اوورسیز پاکستانی عمران خان کے حامی کیوں ہیں؟

دنیابھر میں آباد تقریباً ایک کروڑ پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت عمران خان اور تحریک انصاف کی حامی اور سپورٹر کیوں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو لندن اور برطانیہ کے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی پوچھا جاتا ہے۔

اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ یعنی جو بھی سیاسی رہنما پاکستان میں کرپشن کے خاتمے اور انصاف کی بالا دستی کا نعرہ لگائے گا، عوام الناس اور خاص طور پر بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی اس کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔ اور اُسے نجات دہندہ سمجھنے لگیں گے۔ تارکین وطن میں عمران خان کی مقبولیت اور حمایت کی وجہ بھی یہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کے اپنے دور حکومت میں نہ تو کرپشن میں کمی آئی اور نہ ہی انصاف کی بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ مگر اس کے باوجود اوورسیز پاکستانی آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے مددگار اور علمبردار ہیں۔ پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب کسی حکمران کو اس کی جمہوری مدت پوری کرنے سے پہلے اقتدار سے محروم کر دیا جاتا ہے تو وہ سیاسی مظلوم قرار پاتا اور اس کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ لیڈر جتنی مدت اقتدار میں رہا اس دوران اس نے انصاف کی حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے کیا عملی اقدامات اُٹھائے۔

عمران خان سے اقتدار چھیننے والے بہت جلد باز تھے۔ اگر وہ دور اندیش ہوتے تو عمران خان کو مزید ڈیڑھ برس حکومت کرنے دیتے جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔ تحریک انصا ف کے ووٹرز اپنے لیڈر سے پانچ سال کی حکومت اور انتخابی وعدوں کا حساب ضرور مانگتے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو گرتی ہوئی دیواروں کو ایک اور دھکا دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اور وطن عزیز میں 2024 کے عام انتخابات کے نتائج بالکل مختلف ہوتے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاسی، سماجی، اقتصادی، عدالتی، مذہبی، تعلیمی، تجارتی اور اخلاقی زوال جس نہج پر پہنچ چکا ہے اور ہر شعبہ کرپشن کی لپیٹ میں آ چکا ہے، اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے محض لفظی دعوؤں اور انتخابی وعدوں سے کام نہیں چل سکتا۔ لندن اور یونائیٹڈ کنگڈم میں آباد اوورسیز پاکستانی، وطن عزیز کے بارے میں بہت جذباتی ہیں، قرض اُتارو ملک سنوارو سے ثاقب نثار کی بھاشا ڈیم اپیل تک ہر موقع پر برٹش پاکستانیوں نے عطیات دینے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ سادہ لوح پاکستانی اپنے سیاستداوں کے جھوٹ کو بھی سچ مان کر ہر وقت اُن کی مدد پر آمادہ رہتے ہیں۔ عمران خان کے بارے میں تاحال وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ تحریک انصاف کے بانی سربراہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کرپشن اور مسائل کی دلدل سے نکال سکتے ہیں جبکہ بہت سے دور اندیش سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر عمران خان کو آئندہ پچاس برس  کے لئے بھی حکومت دے دی جائے تو اُن کی ترجیحات اور حکمت عملی ایسی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال ملک بنا سکیں۔

جس شیخ رشید کو وہ اپنی حکومت میں چپراسی نہ رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے، اُسے انہوں نے اقتدار میں آ کر وزیر داخلہ بنا دیا اور جس عثمان بزدار کو انہوں نے پنجاب کا وزیر اعلی بنایا اس کی کارکردگی اور اہلیت کے بارے میں مزید کچھ تحریر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سال کی حکومت میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے حالات اس کے گواہ ہیں۔ اس دوران پنجاب میں نہ تو کرپشن کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی انصاف کی بالادستی قائم ہوئی۔ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ کاہے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت مسلسل قائم ہے۔ مگر اس صوبے کے عوام کا حال بھی پاکستان کے دیگر صوبوں کے عوام سے مختلف نہیں۔ بہت سی نجی محفلوں میں کئی احباب مجھ سے پاکستان کے سیاسی حالات اور عمران خان کے بارے میں استفسار کرتے ہیں تو میں کسی بھی طرح کے تبصرے سے گریز کرتا ہوں۔

اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت غیر ضروری طور پر پاکستان کے سیاسی حالات کے اتار چڑھاؤ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ میں اِن تارکین وطن سے گزارش کرتا رہتا ہوں کہ پاکستان کے سیاسی معاملات سے ہر لمحہ باخبر رہنے کی بجائے برطانیہ کے سیاسی اور سماجی حالات میں دلچسپی لیں کیوں کہ آپ کے بچوں کا مستقبل اس ملک سے وابستہ ہے۔ اگر کسی اوورسیز پاکستانی کو واقعی وطن عزیز میں کوئی تبدیلی یا انقلاب لانے کا شوق ہے تو اُسے چاہیئے وہ پاکستان جا کر یہ شوق پورا کرے۔ سات سمندر پار بیٹھ کر پاکستان کے حالات پر تبصرہ آرائی یا محض تنقید کرنے سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ بہت سے تارکین وطن اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ عمران خان ایک انقلابی لیڈر ہیں۔ جن لیڈرز کی منزل صرف اقتدار اور اختیار کا حصول ہو، وہ کبھی انقلاب نہیں لا سکتے۔ انقلابی لیڈرز کی زندگی مفادات اور منافقت سے پاک ہوتی ہے۔ وہ تھوک کر چاٹنے اور یوٹرن لینے کے عادی نہیں ہوتے۔ وہ بانی پاکستان قائد اعظم کی طرح اصول پسند اور سرکاری وسائل کے نگہبان ہوتے ہیں۔

