کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکا، 26 افراد جاں بحق

  • ہفتہ 09 / نومبر / 2024

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 26 افراد جاں بحق اور 62 سے زائد زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دھماکا جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے وقت ریلوے اسٹیشن کے اندر پلیٹ فارم میں ہوا۔ دھماکے کے وقت مسافر ریلوے اسٹیشن میں جعفر ایکسپریس سے پشاور جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔

ریلوے حکام نے کہا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا جبکہ ٹرین اب تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی۔ کمشنر کوئٹہ  نے ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق کی اور آگاہ کیا کہ دھماکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بعدازاں ترجمان صوبائی محکمہ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد سول ہسپتال میں زیر علاج مزید دو زخمی دم تو ڑ گئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ ترجمان محکمہ صحت ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ ریلوے اسٹیشن دھماکے میں 62 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر دھماکے پر شدید الفاظ میں اظہار مذمت کیا اور جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بلوچستان حکومت سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی، جبکہ دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر دھماکے پر اظہار مذمت کیا اور اعلیٰ انتظامی حکام سے رابطہ کرنے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد انسان کہلانے کے لائق نہیں، انسانیت سےگر چکے ہیں، دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے بھی جا چکے ہیں، دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور بلوچستان سے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