اسموگ کی وجہ سے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم

  • جمعہ 08 / نومبر / 2024

لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ کے باعث لاہور میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے اتوار کو صوبے بھر میں مارکیٹیں بند رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

محکمہ ماحولیات نے لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور فیصل آباد ڈویژنز میں چڑیا گھروں، عجائب گھروں اور کھیل کے میدانوں میں داخلے پر پابندی لگادی۔ پنجاب پولیس نے انسداد اسموگ کریک ڈاؤن کے دوران 58 مقدمات درج کرکے 23 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ ساڑھے 7 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے اسموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر لاہور میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دے دیا جبکہ صوبے بھر میں اتوار کو مارکیٹیں بند کرنے کے بھی احکامات جاری کردیے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی موٹروے اور رنگ روڑ پر داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔ عدالت نے ٹرکوں اور ٹریلرز کو اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب قرار دیتے ہوئے شہر میں ٹرکوں اور ٹریلرز کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

عدالت نے احکامات جاری کیے کہ ہیوی ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے ڈولفن پولیس اور پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہر سماعت پر حکومت کو اسموگ کنٹرول کے لیے اقدامات کا کہتے رہے، ہیوی ٹریفک کا دھواں آلودگی کی اصل وجہ ہے۔ اگر لاری اور بسوں کو نوٹس دیے ہیں تو اب تک بند کیوں نہیں ہوئیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ دھواں چھوڑنے والی بسوں کو 50، 50 ہزار جرمانہ کریں تو کیسے ٹھیک نہیں ہوں گی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی سڑک پر گاڑی کیسے جاسکتی ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو اقدامات کرنے چاہیے تھے۔

عدالت نے کہاکہ ہم حکومت کی مدد کے لیے یہ اقدامات کر رہے ہیں لیکن حکومت شاید عدالتی احکامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی۔ ڈپٹی کمشنرز وغیرہ پر حکومت کا دباؤ ہو تو کام کریں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اسموگ کی صورتحال کا انتظامیہ کو رات کو جائزہ لینا چاہیے، ڈی سی لاہور اور کمشنر کو رات کو نکل کر دیکھنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے۔

دریں اثنا محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور فیصل آباد ڈویژنز میں چڑیا گھروں، عجائب گھروں، پارکوں اور کھیلوں کے مقامات میں داخلے پر 17 نومبر تک پابندی عائد کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن کے دوران 24 گھنٹے میں 58 مقدمات درج کرکے 23 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 387 افراد کو 7 لاکھ 54 ہزار کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 26 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔

آئی جی پنجاب نے شاہراہوں، صنعتی علاقوں سمیت دیگر مقامات پر انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں تیزی کا حکم دے دیا۔ آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے۔