اسپیکر نے جوڈیشل کمیشن کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام بھجوادیے

  • ہفتہ 02 / نومبر / 2024

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔ جوڈیشل کمیشن کیلئے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے۔

علاوہ ازیں سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی سینیٹر و اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں۔ ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔

ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی مساوی نمائندگی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔

26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے۔  آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔ کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