پی ٹی آئی کی امید: ٹرمپ، وکلا یا عوامی کراؤڈ
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 31 / اکتوبر / 2024
آج ارادہ تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی ریٹائرمنٹ پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا تھا لیکن پہلے سپریم کورٹ بار کے الیکشن میں حامد خان گروپ کی شکست اور عاصمہ جہانگیر گروپ کی فتح کے وکلا برادری اور پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک پر اثرات کا جائزہ۔
چھبیسویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کا غم و غصہ چھپائے نہیں چھپ رہا تھا وہ اپنے منحرفین کے خلاف کارروائیوں کے لیے ہی باولے نہیں ہو رہے تھے، کئی مجبوریاں آڑے نہ آرہی ہوتیں تو وہ مولانا فضل الرحمن کو بھی ڈیزل ڈیزل کہتے ہوئے ان کی ریش مبارک جا پکڑتے۔ لیکن اتنی بے بسی ہے کہ وہ ان کی شان میں بولنے پر مجبور ہیں۔ حامد خان ایڈوکیٹ 29 اکتوبر کو سپریم کورٹ بار کی چیئرمینی حاصل کرتے ہوئے 26ویں ترمیم کے خلاف وکلا کی احتجاجی تحریک چلانے اور پورے سسٹم کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں کھلے بندوں میڈیا کے سامنے دے رہے تھے۔ حامد خان تو پھر بھی بااصول اور بھلے انسان ہیں، سلمان اکرم راجہ کی شعلہ بیانیاں تو ان سب پربازی لے جانے کے لیے تمام حدود و قیود پار کر رہی تھیں کہ نہ جانے 26ویں ترمیم نے جیسے آئین قانون اور انصاف کا کریا کرم کر ڈالا ہے، سلمان راجہ جیسے لوگ ایک طرف خود کو قانون دان اور دانشور کہلوانے کے لیے بے چین رہتے ہیں، دوسری طرف ان کا اسلوب شدت و دہشت کے علمبرداروں جیسا دکھتا ہے۔ اس پس منظر میں وکلا برادری نے عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں رؤف عطا کو چیئرمین سپریم کورٹ بار منتخب کرتے ہوئے گویا اعلان کر دیا کہ:
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوانے کام کیا
میر اس بیماریء دل نے آخر کام تمام کیا
بیچاروں کو سمجھ نہیں آرہی، کس کو گالیاں دیں؟ اور کس کے خلاف منافرتوں کے طوفان اٹھائیں؟ ان کے معتوب عدالتی چیف باوقار ریٹائرمنٹ کے بعد لندن کی مڈل ٹیمپل بار کے بینچر بن کر عالمی ایوارڈ و ستائیش و توقیر حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے طاقتور ادارے کے چیف پر بھڑاس کا طوفان قہر درویش کی طرح بر جان درویش ہی رہ جاتا ہے۔ ایسے میں عوامی جہادی پارٹی چار ٹکڑوں میں بٹتی دکھتی ہے۔ شاید اسے سنبھالنے کے لیے ہی اندر خانے مک مکا کرتے ہوئے نئی قیادت بشری بی بی کا ظہور ہوا ہے۔ یوں گنڈاپور کا پلڑا براستہ اسٹیبلشمنٹ بھاری رہے گا۔ ویسے اس میں قباحت بھی کیا ہے؟ جب بیگم صاحبہ پر سب کا ایکا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ پارٹی میں گروپنگ بھی دب جائے گی۔ شاید بہنیں بھی پیر خانے کی بیعت کر لیں۔ لیڈروں کے قید ہونے پر بیگمات پہلے بھی اس نوع کا فریضہ ادا کرتی رہی ہیں۔
ہمارے قدر آور قومی سیاستدان خان عبدالولی خان، بھٹو کی حکمرانی میں گرفتار ہوئے تو ان کی بیگم نسیم ولی خاں میدان میں یوں نکلیں کہ قیادت کا حق ادا کر دیا۔ لوگ بیگم نسیم کے سامنے ولی خان کو بھول گئے۔ اس طرح بھٹو قید ہوۓ تو نصرت بھٹو ان کی نصرت کو نمودار ہوئیں۔ نواز شریف قید ہوئے تو بیگم کلثوم نواز نے حکمرانوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کے لیےاحتجاجی تحریک کا حق ادا کر دیا۔ ان کی گاڑی کو ان سمیت کرین نے اٹھا لیا تب بھی وہ نہ گھبرائیں۔ آج وقت نے یہ ذمہ داری ہماری پنکی پیرنی صاحبہ پر ڈال دی ہے تو وہ برقعہ سمیت اس کا حق ادا کریں گی۔ اور یہ ثابت کر کے دکھائیں گی کہ حجاب چاہے ٹوپی والے برقعے جیسا کیوں نہ ہو وہ ہماری اسلامی خواتین کی ترقی اور جدوجہد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ آج وہ ایک مرتبہ پھر علی برادران کی بی اماں والی یادیں تازہ کرنے پر تیار بیٹھی ہیں۔ علی برادران کی ماں کس قدرگرج کر تحریک خلافت کی قیادت کیا کرتی تھیں اور تحریکی کارکنان ان کے نعرے جپتے تھے "بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پر دے دو" کے مصداق آج ہماری پی ٹی آئی کے نوجوان یعنی یوتھیا بھائی اپنی بی اماں کی قیادت میں کچھ اسی نوع کی تحریک چلائیں گے، یوں اپنے قائد جناح ثالث کو اڈیالہ جیل سے باہر لے آئیں گے۔
