انتظار پنجوتھا کا اغوا اور بازیابی : حقیقت کیا ہے؟

تحریک انصاف کے وکیل انتظار پنجوتھا کی اچانک بازیابی کے بعد  حکومت اور ملکی اداروں  پر تنقید اور بداعتمادی ظاہر کرنے  کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریک انصاف  نے اس  وقوعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے  کا مطالبہ کرتے ہوئے  عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی لاقانونیت پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔ پی ٹی آئی کے علاوہ سول سوسائیٹی   کے نمائیندوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے بھی  پولیس کی کہانی کو جھوٹ اور ڈرامہ قرار دیا ہے۔

خبروں کے مطابق اٹک پولیس نے ایک مشکوک گاڑی کو روکا تو اس میں سوار لوگ فائرنگ کرتے ہوئے گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس کو اس گاڑی میں ایک شخص ملا جس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ وہ  8 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغوا ہونے والے وکیل انتظار پنجوتھا تھے۔ اٹک پولیس نے انہیں تحویل میں لے کر اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ جبکہ   اغوا ہونے والے وکیل کے بھائی نعیم حیدر پنجوتھا نے  ایکس پر ایک پوسٹ میں  بتایا ہے کہ ’انتظار بھائی سے ابھی فون پر بات ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ تھوڑی دیر تک ہمارے پاس پہنچ جائیں گے‘۔

اتوار کو رات گئے تک البتہ ان کے گھر پہنچنے  یا رہائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کی کوئی خبر سامنے نہیں آسکی تھی۔ اس خبر پر تحریک انصاف  کے تمام لیڈروں نے شدید شبہات کااظہار کیا اور کہا ہے کہ  یہ واقعات ملکی عوام کے  جانے پہنچانے ہیں۔ ملکی عدالتوں کو ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث  عناصر کی نشان دہی کرکے انہیں سزائیں دینے کا اہتمام کرنا ہوگا ورنہ یہ سلسلہ رک نہیں پائے گا۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا  جبران ناصر اور ایمان زینب مزاری حاضر نے بھی اس بازیابی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایجنسیوں کی کارستانی قرار دیا اور کہا کہ جبری طور سے لوگوں کو غائب کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔

اس نکتہ چینی میں زیادہ شدت اس  اطلاع کی بنیاد پر دیکھنے میں آئی ہے کہ یکم نومبر کو  اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان   نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انتطار پنجوتھا کو اگلے 24 گھنٹوں میں بازیاب کرا لیا جائے گا۔  اتفاق سے وہ کل رات اٹک کے علاقے میں بازیاب کرا بھی لیے گئے۔ اگرچہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ   یہ بازیابی  حادثاتی طور سے  ہوئی کیوں کہ پولیس  نے ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں سوار مشتبہ لوگ پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے البتہ   وہ جس مغوی کو پولیس اور قانون سے چھپا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لیے پھرتے تھے، اسے گاڑی میں ہی چھوڑ گئے۔ پولیس کی جاری کردہ ویڈیو  میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کارروائی  میں بازیاب ہونے والے شخص کی حالت خستہ ہے اور اسے اپنا نام بتانے میں بھی دشواری ہورہی ہے۔   ناقدین کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والا شخص اپنا پورا نام نہیں بتا پارہا تھالیکن اس موقع پر موجود پولیس  اہلکار  اونچی آواز میں ان کا پورا نام دہراتا ہے۔ یہ نکتہ سامنے  لانے والوں کا الزام ہے کہ  پولیس کو معلوم تھا کہ وہ کس شخص کو بازیاب کرانے کی خبر سامنے لارہے ہیں اور نامعلوم ملزمان اور پولیس پر فائرنگ کی خبریں ’جھوٹ اور ڈرامہ بازی‘ ہے۔