 آج پاکستان میں جتنے سیاستدان یا سیاسی لیڈرز دستیاب ہیں وہ سب کے سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ سب اقتدار اور پروٹول کے بھوکے اور مال بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ اگر کسی کو محض عوام کی فلاح و بہبود مقصود ہو تو وہ عبدالستار ایدھی کی طرح اپنی تمام زندگی دکھی انسانیت کے لئے وقف کر سکتا ہے۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے سیاستدانوں کی اکثریت عوام کو ان کی خوشحالی اور ترقی کے سبز باغ دکھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔ اسی لئے عوام اور ملک کی معاشی حالت ابتر اور حکمرانوں کی اقتصادی پوزیشن مستحکم ہوتی چلی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان ہر معاملے میں زوال پذیر اور اس کے حکمران طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر تارکین وطن بہت تشویش میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس تشویش کی وجہ یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے دل میں اپنے وطن اور اپنی دھرتی سے محبت کا جذبہ موجزن ہے۔ اس لئے جو بھی سیاستدان اپنے ملک کی حالت سنوارنے کا دعویٰ کرتا ہے تو سات سمندر پار آباد پاکستانی اس کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب پرویز مشرف نے اقتدار میں آکر ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگایا تھا تو لاکھوں اوورسیز پاکستانی اُن کی حمایت کرنے لگے تھے۔ مگر افسوس کہ انہوں نے اپنے (8) آٹھ برس کے دورِ اقتدار میں اسی پالیسیاں اختیار کیں جن کی وجہ سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ اور کرپٹ سیاستدان پھر سے پاکستان پر مسلط ہو گئے۔ پرویز مشرف مطلق العنان حکمران تھے۔ نہ وہ کسی کو جوابدہ تھے اور نہ ہی انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی خاطر کوئی فیصلہ کرنے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت تھی۔ مگر افسوس کہ وہ تمام تر اختیارات کے باوجود پاکستان میں کالا ڈیم تک نہ بنوا سکے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کی حسرت انہیں بھی لے ڈوبی۔ اور ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ محض سیاسی نعرہ ہی ثابت ہوا اور پرویز مشرف بہت بے توقیر ہو کر اقتدار سے محروم ہوئے۔

صدر ایوب خان سے لے کر شہباز شریف تک پاکستان کے تمام صدور اور وزرائے اعظم لندن آتے رہے اور برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی سے اُن کی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال بھی ہوتا رہا۔ لیکن آج تک کسی حکمران نے اوورسیز پاکستانیوں کی کسی تجویز کو سنجیدگی سے نہیں سنا حالانکہ تارکین وطن کی طرف سے بھیجے جانے والے زرمبادلہ سے ہی وطن عزیز کی معاشی حالت کو سہارا ملتا ہے۔ لندن پاکستان کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا پسندیدہ شہر ہے۔ بے نظیر بھٹو اور الطاف حسین سے لے کر اسحاق ڈار اور نواز شریف نے جلا وطنی کے دوران رہائش کے لئے لندن کا انتخاب کیا۔ لندن میں ہمارے یہ ”رہنما“ کسی پروٹوکول اور اختیار کے بغیر رہتے ہیں۔ برطانوی جمہوریت، نظام عدل اور آزد میڈیا کا مشاہدہ کرتے ہیں، برٹش پارلیمنٹ کے ”غریب“ سیاستدانوں کو عوام کی خدمت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، برطانوی دارلحکومت میں 24 گھنٹے پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائیزہ لیتے ہیں۔ یونائیٹڈ کے ٹیکس سسٹم اور ویلفیئر سٹیٹ کے امور کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود برطانیہ کے نظام سیاست اور نظام عدل کی کسی ایک خوبی کو بھی اپنے ملک میں رائج کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

معلوم نہیں یہ نیتوں کا فتور ہے یا نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے کہ برطانیہ میں رائج جمہوریت اس ملک کے عوام کے لئے ترقی اور خوشحالی کا باعث بنتی ہے جبکہ یہی جمہوریت جب پاکستان میں آزمائی جاتی ہے تو عوام بدحالی اور پسماندگی کے عذاب کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں جو عدالتی نظام ہر ایک کو فوری اور آسان انصاف فراہم کرتا ہے، ویسا ہی عدالتی نظام پاکستان میں طاقتور اور بااختیار لوگوں کے لئے مکڑی کا جالا اور غریب اور بے بس لوگوں کے لئے فولادی تالا بن جاتا ہے۔ کوئی بھی ملک محض اپنے نام کی وجہ سے اسلامی یا جمہوری نہیں بن سکتا۔ اس کے لئے قانون اور انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔ عمران خان ہو یا شہباز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو ہوں یا مولانا فضل الرحمن، مریم نواز ہوں یا علی امین گنڈاپور، جماعت اسلامی ہو یا ایم کیو ایم، اب کوئی بھی سیاسی لیڈر یا سیاسی جماعت عوام کو زیادہ دیر فریب نہیں دے سکتی۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی وجہ سے سیاستدانوں کے لئے اپنے عوام اور ووٹرز کو سبز باغ دکھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کس قدر دکھ بھری حقیقت ہے کہ پاکستان کے بے بس اور لاچار عوام کی خیر خواہی کا دم بھرنے والے سیاستدانوں نے لندن میں اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنا لی ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت بھی ہر قیمت پر ہجرت کر کے ترقی یافتہ ملکوں میں آباد ہونا چاہتی ہے۔

اگر پاکستان کے سیاستدان اور ووٹرز ہی ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے تو پھر وطن عزیز میں جمہوریت کا کیا بنے گا؟ اسی لئے تو عمران خان اور تحریک انصاف تارکین وطن کو پاکستان کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی حامی ہے۔