جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ کا قیام

  • منگل 05 / نومبر / 2024

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک کا پہلے آئینی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ سات رکنی آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان ہوں گے۔  

یہ فیصلہ منگل کے روز چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف کے پاکستان کے اجلاس میں ہؤا۔ آئینی بنچ میں جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے سات پانچ کے تناسب سے بینچ کی تشکیل کی منظوری دی۔ یہ بینچ دو ماہ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں اس بات کا ذکر نہیں کہ کن اراکین نے بینچ کے حق میں ووٹ دیے اور کن اراکین نے اس کی مخالفت کی۔

تاہم کمیشن میں شامل پاکستان بار کونسل کے اختر حسین کے مطابق بینچ کی تشکیل کی مخالفت کرنے والوں میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، سینیٹر شبلی فراز اور ممبر قومی اسمبلی عمر ایوب شامل ہیں۔

اختر حسین کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ بینچ کے حق میں ووٹ دینے والوں میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد اور روشن خورشید شامل ہیں۔ ان کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے بھی بینچ کے حق میں ووٹ دیا۔

اس تعیناتی کے ساتھ ہی جسٹس امین الدین خان پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے رکن بھی بن گئے ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی ایکٹ کے تحت آئینی بینچ کے سربراہ کمیٹی کے تیسرے رکن ہوں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل کو جسٹس امین الدین خان کی جگہ جوڈیشل کمیشن کا 13واں رکن بنا دیا گیا ہے۔

نئی آئینی ترمیم کے مطابق اگر آئینی بینچ کا سربراہ جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوا تو ان کی جگہ دوسرے سینیئر جج جوڈیشل کمیشن کے رکن بنیں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے رکن اختر حسین نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران دو مختلف آرا سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ایک رائے یہ تھی کہ پوری سپریم کورٹ کو ہی آئینی کورٹ قرار دے دیا جائے جبکہ دوسری رائے آئینی بینچ کے تشکیل کے حق میں تھی۔ اختر حسین کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سات اراکین نے آئینی بینچ تشکیل دینے کی حمایت کی اور ان ہی اراکین نے جسٹس امین الدین خان کے حق میں ووٹ دیا۔

رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت منظور کیا تھا جس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اس پر دستخط کرکے اسے آئین کا حصہ بنا دیا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 191 اے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل آئینی بینچوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔

ترمیم کے مطابق آئینی بینچوں کی تعداد اور ان کی مدت کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن ان آئینی بینچوں میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی برابر نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔ بل میں کہا گیا کہ اس آئینی بینچ کے پاس موجود اختیارات کسی دوسرے بینچ کو تفویض نہیں کیے جا سکتے۔ ججز کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی ان کیمرا ہو گی تاہم اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