نادرا سے 27 افراد کا ڈیٹا چوری ہؤا
نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے سے 27 لاکھ افراد کا ڈیٹا چوری ہوا تھا اور متعدد افراد کو انکوائری کے بعد ملازمت سے نکالا گیا ہے۔
منگل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو ایک بریفنگ کے دوران نادرا کے چیئرمین نے بتایا کہ ڈیٹا چوری ہونے کے بعد ایک انکوئری ہوئی اور 19 گریڈ کے ایک افسر سمیت چھ ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا گیا ہے۔
دوران اجلاس کمیٹی کے رُکن خالد فضل چوہدری نے نادرا کے چیئرمین سے افغان شہریوں کے پاس موجود جعلی شناختی کارڈز کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ جس پر چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے کہا کہ ان کے ادارے نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شاختی کارڈر بلاک کیے ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین نادرا نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اراکین کو بتایا کہ پاکستان کی 61 تحصیلوں میں نادرا کے دفاتر موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر تحصیلیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