امریکی جمہوری نظام کی طاقت؟ ‎

امریکی ڈیموکریٹک سسٹم کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اگر کوئی فاسد مادہ آ بھی جائے تو سسٹم خود اس کی درستی کا اچھا خاصا اہتمام کر دیتا ہے ۔ اور پھر اتار چڑھاؤ میں ایک مخصوص مدت کے بعد ادل بدل کے ساتھ توازن آ جاتا ہے۔ کسی ایک طبقے میں بے چینی آتی ہے تو اس کی دلجوئی کرنے والا بھی آجاتا ہے، کانسٹیچیوشنل لبرٹی و ڈیموکریسی کی برکت سے ایک نوع کا توازن ہمہ وقت تسلسل کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ اس درخشاں جمہوریت میں اتنی وسعت ہے کہ اس میں اپوزیشن کا بھی پورا ریگارڈ ہے اور وہ آئندہ اقتدار میں آنے کی تیاری کرتے ہوۓ حکومتی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھتی ہے۔ احتسابی جذبے سے ایک دوسرے کی کارکردگی پر نظر رکھی جاتی ہے اور جب حکمران پارٹی کا لیڈر ہارتا ہے تو گو آنکھوں میں آنسو ہوں مگر جیتنے والے کو مبارکباد پیش کرتا پایا جاتا ہے۔ ابھی اپنی حالیہ ناکامی کے بعد ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا دیوی ہیرس نے نہ صرف یہ کہ فون پر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور انہیں کہا کہ اب آپ صرف ریپبلیکن کے نہیں پوری قوم کے صدر ہیں اور بلکہ ہارورڈ یونیورسٹی واشنگٹن میں قائم اپنے ہیڈ کوارٹر سے اپنے حمایتیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچھ لوگ دکھی ہیں لیکن ہمیں اپنی شکست کو خوشی سے تسلیم کرنا ہوگا۔ یہی جمہوریت کا حسن و اصول ہے اور یہی سوچ جمہوریت کو آمریت سے الگ کرتی ہے۔ا ندھیروں میں بھی نہیں گھبراتے کیونکہ اندھیرے میں ہی جگمگاتے ستارے دکھتے ہیں اس لیے ہم پریشان ہونے کی بجائے ان سے امید کی روشنی لیتے ہیں اور نئی جدوجہد کا آغاز کرتے ہیں۔ جس سے ہماری ڈیموکریسی مضبوط ہو ہمارا یہ عظیم ملک امریکا مضبوط ہو۔

پریزیڈنٹ ٹرمپ سے بات کرتے ہوئے کچھ اسی طرح کی گفتگو کے ساتھ صدر بائیڈن نے بھی جیتنے والے صدر کو مبارکباد پیش کی اور انہیں وائیٹ ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی، جو قوم اس وسعت نظری کا مظاہرہ کرے گی۔ اسے زوال کیوں آئے گا۔ کچھ اسی نوعیت کا اپنا آرٹیکل پیش خدمت ہے جو آج سے ٹھیک چار برس قبل پچھلے امریکی صدارتی الیکشن پر تین نومبر 2020 کو تحریر کیا گیا:
’ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے دشمن بھی امریکا کو دنیا کی عظیم ترین جمہوریت تسلیم کرتے ہیں، جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے کی آزادی سے جہاں ٹکراؤ کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ وہیں سیاسی و سماجی گھٹن اور جبر و استبداد کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔ 4 جولائی 1776 سے 3 نومبر 2020 کی ایک تابناک تاریخ ہے جس پر امریکی قوم بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ امریکی دستور سازوں اور جمہوریت کے اولوالعزم معماروں نے اپنی قوم کے لئے کیسی شاندار بنیادیں استوار کی ہیں پرامن انتقال اقتدار کی کیسی درخشاں روایات قائم کر دی ہیں کہ آج ان کا آئینی و جمہوری سسٹم پوری دنیاکیلئے لائٹ ہائوس یا روشنی کا مینار ہے۔
جارج واشنگٹن کی پاپولیریٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اصرار کیا جاتا ہے کہ آپ اپنی صدارتی حکمرانی کا تسلسل جاری و ساری رکھیں۔ لیکن وہ مدبر امریکی بابائے قوم کس قدر سچائی و سادگی سے کہتا ہے کہ میرے علاوہ بھی امریکا میں بہت سے قابل اور باصلاحیت انسان موجود ہیں۔ میں اپنی قوم پر مسلط کیوں رہوں۔ دیگر اہل شہریوں کو یہ موقع کیوں نہ ملے کہ وہ اپنی قوم کی خدمت کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں ۔

جبکہ ہماری دیگر اقوام میں اقتدار کے حریص ایسے بابے بھی تھے جو کہتے تھے ملک یا قوم چاہے جائے بھاڑ میں ہمیں تو سب سے بڑا گورنر جنرل کا عہدہ ملنا چاہیے اور پھر تادم مرگ ہمارے پاس رہنا بھی چاہیے۔ ایسے بھی تھے جو بیک وقت کئی کئی عہدوں پر براجمان رہنا چاہتے تھے یا پھر اپنے لمبے ہاتھوں سے دوسروں کی پلیٹیں صاف کرنا اپنا حق سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں۔ خدا معاف فرمائے اقتدار اور حکمرانی کی ہوس کتنی بری بلا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں منتخب وزیراعظم کابینہ کاسربراہ ہوتا ہے، وہی کابینہ کے اجلاسوں کو پریذائیڈ کرتا ہے مگر ہمارے یہاں ایسے سربراہان یا بابے بھی گزرتے ہیں جو وزیراعظم کو کارنر کرتے ہوئے خود کابینہ کی صدارت کرنے بیٹھ جاتے تھے۔ کسی بھی عمارت کی جب بنیادیں ٹیڑھی ہوں گی تو لازمی بات ہے اوپر چل کر مزید بڑی خرابیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

