ٹیکس آمدنی میں اضافہ نہ ہؤا تو تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکس بڑھے گا: وزیر خزانہ

  • بدھ 06 / نومبر / 2024

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی شعبوں سے حکومت کا نکل جانا ہی بہتر ہے۔ کراچی میں فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک اعشاریے بتدریج بہتر ہورہے ہیں۔

 خسارے سرپلس میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ترسیلات زر میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ شرحِ سود میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو ملک کی قیادت اور اپنی کارکردگی بھی بہتر کرنا ہوگا۔ نجی شعبے کو کاروبار بڑھانے کے ساتھ اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ جہاں پر کوئی مسئلہ یا رکاوٹ ہو اس پر سخت فیصلہ کرتے ہیں، اقتصادی رابطہ کمیٹی میں چکن اور دالوں کی قیمت کا جائزہ لیا ہے۔ 

وزیر خزانہ نے کہا کہ پنشن میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیغام مل رہا ہے کہ معیشت پر کام جاری رکھیں۔ ہمارے پاس تساہل کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں ہے، معاشی اصلاحات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے جن شعبے سے حکومت نکل جائے تو وہ حکومت کے حق میں بہتر ہے۔ چاول کی فصل سے حکومت کی عدم موجودگی کے باعث نمو ہوئی۔ چاول کی برآمدات بڑھ کر 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تحقیق میں حکومت کو بھول جائیں۔ اس حوالے سے نجی شعبے کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کے کتنے تحقیقاتی ادارے ہیں، اگر وہ تحقیق کررہے ہوتے تو زراعت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ نجی شعبے کو تحقیق کے لئے حکومت اپنی سپورٹ فراہم کرے گی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا ٹیکس ریونیو 9.4 ٹریلین ہے۔ اور ملک کا 9 ٹریلین زیر گردش کرنسی ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے تو مسائل ہوں گے۔ اگر ٹیکس ریو نیو اس مرتبہ نہ بڑھا سکے تو تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکس بڑھے گا۔