اس نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے پولیس ترجمان کا کہنا ہے  کہ اگر ویڈیو کو  غور سے دیکھا اور سنا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ انتظار پنجوتھا نے خود اپنا پورا نام بتایا  تھا۔ اس حوالے سے جھوٹی خبریں   چلانے اور پولیس پر الزام تراشی کرنے والے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔  البتہ پولیس  یہ وضاحت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ ایک سنگین  اور خطرناک  پولیس ایکشن کے بعد   ، جس میں  نامعلوم ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے  فرار ہوگئے تھے، پولیس اہلکار بازیاب ہونے والے شخص  کے ہاتھ کھولنے ، اسے طبی سہولت فراہم کرنے اور اس کے ساتھ بیتی ہوئی واردات  کی تفصیل کو قانونی طریقے سے درج کرنے کی بجائے ،  موقع پر ایک ہراساں شخص کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو  نشر کرنے میں کیوں دلچسپی رکھتے تھے۔  جس رینک کے پولیس اہلکار اس کارروائی میں شریک ہوں  گے، عام طور سے پولیس  کا محکمہ اس عہدے کے افسروں کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا  بلکہ کوئی ذمہ دار افسر ہی تمام حالات و واقعات کی رپورٹ لینے کے بعد مناسب طریقے سے اس کے بارے میں خبر عام کرتا ہے۔

اس معاملہ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ ویڈیو بنانے والے اہلکار ایک طرف تو یہ ظاہر  کررہے ہیں جیسے  وہ انتظار پنجوتھا سے واقف نہیں ہیں  بلکہ اچانک ایک کارروائی میں وہ بازیاب ہوگئے تو انہوں نے ان سے نام پوچھا اور ویڈیو  سوشل میڈیا  پر لگا دی۔ البتہ خاص طور سے اس کارروائی کی ویڈیو عام کرنے کی عجلت سے ہی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس اس معاملہ میں اتنی معصوم یا بے خبر نہیں تھی۔ اسے بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ انتظار پنجوتھا کون ہیں اور ان کے اغوا کے بارے میں گزشہ تین ساڑھے تین ہفتوں کے دوران میں پریشانی و تشویش  کا اظہار سامنے آتا رہا تھا۔ یا تو پولیس  صاف طور سے یہ اعتراف کرلیتی کہ اسے معلوم تھا کہ بازیاب ہونے والا شخص ملک کا مشہور وکیل تھا ، اسی لیے اہلکار اس کی بازیابی کی خبر کو جلد از جلد سامنے لانا چاہتے تھے۔  البتہ ایک طرف یہ ظاہر کرکے کہ یہ تو  ایک عام شہری تھا اور پولیس اہلکاروں کو اندازہ نہیں تھا کہ  اس ایکشن میں  دستیاب  ہونے والا شخص کون تھا اور دوسری طرف اس خبر  کو پھیلانے کی عجلت کی وجہ سے بدگمانی پیدا ہونا فطری ہے۔

اسی حوالے سے ایک دوسری ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ہے جس میں کوئی اہلکار  انتہائی کرخت اور تیز  طرار آواز میں انتظار پنجوتھا سے سوالات کررہا ہے کہ وہ کون ہیں، وہ کیا کرتے ہیں، ان کا تعلق  کس علاقے سے ہے، انہیں کیوں اغوا کیا گیا اور اغوا کرنے والوں کا مطالبہ کیا تھا۔  ویڈیو میں انتظار پنجوتھا انتہائی نحیف آواز میں اور بدحواسی کے عالم میں سوال  سمجھنے اور ان کا مختصر جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ اس قدر پریشان اور دباؤ کا شکار دکھائی دہتے ہیں کہ وہ سوال کرنے والے سے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ وہ کس حیثیت میں ان سے سوال جواب کررہا ہے۔ اور  یہ کہ اس بیان کی ویڈیو کیوں بنائی جارہی ہے۔ انتظار پنجوتھا ایک ممتاز قانون دان  ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے عمران خان کے متعدد مقدمات میں پیروی کرتے رہے ہیں اور مختلف  ٹی  وی ٹاک شوز میں گرجدار آواز میں تحریک انصاف کا مؤقف پیش کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔ البتہ طویل مدت  تک  اغو ا رہنے کے بعد انہیں بات کرتے ہوئے شدید مشکل  پیش آرہی تھی۔

