امریکی الیکشن میں ٹرمپ کی چنگھاڑ اور کاملا پرجوش
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 02 / نومبر / 2024
مرزاغالب نے یہ شعر "کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب، شرم تم کو مگر نہیں آتی"کہا تو خود کے لئے تھا لیکن اکثرآج بھی لوگ جب کسی بے شرم انسان سے عاجز ہوجاتے ہیں تو غالب کے اسی شعر کویاد کر کے اور کہہ کر کچھ پل کے لئے دل کو تسلی دے لیتے ہیں۔
سورۃ اَل عمران کی آیت کا "وَتُعِزُّ مَن تَشَآ ءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآء"ُ، کو آپ نے اکثر لوگوں کو دہراتے ہوئے سنا ہوگا۔اس پوری آیت 26میں اللہ کہتا ہے کہ" آپ کہہ دیجئے، اے اللہ!اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے"۔ ہمارا عقیدہ بھی ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن کچھ لوگ اپنی دولت، مغروریت اور طاقت کے نشے میں اتنے چور رہتے ہیں کہ انہیں اپنی عزت کی پرواہ ہی نہیں ہوتااور وہ فرعون بن کر اپنی مرضی کے مطابق کمزور اور مظلوموں پر ظلم کرنا محض اپنی ضد،انا اور وقار سمجھتے ہیں۔لیکن اسی انسان سے جب اس کا عہدہ اور طاقت چھن جاتی ہے تو اسے ذلیل و خار ہونا پڑتا ہے۔ جس سے اس کی کافی رسوائی ہوتی ہے۔ تاہم وہیں کچھ لوگ ذلیل و خار ہو کر بھی رسوائی کو محض ایک الزام سمجھتے ہیں اور بے حیائی سے دوبارہ سامنے آکر اپنی صفائی توڑ موڑ کرپیش کرنے لگتے ہیں۔
بچپن سے ایسی باتوں کو پڑھ کر اور سن کر جوان ہؤاکہ طاقت کے نشے میں اور عہدے کی شان سے فلاں شخص نے ایسے ایسے فرمان جاری کئے یا ایسی حرکتیں کیں کہ لوگ مارے خوف اپنی زندگی گزارتے تھے۔ان میں فرعون ایک ایسا نام ہے جس کی مثالیں آج بھی لوگ دیتے ہیں۔ لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہر صدی میں ظلم و جبر کرنے والے حکمراں پیدا ہوتے رہے ہیں۔پھر لوگوں نے ان حکمراں کے نظریے کو اپنایا اوراس کی حمایت بھی کی۔ اور اس طرح آج تک دنیا بھر میں بہت سارے حکمراں اپنے عہدے اور طاقت کی بنا پر دنیا کی امن کو نیست و نابود کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔
یوں تو دنیا کے زیادہ تر ممالک میں الیکشن ہوتا ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے وہاں کاا لیکشن توجہ کا مرکز بھی بنتا ہے۔لیکن امریکہ ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں الیکشن سے قبل سے ہی اس کے امیدوار، نتائج اور اس کے اثرات کا چرچہ مہینوں قبل شروع ہوجا تا ہے۔جس کا اثر دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں پر براہ راست یا با لواسطہ طور پر ہوتا ہے اور عام لوگوں میں اس کی دلچسپی خوب پائی جاتی ہے۔اور دلچسپی کیوں نہ ہو اگر دیکھا جائے تو دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں میں امریکہ اپنی ٹانگ ضرور اڑاتا ہے چاہے وہ سیاسی جھگڑا ہو یا انسانی حقوق کی بات امریکہ بطور سردار شامل ضرور ہوتا ہے۔ اور امریکہ ٹانگ کیوں نہ اڑائے جب دیگر ممالک کے حکمراں یا سیاستداں احمق اور نا ہل ہوں تو ظاہر سی بات ہے امریکہ جسے دنیا ایک تعلیم یافتہ، معاشی فعال اور طاقتور ملک مانتی ہے تو اسے دوسروں کے معاملات میں تو دخل اندازی کرنی پڑے گی۔
آئیے آج امریکی الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ امریکی الیکشن میں کیا اتار چڑھاؤ ہورہا ہے اور کون کس پر بھاری ہے۔ہم اور آپ اس بات سے واقف ہیں کہ 5 نومبر کو امریکہ میں الیکشن ہونے والا ہے اور اس میں دو امیدوار وں کے درمیان زبردست مقابلہ بھی ہونے والا ہے۔ ایک طرف ریپبلیکن کے امیدوار، مالدار بزنس مین اور عقل سے عاری سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں تو دوسری طرف ڈیموکریٹِک پارٹی کی امیدوار نائب صدر کاملا ہیرس ہیں۔تا ہم معذرت کے ساتھ آج کے کالم میں دونوں امیدواروں کا تعارف کرانا ناممکن ہے۔