فی الحال تو یہ احتجاج لندن میں ہمارے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کی قیادت بانی پی ٹی آئی کے یار غار زلفی بخاری فرما رہے ہیں۔ اور کارکنان زلفی بخاری سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو اعتماد میں لے کر ایک دن ضرور ٹرمپ پر بھی اثر انداز ہو جائیں گے بشرطیکہ ٹرمپ پانچ نومبر کو ہونے والے الیکشن جیت گئے۔ ایسی صورت میں بیس جنوری بہت زیادہ دور نہیں لگے گی جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارت کا حلف اٹھائیں گے۔ پھر جب وہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھیں گے تو کسی دن ان کے داماد جیرڈ کشنر انہیں یاد دلائیں گے کہ جنوبی ایشیا کے ایک ملک پاکستان میں ان کا دوست کرکٹ کا کھلاڑی حکومتی قید میں ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ حکومت پاکستان کو حکم جاری فرمائیں گے کہ آپ کی عدالتیں جو بھی کہتی ہیں، آپ میرے دوست کھلاڑی کو رہا کر دیں۔ اس کے بعد ان کی رہائی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ پھر بھی اگر پاکستان میں طاقتوروں نے کوئی ایسی ویسی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تو ٹرمپ کہیں گے کہ تم لوگ ہمیشہ امریکا سے یہ گزارش کرتے رہے ہو کہ دہشت گردی کے سنگین جرم میں سزا یافتہ ہماری پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کی سزا معاف کرتے ہوئے اسے رہا کر دیا جائے تو ٹھیک ہے ہم ڈیل کرلیتے ہیں۔ تم ہمارا بندہ چھوڑ دو، ہم آپ کی بندی چھوڑ دیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ اس زلف پہ پھپتی شب دیجور کی سوجھی،
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی۔
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہی ہوا کہ نہ ہوگا نو من تیل نہ رادھا ناچے گی۔ یہ ٹیڑھی کھیر اس لیے بھی سیدھی ہوتی نہیں دکھتی کہ پانچ نومبر کے انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے امکانات خاصے کم ہیں۔ کملا دیوی کی جیت کے چانسز اس وقت زیادہ روشن ہیں۔ جبکہ آپ لوگوں نے اپنے سارے انڈے ٹرمپ کی ٹوکری میں ڈال رکھے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ جیسے رنگ بدلتے لاابالی لیڈر کی غیر یقینی جیت کے علاوہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ آپ کے لیڈر کو چھڑوانے کے لیے اتنا بے چین ہو جائے گا۔ جبکہ سفارت کاری میں حکومتیں، حکومتوں سے تعلق کو ترجیح دیتی ہیں، نہ کہ ہارے ہوئے قیدی سے تعلقات کو۔ اور پھر ٹرمپ تو خود ایسا ناقابل بھروسہ من موجی ہے کہ 90 کے زاویے پر پینترا بدلتے ہوئے شمالی کوریا جا پہنچتا ہے۔ اور نامی گرامی ڈکٹیٹر کے متعلق بولتا ہے کہ یہ میرا دوست ہے اور پھر رات گئی بات گئی۔
ہمارے پی ٹی آئی کے دوستوں کا اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے مطلوبہ عوامی احتجاج کا دباؤ موثر نہیں بنا پا رہے ہیں۔ 26ویں ترمیم کے بعد سب نے 29 اکتوبر کو سپریم کورٹ بار کی صدارت جیت کر جس وکلا تحریک کا خواب دیکھا تھا، وہ تو چکنا چور ہو گیا۔ اب پی ٹی آئی کاایک لیڈر میڈیا میں یہ کہتا پایا جا رہا ہے کہ اگر تین لاکھ عوام کسی طرح میرے ساتھ باہر نکل آئیں
تو میں ڈی چوک کے راستے حکومت پر ایسے ہی حملہ آور ہوجاؤں گا جس طرح بنگالی سٹوڈنٹس ڈھاکہ میں اور افغان سٹوڈنٹس کابل میں ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہم اپنے خان کو اڈیالہ جیل سے ڈائریکٹ پرائم منسٹر ہاؤس لے آئیں گے۔ یہ کتنا خوبصورت خواب ہے۔ اور خواب دیکھنے چاہئیں چاہے دن کے اجالے میں ہوں۔