مغربی جمہوریتوں پر طنز و حقارت کے تیر چلانے والے بلاشبہ ہماری صفوں میں کم نہیں ہوں گے لیکن پوری انسانیت مغربی تہذیب کی احسان مند اور سپاس گزار رہے گی کہ انہوں نے انسانی و عوامی رائے یعنی ووٹ کی طاقت کو صحیح معنوں میں عزت و عظمت بخشی اور باور کروایا کہ ووٹ کی عزت درحقیقت انسانیت کی عزت و تقدیس ہے۔ انہوں نے پوری دنیا کو پرامن انتقال اقتدار کی راہ دکھلائی ورنہ ہم جو خود کو تیس مار خاں قرار دلوانے میں پاگل ہوئے بیٹھے ہیں، ہماری 14 صدیوں پر محیط ہسٹری خون خرابے اور قتل و غارت گری سے بھری پڑی ہے۔ ہماری مستحکم ترین سلطنتوں میں بھی جب انتقال اقتدار ہوتا تو خونی رشتوں کو بھی خون میں نہلا دیا جاتا۔

اورنگزیب عالمگیر جیسے متقی وپرہیز گار حکمران نے ہوس اقتدار میں اپنے تینوں بھائیوں شجاع مراد اور دارا شکوہ کو قتل کرواتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہ کی اور نہ ہی ان کےمعصوم بچوں پر ترس کھایا۔ ہماری تاریخ کا جو مثالی دور ہے اس کی داستان بھی کم رنگین یا خون آلود نہیں ہے۔ درویش معذرت خواہ ہے کہ غیروں کی سیاسی کہانی بیان کرتے ہوئے اپنے سینے کے زخم تازہ ہو گئے۔ یہاں جی چاہ رہا ہے کہ نیلسن منڈیلا جیسے وسیع النظر اور وسیع الظرف انسانوں کی مثالیں پیش کی جائیں لیکن محدود کالم میں اتنی گنجائش نہیں۔

اسی امریکی نائب صدر جوبائیڈن کی سوچ اور طرز حکمرانی کا جائزہ لے لیا جائے جس نے صدر باراک اوباما جیسے عظیم امریکی صدر کے ساتھ کام کیا تھا۔ ان کا جوان بیٹا کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوا تو جمع پونجی اس کے علاج پر خرچ ہو گئی۔ اور نوبت اپنا گھر بیچنے تک پہنچ گئی۔ کیا اس کے کوئی دوست نہیں تھے جو ہوائی جہازوں کے نہ سہی بیمار بچے کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات ہی اٹھاتے؟ بہرحال بات جب صدر اوباما کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے دست تعاون بڑھایا مگر کینسر کے مرض میں مبتلا جواں سال بیٹے کی موت کا دکھ پھر بھی جوبائیڈن کو سہنا پڑا۔

آج منتخب ہونے سے قبل ہی جوبائیڈن اپنی پارٹی اور اپنی قوم سے مخاطب تھے: ’’بلاشبہ میں نے صدارتی الیکشن ایک ڈیمو کریٹ کی حیثیت سے لڑا ہے لیکن منتخب ہونے کے بعد میں تمام امریکیوں کا صدر بنوں گا۔ میرے حمایتی بھی تحمل کا مظاہرہ کریں سیاست میں نفرت اور دشمنی نہیں ہوتی۔ امریکی قوم کو توڑنے والی چیزیں کم ہیں اور جوڑنے والی بہت زیادہ ہیں‘‘۔ اس کو کہتے ہیں قوم کے زخموں پر مرہم لگانے والی قیادت۔ جمہوری تسلسل کا یہی حسن ہے کہ اگر اس راستے سے کوئی ابن الوقت یا چالباز آگے آ بھی جاتا ہے تب بھی اگر جمہوری تسلسل میں خلل نہ آنے دیا جائے تو موقع ملنے پر نااہلی سے پھیلائے گئے گند کو صاف کرنے والی باصلاحیت قیادت سامنے آ جاتی ہے۔
بشرطیکہ اگر سسٹم میں مضبوطی ہو تو ایک ٹرم کیا دو ٹرمز کی خرابیوں کو بھی بطریق احسن صاف شفاف بنایا جاسکتا ہے۔ سسٹم مستحکم ہو تو افراد و اشخاص سے بھی کوئی بہت زیادہ خرابی نہیں پڑتی۔ صدر ٹرمپ اور ان کی سوچ یا کارکردگی پر ہم جتنی مرضی تنقید کرلیں، انہیں مسخرہ یا غیر ذمہ دار کہہ لیں، ان کی سیاسی شدت پسندی پر سوالات اٹھالیں۔ اس میں بھی شک نہیں کہ انہوں نے امریکی صدارت کے باوقار منصب کو خاصا خراب اور متنازع کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے عالمی وقار پر زد پڑی۔ لیکن یہ امریکی جمہوری سسٹم کی مضبوطی ہے کہ اس میں انفرادی بگاڑ دائمی نہیں ہو پاتا، اس کی درستی و مرمت ہو جاتی ہے ۔

منفی سوچوں کا بھی بالآخر صفایا ہو جاتا ہے، خراب ذہنیتیں دھل جاتی ہیں، عظیم امریکی عوام اپنی آئینی جمہوری راہوں پر پچھلی دو ڈھائی صدیوں کی طرح رواں دواں رہیں گے۔ ان کی آزادی اظہار اور ووٹ کی عزت پر کوئی جنونی یا سر پھرا حملہ آور نہیں ہو سکے گا۔