امریکی جمہوریت کی عظمت

جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھا امریکا دنیا کے ہر ملک کا ہمسایہ ہے، اسی طرح امریکی انتخابات کے اثرات بھی بشمول دیگر عالمی طاقتوں کے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں یہ انتخابات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔

درویش کو بچپن سے امریکا میں اتنی دلچسپی رہی ہے کہ وہ تقریباً ہر انتخاب سے قبل جیتنے والے امیدوار کے متعلق رائے زنی کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر یہ پہلے الیکشن تھے جن کے متعلق چند روز قبل تک کوئی بھی پیش بینی مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ خود کو بالعموم ڈیموکریٹس کا حمایتی قرار دینے والا بھی بائیڈن کی کمزور پالیسیوں سے اتنا نالاں تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی شخصیت پر کئی کڑے اعتراضات کے باوجود اس کیلیے اپنائیت محسوس کر رہا تھا۔ یہ کہتے ہوۓ کہ کملا دیوی ہیرس کو ضرور جیتنا چاہیے لیکن اس مرتبہ نہیں… وہ کیوں؟ اس لیے کہ عام امریکی انہیں جو بائیڈن کا تسلسل ہی خیال کرے گا جن سے وہ سخت نالاں ہے۔

پریزیڈنٹ ٹرمپ کو آؤٹ سپوکن یا منہ پھٹ ہی  Unpredictable Person خیال نہیں کیا جاتا، بلکہ بھی سمجھا جاتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا وہ کہاں کس طرح پھٹ پڑیں گے۔ عجب باتونی و سر پھرا آدمی ہے۔ من میں سودا سما جائے تو نارتھ کوریا بھی جا پدھارے اور بدترین ڈکٹیٹر کو اپنا فرینڈ قرار دینے لگے۔ سعودی کنگڈم کے متعلق سفارتی پاس ولحاظ رکھے بغیر ایسی زبان بول دے کہ مڈل ایسٹ میں سب حیرت زدہ رہ جائیں۔ کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ دوست کس کا ہے اور دشمن کس کا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ غیر روایتی سیاستدان ہے مگر بارہا وہ یہ باور کرواتا ہے کہ کیا اس کے لیے سیاست دان کی ٹرم درست بھی ہے یا مسخرہ کہا جانا زیادہ مناسب ہے۔ نامعلوم کہاں کس کی پگڑی اچھال دے۔

کیتھولک مسیحیت کے پوپ سے بھی مسخریاں کرنا شروع کر دے۔ جس کے سامنے قانونی ضوابط کی بندش بھی کوئی خاص اہمیت نہ رکھتی ہو ۔جس کے پیروکاران بھی شکست کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے ہمارے 9 مئی جیسے کرتوت کر ڈالیں۔ امریکی تاریخ میں جو سیاسی شائستگی یا تہذیبی اقدار ہمیشہ سے حاوی یا جاری و ساری چلی آرہی ہیں کھلنڈرے پن کا رول ادا کرتے ہوئے نامعلوم یہ انقلابی لیڈر کب ان کا بھی کھلواڑ کر ڈالے۔ اس سب کے باوجود آج نئے قومی ایجنڈے کے ساتھ وہ جو زبان بول رہا ہے کسی اور کو اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے عام امریکی ووٹرز بالخصوص 75 فیصد گوروں کو اس کی سمجھ ضرور آرہی ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دیگر عام امریکیوں کو بھی، جب وہ یہ کہتا ہے کہ فرسٹ امریکا تو بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی وسائل پر پہلا حق امریکیوں کا ہے۔ ہم امریکی اقوام دیگر کے لیے اپنی قوم کا کھلواڑ کیوں کریں؟ انہیں بے روزگار بناتے ہوئے ان پر مہنگائی کا بوجھ کیوں لادیں؟

