اسٹیٹ بینک کا شرح سود 2.5 فیصد کم کرکے 15 فیصد کرنے کا اعلان
پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس نے بنیادی پالیسی ریٹ 250 بیسس پوائنٹس کم کرکے 15 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو 5 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہوگا۔
بیان کے مطابق کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے نیچے آئی ہے اور اکتوبر میں اپنے درمیانی مدت کے ہدف کی حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ غذائی مہنگائی میں تیزرفتار تنزلی، عالمی سطح پر تیل کی موافق قیمتیں، متوقع گیس ٹیرف اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو ایڈجسٹ نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم ہوئی۔
زری پالیسی کمیٹی اب یہ توقع کرتی ہے کہ مالی سال 2024 کے لیے اوسط مہنگائی پچھلی پیش گوئی کی حد 11.5 سے 13.5 فیصد سے نمایاں طور پر کم رہے گی۔ کمیٹی کا یہ تجزیہ بھی تھا کہ یہ منظرنامہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کشدگی، غذائی مہنگائی کے دباؤ کے دوبارہ ابھرنے، سرکاری قیمتوں میں ایڈہاک ردو بدل اور محصولات کی وصولی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کے نفاذ جیسے خطرات سے مشروط ہے۔
زیادہ تر ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ مرکزی بینک 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا، شرح سود میں جون کے بعد مسلسل چوتھی کٹوتی ہے، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی میں کمی، کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور زیادہ ترسیلاتِ زر کا ہونا ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 7.17 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی رفتار 6.9 فیصد کے ساتھ 44 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