امریکی الیکشن 2024میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کمیلا ہیرس کی لڑائی ممکنہ طور پر اہم ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور 2017سے 2021تک صدر رہے اور 2024میں دوبارہ صدر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف کاملا ہیرس موجودہ نائب صدر ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ مقابلہ امریکی سیاست میں بہت دلچسپ ہے کیونکہ ٹرمپ کی واپسی اور ہیرس کی تاریخ ساز کامیابی نے امریکی عوام میں مختلف نظریات کو جنم دیا ہے۔ حسبِ معمول ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی امیدواری کے انتخاب کے دوران کئی متنازعہ اعلان کیے کہ اگر وہ امریکہ کے صدر دوبارہ منتخب ہوئے توپناہ گزینوں کو امریکہ آنے پر پابندی لگا دیں گے۔اس کے بعد وہ میکسیکو کے لوگوں پر بھی برس پڑے۔ یہ تو میں نے صرف دو احمقانہ اور حساس نکات آپ کو بتا ئے ہیں۔ اگر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر اور بیان کو لکھنا شروع کردوں تو شاید آج کے کالم کا موضوع ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی الٹی پلٹی باتیں ہوجا ئے گا۔جو کہ قاری کے لیے شاید ذہنی اذیت کاسبب ہوجائے گا۔
فی الحال امریکی عوام کی رائے اور ایکزِٹ پول کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کاملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ برابری کا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ کاملا ہیرس کے درمیان مقابلہ ہمیشہ کی طرح سخت ہے۔تاہم ایسا بھی قیاس لگایا جارہا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اتنے لوگوں کی حمایت نہیں ہے کہ وہ امریکہ کے صدر دوبارہ بن جائے۔ہر بار کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بوکھلاہٹ میں امریکی میڈیا پر الزام لگا رہے ہیں کہ امریکی الیکشن میں میڈیا دھاندلی کر رہا ہے۔وہیں کاملا ہیرس بھی اپنی جیت کے امکان سے کافی پر جوش ہیں۔
کاملا ہیرس نے اپنی رفیوجی کی پالیسی کے دفاع میں کہا کہ وہ بالکل چاہتی ہیں کہ امریکہ میں رفیوجیوں کا خیر مقدم کرنا چاہئے اور یہ ہماری ذمہّ داری ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو امریکہ آنے پر پابندی لگا دیں گے۔ ہیرس نے اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ جب کہ ہمارا ملک مذہب کی آزادی اور لوگوں کی نجی آزادی پر قائم ہوا ہے۔
تکنیکی طورپر امریکہ کا صدر بننے کے لئے امریکہ میں پیدا ہونا لازمی ہے۔اس کے علاوہ امیدوارکی عمر 35سال ہونی چاہئے۔حقیقت میں اگر دیکھا جائے1933کے بعد جتنے بھی صدر چنے گئے ہیں وہ یا تو گورنر، سینیٹر، یا ملٹری جنرل رہے تھے۔لیکن 2016 کے بعد پہلی بار ایک دولت مند ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قسمت آزمائی تھی اور وہ صدر بن گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کا صدراتی ا میدوار بننا اور ان کی اوٹ پٹانگ باتوں سے صرف امریکہ کے لوگ ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ ان کی باتوں سے دنیا کے تمام ممالک کے لوگ پریشان ِ حال ہیں۔ آئے دن وہ ایسی احمقانہ اور جارحانہ بات کہہ جاتے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ ایسی حرکت محض صدر بننے کے لئے کر رہے ہیں یا وہ واقعی دنیا کو اپنی جارحانہ پالیسی سے آگ میں جھونک دیں گے۔
امریکی الیکشن میں اب چند دن رہ گئے ہیں لیکن جوں جوں وقت قریب آرہا ہے توں توں الزامات میں بھی تیزی آتی جارہی ہے۔ ایسا پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے جب امریکی امیدوار تہذیب اور اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی حمایت کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حربے کو استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔زیادہ تر لوگ ڈونلڈ ٹرمپ سے خوف زدہ ہیں کیونکہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر ہوئے تو اللہ ہی خیر کرے کیونکہ آنے والا ہر دن دنیا کیلئے ایک رنگین اور غضب ناک دن ہوگا۔ وہیں کاملا ہیرس سے بھی لوگ مایوس ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی بطور نائب صدر مایوس کن رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ 5 نومبر کو امریکی عوام کس کو اپنا صدر منتخب کریں گے۔میں تو امریکی الیکشن کو زیادہ تر لوگوں کی طرح ایک شیدائی کے طور پر دیکھ رہا ہوں اور ایسا محسوس کر رہاہوں کہ دنیا کے جنگل کے دو خطرناک اور بد نام جانور ایک شیر اور ایک بھیڑیا اپنے شکار کی تاک میں بیٹھا اپنی باری کا انتطار کر رہا ہے جس سے آخر کار مارا معصوم انسان ہی جائے گا۔