اعلی عدلیہ کے ججوں کے الاؤنسز ، ہاؤس رینٹ میں اضافہ

  • جمعرات 07 / نومبر / 2024

حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے ہاؤس رینٹ اور جوڈیشل الاؤنس میں اضافہ کردیا ہے۔

قائم مقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی منظوری سے جاری صدارتی ترمیمی حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کا ہاؤس رینٹ 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ جبکہ جوڈیشل الاؤنس 4 لاکھ 28 ہزار 40 روپے سے بڑھا کر 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے کردیا گیا ہے۔

اسی طرح ہائی کورٹ کے ججوں کا ہاؤس رینٹ بھی 65 ہزار سے بڑھا کر تین لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا جبکہ جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار کردیا گیا۔ قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف کی جانب سے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ اس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 ہے جبکہ پارلیمان کی جانب سے حال ہی میں پاس کیے گئے قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی مجموعی تعداد 34 کردی گئی ہے تاہم ابھی تک دیگر 17 نشستوں پر ججز کی تقرری باقی ہے۔

دریں اثنا روزنامہ ایکسپریس نیوز کے  مطابق سپریم کورٹ میں97ارب روپے مالیت  کے 3ہزار 496 مالیاتی مقدمات زیر التوا  ہیں۔ چیف جسٹس نے ٹیکس مقدمات کی مقدمہ بازی سے قومی خزانے پر پہنچنے والے نقصان پر اظہار تشویش کیا۔ سپریم کورٹ میں زیر التوا مالیاتی مقدمات میں کمی لانے اور جسٹس سیکٹر ریفارمز کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ کی سربراہی میں 5رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت طویل عرصے سے زیر التوا ٹیکس مقدمات میں کمی لانے کیلئے اہم اجلاس سپریم کورٹ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف بی آر کے اعلی حکام ، ٹیکس ماہرین صنعتوں کاروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر ، اٹارنی جنرل، قانون و خزانہ ڈویژن کے سیکرٹریز کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان اورچیمبرز آف کامرس کے حکام بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس میں سمندر پار سرمایہ کاروں ، کے علاوہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ سلیم مانڈوی والا حکومت ، سینیٹر محسن عزیز نے نے اپوزیشن کی نمائندگی کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے ٹیکس مقدمات کی مقدمہ بازی سے قومی خزانے پر پہنچنے والے نقصان پر اظہار تشویش کیا ۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مختلف عدالتی فورمز پر بڑے پیمانے پر زیر التوا مالی مقدمات کی نشاندہی کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ  سپریم کورٹ میں97ارب کے 3ہزار 496 مالیاتی مقدمات زیر التوا ہیں۔ 

 چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں غیر ضروری مالیاتی مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کیلئے اسٹیک ہولڈرز کو اقدامات اٹھانے اور ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری حکم امتناع لینے اور التوا مانگنے کی روش کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