افراط زر کا مسئلہ اگرچہ عالمی سطح پر پوری دنیا کو درپیش ہے اور امریکی اس دنیا سے باہر تو نہیں ہیں مگر جب وہ اس خرابی کی جڑ ریجنل کنفلکٹس کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں میں امریکی سرمائے کا بے دریغ استعمال بیان کرتا ہے تو عام امریکیوں کو یہ بات بھلی محسوس ہوتی ہے۔ جنگیں چاہے کتنی ہی ناگزیر کیوں نہ ہوں مگر ربع اکیسویں صدی گزار کر بھی وہ کون ہے جو جنگوں کی وکالت کر سکے؟ ہر باشعور انسان کو امن کی باتیں بھلی لگتی ہیں اور وہ جنگوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔ امریکیوں کو یہ بات کیوں پسند نہ آئے گی کہ ہم لوگ آخر کیوں اپنے 171 ارب ڈالر یوکرین کی جنگ میں جھونک دیں۔ اور اتنے ہی اپنے یورپی اتحادیوں کے بھسم کروا دیں؟ اس لیے کہ ہمارا حریف روس اس میں پھنسا رہے یا اس کے وسائل اس میں ضائع ہو جائیں مگر کس قیمت پر؟ شریک کی آنکھیں پھوڑنے کے لیے اپنی آنکھوں کو نقصان کیوں پہنچایا جائے؟

یوکرین کی قومی یا علاقائی خود مختاری جو بھی ہے، ابھی کل کی بات ہے جب یہ سوویت یونین کا حصہ تھا۔ وہ کلی برداشت تھا تو اب یہ جزوی طور پر بھی کیوں ناقابل برداشت ہے؟ مگر اس اپروچ سے امریکا کا عالمی امیج کس قدر متاثر ہوگا؟ یہ ایک الگ Debatable issue ہے۔

عام امریکیوں کو یہ بات بھی بھلی لگتی ہے کہ ایسی جنگوں کی پاداش میں جتنی مظلوم آبادی کیلیے ہم اپنے دروازے کھولتے ہیں، وہ اپنے ساتھ ہمارے لیے متنوع مسائل بھی تو لاتے ہیں۔
ماقبل سیریا عراق اور افغانستان سے کتنے لوگوں کو سنبھالنا پڑا۔ اب یوکرین کی بھی وہی صورتحال ہے۔ یہیں سے امیگریشن کے ایشوز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ میکسیکو بارڈر سے غیر قانونی طور پر امریکا داخل ہونے والے تارکین صرف ٹرمپ کا ہی نہیں عام امریکیوں کا بھی سردرد ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جس سخت ترین پالیسی کی ضرورت ہے وہ شاید ڈیموکریٹس کے بس میں نہیں۔ یہ بھاری پتھر بولڈ ٹرمپ ہی اٹھا سکتا ہے۔ اسقاط حمل جیسے ایشوز اس بھیانک ایشو کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ بے شک گن کلچر یا ہیلتھ اور ایجوکیشن کے مسائل ہیں، ٹیکسز کی بھرمار کا مسئلہ بھی ہے ، لیکن اکانومی جتنی بہتر ہوگی اس کے اثرات دیگر تمام ایشوز پر مرتب ہوں گے۔

