ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے
ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق وہ مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے دوسری بار صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کرلی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری اطلاعات کے مطابق 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جب کہ کاملا ہیرس اب تک 226 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ صدارتی انتخاب میں جیت کے لیے 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کن سمجھی جانے والی ریاستوں ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، شمالی کیرولائنا، پینسلوینیا اور اور وسکانس میں کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکا کے 47ویں صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد وکٹری اسپیچ میں ووٹرز اور حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کی عظیم ترین سیاسی تحریک تھی۔ امریکا کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اب ہم اسے بہتر بنائیں گے۔ امریکا کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، امریکا نے مجھے طاقتور مینڈیٹ دیا ہے، امریکا کو عظیم بناؤں گا۔
ری پبلیکن پارٹی نے صدارت جیتنے کے علاوہ کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ایوان نمائندگان کی 100 نشستوں میں ری پبلکنز نے 51 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ کانگریس کے ایوانِ زیریں (ایوان نمائندگان) کی کل 435 سیٹوں بھی پر انتخابات ہورہے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں ری پبلکن امیدوار 191 اور ڈیموکریٹس 169 نشستوں پر کامیاب ہو چکے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدارتی انتخابات میں ساڑھے 16 کروڑ ووٹرز نے حق رائے دہی کا استعمال کیا جب کہ قبل از وقت ووٹنگ میں 8کروڑ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق جارجیا میں بم کی جھوٹی اطلاعات پر پولنگ کا عمل آدھے گھنٹا رکا رہا جب کہ اٹلانٹا کی 3 کاؤنٹیز میں بھی بم کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی۔ جورجیا کی فلٹن کاؤنٹی میں بم کی جھوٹی اطلاع کے باعث کچھ متاثرہ مقامات پر پولنگ کا عمل ساڑھے 7 بجے تک بڑھانے کے لیے درخواست کی گئی تھی۔ انتخابی عمل کے دوران بدامنی کے خدشات کے سبب امریکی نیشنل گارڈ کو الرٹ رکھا گیا۔
دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’وکٹری اسپیچ‘ کرتے ہوئے اپنے ووٹرز اور حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں کوئی جنگ شروع نہیں کروں گا بلکہ جنگ کو روکوں گا۔ فلوریڈا میں اپنے انتخابی ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کی عظیم ترین سیاسی تحریک تھی۔ امریکا کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہم اسے بہتر کریں گے، امریکا کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔
منختب صدر نے کہا کہ عوام نے میرا بھرپور ساتھ دیا، یہ ملکی تاریخ کی عظیم ترین سیاسی تحریک تھی۔ ہم نے آج تارخ رقم کی ہے، امریکا کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہم بہتر کریں گے۔ امریکا کو مضبوط بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے حامیوں نے بہترین انتخابی مہم چلائی۔ ہم نے سینیٹ کے لیے شاندار مہم چلائی، ہم نے سینیٹ کا کنٹرول واپس حاصل کیا۔ یہ امریکا کی سیاسی کامیابی ہے۔ میری فتح جمہوریت کے لیے بھی فتح ہے۔ جن لوگوں نے میرا ساتھ دیا، میں ان کا بھرپور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دنیا کی مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے امریکیوں نے ہمارا ساتھ دیا، ایک بار پھر اعتماد کرنے پر امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
نومنتخب صدر نے کہا کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ امریکا کے تمام معاملات اب ٹھیک ہونے والے ہیں۔ اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھوں گا جب تک آپ لوگوں کے خواب پورے نہ کروں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو سیل کرنا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ قانونی طریقے سے امریکا آئیں، امریکا کو محفوظ بنائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم مضبوط اور طاقتور فوج چاہتے ہیں اور آئیڈل صورتحال ہے کہ ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ جانتے ہیں کہ اپنے سابقہ 4 سال میں ہماری کوئی جنگ نہیں تھی، سوائے اس کے کہ ہم نے داعش کو شکست دی تھی۔ ہم نے داعش کو ریکارڈ مدت میں شکست دی، لیکن ہماری کوئی جنگ نہیں تھی۔
نومنتخب صدر نے کہا کہ مخالفین نے کہا کہ آپ جنگ شروع کروگے، میں نے کہا کہ میں کوئی جنگ شروع نہیں کروں گا بلکہ جنگ کو روکوں گا۔ کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ خدا نے کسی مقصد کے لیے میری زندگی بچائی اور وہ مقصد اپنے ملک کو بچانا تھا اور امریکا کے وقار کو بحال کرنا تھا اور اب ہم مل کر اس مقصد کو پورا کرنے جا رہے ہیں۔ ہمارے سامنے موجود ہدف آسان نہیں ہے لیکن میں اپنی پوری طاقت کو استعمال کروں گا اور دنیا کے سب سے اہم کام کو کرنے کے لیے لڑوں گا۔