انتظار پنجوتھا نے اس ویڈیو میں جو معلومات فراہم کیں، ان کے مطابق اغوا کار انہیں مختلف مقامات پر   گھماتے رہے تھے اور ان سے   رہائی کے لیے دو کروڑ روپے مانگے جارہے تھے۔  اس بیان کی روشنی میں بھی یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ایک سنگین جرم کا نشانہ بننے والے ایک  ممتاز وکیل کے ساتھ اس انٹرویو کے موقع پر قانونی طریقہ کے مطابق پولیس نے انتظار پنجوتھا کے کسی وکیل کو بلانے  اور معاونت کرنے کا طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا۔ کیا وجہ ہے کہ اس ابتدائی ’پوچھ گچھ‘ کی بھی ویڈیو بناکر نشر کی گئی۔  اگر یہ کارروائی ضروری بھی سمجھ لی جائے تو بھی اس بات کا کیا اخلاقی یا قانونی جواز پیش کیا جائے گا کہ طویل مدت تک  مجرموں کے چنگل میں رہنے والے ایک شخص کو کوئی سہولت بہم پہنچانے، ان کے خاندان والوں سے ملانے، طبی معائنہ کرانے  یا انہیں میڈیکل سہولت مہیا کرنے کی بجائے پولیس کو یہ بیان ریکاڈ اور نشر کرنے کی جلدی کیوں تھی۔

پولیس   کی ہر بات کو اگر درست مان بھی لیا جائے تو بھی اسے اس بات کا بہر حال جواب دینا ہوگا کہ جب ایک مشکوک گاڑی کے مجرم فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہورہے تھے تو پولیس اہلکاروں نے فوری طور سے امداد کیوں طلب نہیں کی اور ناکہ بندی کرکے فرار ہونے والے  ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ کیا محض اس ’کامیابی‘ پر  پولیس کی توصیف کی جائے کہ اس نے ایک اغوا شدہ شخص کو  بازیاب کرالیا ہے؟ کیا مجرموں کو پکڑنا اور انہیں قرار واقعی سزا دلانا پولیس کا کام نہیں ہے؟  یہ ساری صورت حال مشکوک  ہے ۔ ا گر تحریک انصاف کے الزامات کو سیاسی مہم جوئی قرار دے کر  نظر انداز  کر بھی دیا جائے تو بھی انتظار پنجوتھا کی بازیابی اور اس کے فوری بعد پولیس کے طرز عمل اور  کارروائی کی مکمل اور اعلیٰ سطحی محکمانہ انکوائری ہونی چاہئے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ پولیس اہلکار کس ایجنڈے کے تحت ویڈیو بنا کر عام کرنے کی کوشش میں مگن تھے مگر ملزموں کو پکڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

البتہ اس حوالے اٹھایا جانےو الا یہ ا عتراض خاص طور سے قابل غور ہے کہ اٹارنی جنرل  نے  صرف ایک دن پہلے انتظار پنجوتھا کو چوبیس گھنٹے کے اندر بازیاب کرانے کا وعدہ کیا تھا اور اگلے ہی دن وہ اٹک پولیس کو مل گئے۔ اٹارنی جنرل کو اس اہم معاملہ پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے فوری طور سے یہ واضح  کرنا چاہئے کہ انہوں نے کن معلومات  کی بنیاد پر عدالت سے یہ وعدہ کیا تھا۔ اگر پولیس کارروائی میں انتظار پنجوتھا کی بازیابی محض حادثاتی تھی تو اٹارنی جنرل نے عدالت سے   انتظار پنجوتھا کو   چوبیس گھنٹے میں عدالت  میں پیش کرنے کا وعدہ کیوں کیا اور اگر ان کے پاس ملزموں کے بارے میں  معلومات تھیں تو اغوا کرنے والے افراد اتنی آسانی سے  کیسے پولیس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ ممکن ہے کہ انتظار پنجوتھا کا اغوا واقعی مالی فائدے کے لیے کیا گیا ہو لیکن اس کہانی کو ثابت کرنے کا سارا بار پولیس، اٹارنی جنرل اور حکومت کے کاندھوں پر  ہے۔ ملک میں سیاسی دباؤ  کے لیے مخالف آواز  اٹھانے والے لوگوں کو اٹھانے اور انہیں ہراساں کرنے کی تاریخ بہت بھیانک اور افسوسناک ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ انتظار پنجوتھا کو ایسے ہی کسی ایجنڈے کے تحت اٹھا کر تحریک انصاف کو دباؤ میں لانے کی کوشش نہیں کی گئی ہوگی۔ تاہم اس بارے میں حکمرانوں اور سرکاری مشینری کو اپنی پوزیشن مناسب شواہد و ثبوتوں کے ساتھ واضح کرنی چاہئے۔