جنگوں کے خاتمے سے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ اسلامک ٹیرر ازم سے کمپرومائز کر لے گا تو یہ سخت خام خیالی ہے۔ اسرائیل سے وفاداری میں ٹرمپ کسی بھی ڈیموکریٹ سے پیچھے نہیں رہے گا۔ اپنے پہلے دور میں جس طرح انہوں نے اپنے داماد جیرڈکشنر کو آگے کرتے ہوئے “ابراہیم اکارڈ” کو اچھا خاصا منوایا تھا، یہ سلسلہ دوبارہ وہیں سے شروع ہو جائے گا جہاں پر چھوٹا تھا۔ اسرائیل کی سلامتی کا بہرصورت دفاع کیا جائے گا۔ اس پر حملہ آور ہونے والے جہادی جتھے ہوں یا ایران، ان کی گوشمالی کا اہتمام ٹرمپ آئیں یا کملا دیوی، سبھی کو کرنا ہوگا۔ بلکہ ٹرمپ کا ایک قدم آگے رہے گا۔
امریکن ڈیموکریسی کی عظمت کا کمال یہ ہے کہ ان کی سیاست میں بھان متی کے کنبوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ بالغ نظر سیاست ٹو پارٹی سسٹم پر مستحکم ہوچکی ہے۔ اور اس میں بھی اتنی میچورٹی ہے کہ نیشنل یا انٹرنیشنل ایشوز پر ایک سو ایک اختلافات یا باہمی سیاسی مسابقت کے باوجود اپنے پرمانینٹ نیشنل انٹرسٹ سے کسی صورت باہر نہیں جاتے۔ لہذا کملا دیوی جیتیں یا ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کے متعلق ان کی سوچ یا پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہمارے جو لوگ اس نوع کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ٹرمپ جیت گئے تو وہ ڈیپ سٹیٹ پر پریشر ڈالتے ہوئے اپنے جیسے ہمارے کھلاڑی کو جیل سے نکلوا کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیں گے، یہ صرف پروپیگنڈا یا نادانوں کی بھول ہے۔ پریزیڈنٹ ٹرمپ نے اگر کسی نوع کا پریشرڈالنا ہوا تو وہ کھلاڑی سے بڑھ کر شکیل آفریدی کیلیے کیوں نہیں ڈالیں گے؟ جنہوں نے دہشت کے خلاف نہ صرف امریکا بلکہ انسانی برادری کی خدمت کی ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا میں بھی ٹرمپ کی متوقع جیت کو امید بھری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ ان کے بالمقابل کملا دیوی ایک بھارتی نژاد ہندو ہیں جنہیں کیرالہ سے انڈیا کی بیٹی قرار دیا جاتا ہے لیکن ڈیموکریٹس بالخصوص بائیڈن کی کینیڈا نواز پالیسی سے نالاں بھارتی ٹرمپ کی جیت کو مودی کی جیت ظاہر کر یں گے۔ ڈیموکریٹس کی نیلی اور ریپبلکن کی ریڈ سٹیٹس سے بڑھ کر تمام دنیا کی نظریں سات عدد سوئنگ سٹیٹس پر مرکوز ہیں لیکن یہ درویش ٹرمپ کی جیت کو واضح طور پر محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے اپنے کالم میں کملا ہیرس سے زیادہ بحث ٹرمپ کے حوالے سے کی ہے تاکہ امریکی قوم اس کے بلند بانگ دعوؤں کو آخری موقع دیتے ہوئے کوئی کسر نہ رہنے دیں۔

تبدیلی اگر اچھی چیز ہے تو یہ اس وقت امریکا کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ اتنا لکھ کر بھیج چکا تھا کہ خبر نمودار ہوئی تبدیلی آ نہیں رہی، آچکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر وہائٹ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ امریکی و عالمی میڈیا نے ان پر جتنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، بڑے وثوق کے ساتھ یہاں تک کہا جارہا تھا کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کو جیتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی۔ جواباً یہ کہنا پڑتا کہ بھائی امریکا امریکا ہے آپ ان کی عوامی طاقت اور ڈیموکریسی کا تقابل پاکستان جیسے پسماندہ ہائبرڈ سسٹم سے ہرگز نہ کریں۔

بالفرض اگر کملا دیوی جیت بھی جاتیں تو انہیں بائیڈن جیسی کمزور سوچ اور پالیسیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹرمپ جیسے بولڈ فیصلے ہی لینے پڑتے۔ پریزیڈنٹ ٹرمپ کو اپنی اس تاریخی جیت کے ساتھ جس طرح فرسٹ امریکا کا نعرہ سامنے رکھنا ہے ،اسی طرح امریکا کے عالمی کردار کی بھی پاسداری کرنا ہوگی بالخصوص اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے، یہ سب پر واضح رہے کہ اس ایشو پر ان کی حساسیت ڈیموکریٹس سے بڑھ کر ہوگی۔ اور وہ ایران کے بالمقابل اپنے عرب اتحادیوں سے تعاون مزید بڑھائیں گے۔