسرے کو اپنے عدالتی فیصلوں اور خطوط کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں اُس کی وجہ سے عدالت ِعظمیٰ اور اس کے ججزکے احترام میں بہت کمی ہوئی ہے۔ اس نے ججوں اور اعلیٰ عدلیہ پر لوگوں کو جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا ہے۔ یعنی جج خود اپنے آپ کااور عدلیہ کے مذاق کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایسے خط (جن کو فوری طور پر میڈیا کو لیک کیا جاتا ہے) لکھنے کا رواج سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے شروع کیا اور اب تو اتنا رواج پا چکا ہے کہ آئے روز ایک جج دوسرے جج کی پوری دنیا کے سامنے ایسی تیسی کر رہا ہوتا ہے۔
قاضی فائز عیسٰی کی ریٹائرمنٹ کے روز جسٹس منصور علی شاہ نے جو خط لکھا اور اُس میں جس قسم کی زبان استعمال ہوئی اُسے پڑھ کر افسوس بھی ہوا۔ اس خط میں جسٹس منصور نے قاضی فائز عیسٰی کی ایسی تیسی کی جس پر بہت سے لوگ خوش ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے اس بات پر حیران بھی ہوئے کہ جسٹس منصور نے یہ کیا خط لکھا۔ کیسی زبان استعمال کی اور کس موقع پر ایسا کیا۔ کسی کیلئے اس خط نے اگر فائز عیسیٰ کو ایکسپوز کیا تو دوسروں کیلئے ایسا کرنے سے جسٹس منصور خود ایکسپوز ہو گئے۔ بہت اچھا ہو کہ نئے چیف جسٹس اعلیٰ عدلیہ میں اس رجحان کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام اُٹھائیں اور ایسے خطوط کو لکھ کر اُنہیں میڈیا کو لیک کرنے پر فوری پابندی لگائیں۔
آپس کے اختلافات کو بند کمرے میں آپس میں بیٹھ کر حل کریں بجائے اس کے کہ دنیا بھر کے سامنے اپنا ہی تماشہ بناتے رہیں۔ کچھ عرصہ سے ہماری اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ بہت بُری طرح سے تقسیم ہے۔ جج سیاست دانوں سے زیادہ سیاسی بن چکےہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا یہ بھی چیلنج ہو گا کہ وہ کس طرح ججوں کو سیاست سے پاک کرتے ہیں۔ جس نے سیاست کرنی ہے وہ جج کے عہدے سے استعفیٰ دے اور کھل کر سیاست کر لے۔ جج ہو اور اُسے دیکھ کر ہی پتا چل جائے کہ یہ کس سیاسی جماعت کے حق میں اور کس سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ کرے گا تو پھر ایسے ججوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ آیا وہ اپنے کام اور اپنے حلف سے انصاف کر رہے ہیں کہ نہیں۔
ایسے جج اگر اپنی سیاست نہیں چھوڑتے تو اُن کیلئے عدلیہ کی بجائے باقاعدہ سیاست کے میدان کا راستہ ہموار کرنے کا طریقہ کار بھی نئے چیف جسٹس کو سوچنا چاہئے۔ تاکہ ہماری عدالتوں میں منصفوں کی جگہ کوئی سیاستدان نہ بیٹھا ہو۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)