تاریخ دہرانے کی بجائے میثاق پاکستان کریں
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 12 / نومبر / 2024
فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بنی ہے، وہ پہلے دن سے دو کام کرنے میں مصروف ہے۔ ایک اپنی حکومت بچانا اور دوسرا عمران خان کو ختم کرنا۔
سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان ختم بھی ہو جائے تو کیا آپ کی حکومت ہمیشہ رہے گی؟ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ صرف عمران خان ہی آپ کے راستے کا بھاری پتھر ہے، اس کے ہٹ جانے سے آپ ہمیشہ برسر اقتدار رہ سکتے ہیں تو پھر آپ کو پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں جو ایک بات مستقل بنیادوں پر ہوتی آئی ہے، وہ یہ کہ کسی بھی وزیر اعظم کو پورے پانچ سال حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ جبکہ دوسرے جمہوری ممالک کے کئی وزرائے اعظم اور صدور کئی کئی بار منتخب ہوئے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں مودی تیسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوا ہے۔ ترکیہ کے صدر 25 برس سے برسراقتد ہیں۔ روس کے صدر بھی لگ بھگ اتنے ہی عرصے سے برسراقتد ہیں۔ کئی ممالک میں درمیانی مدت کے انتخابات بھی ہوتے ہیں۔ مگر وہ عین جمہوریت کے مطابق ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دے یا قانون سازی کرنا مشکل ہو جائے تو پھر ایک بار پھر نئے اعتماد کے لیے عوام کی طرف رخ کیا جاتا ہے.
لیکن پاکستان کا مسئلہ تو کچھ اور ہے۔ یہاں تو جمہوری کٹھ پتلیوں کی ڈور کہیں اور ہوتی ہے اور ڈور کو قابو میں رکھنے والے ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ اقتدار کس کو دینا ہے اور کتنی دیر کے لیے دینا ہے۔ پاکستان کی فوج تو بلاوجہ بدنام ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس ایک ہی اچھا اور منظم ادارہ فوج ہے۔ اصل اقتدار کا کھیل تو کچھ جنرلز کھیلتے رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اور سیاستدان اپنی کارکردگی دکھانے کی بجائے انہی جرنیلوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہماری باری کب لگے گی؟
موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت کہا جا رہا ہے۔ عمران خان اور اس کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ 8 فروری کے انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن رات کے اندھیرے میں ریٹرنگ افسران کے دروازے بند کر کے فارم 47 پر ووٹوں کی تعداد تبدیل کر کے پی ٹی آئی کو ہرایا گیا ہے۔ آئین اور قانون کے تحت انتخابات میں دھاندلی کی شکایات الیکشن کمیشن کے پاس جاتی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن چاہے تو معاملات کو یکسو کر سکتا ہے یا پھر ٹربیونل بنا کر چند ماہ میں فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ لیکن حالیہ بحران میں ٹریوبنل کو بھی کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی تینوں قومی اسمبلی سیٹوں پر اسلام ہائیکورٹ فیصلہ سنانے کے قریب جا چکی تھی کہ سپریم کورٹ نے اسٹے دے دیا۔ اگر یہ فیصلہ ہو جاتا تو بات سامنے آ جاتی کہ پی ٹی آئی کے دعوے میں کتنا وزن ہے۔
موجودہ حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ آج تک جتنی بھی حکومتیں کسی جرنیل کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں آئی ہیں وہ تادیر اس سہارے کو قائم نہیں رکھ سکیں۔ بھٹو صاحب کئی جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے اپنی مرضی کے بندے ضیا الحق کو لائے تھے۔ میاں نواز شریف نے بھی کئی جرنیلوں پر اعتماد اور بے اعتمادی کی۔ جنرل باجوہ بھی نواز شریف کا ہی انتخاب تھے۔ پھر اسی باجوہ کو عمران خان نے توسیع دی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا کندھا پیش کیا۔ مگر آج تک کسی بھی وزیر اعظم کو زیادہ دیر قابل اعتماد نہیں سمجھا گیا۔ جس سیاستدان کے پیچھے عوام کھڑے ہوں وہ کبھی قابل قبول نہیں ٹھہر سکا۔
حکومت کو چاہیے کہ مغالطے میں رہنے کی بجائے سیاسی استحکام کے لیے حزب اختلاف سے مذاکرات کرے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی احتجاج پر انحصار کرنے کی بجائے ملک کی بہتری کے لیے کسی پروگرام کا اعلان کرے۔ پاکستان کی بہتری کے لیے عمران خان کو موجودہ حکومت سے بات کرنی چاہیے اور ایک ایسے میثاق پر اتفاق کیا جائے جو ملک اور عوام کے لیے ہو۔ مثال کے طور پر اگر خان صاحب حکومت کو گرانے کی بجائے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر انتخابات میں دھاندلی کے راستے بند کرنے کا کوئی معاہدہ کریں، غیر جمہوری قوتوں کی جمہوریت میں مداخلت روکنے کی بات کی جائے اور ملک میں تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت کے لیے کوئی ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ حکومت کی بجائے بڑے منصوبوں میں حزب اختلاف اور غیر جانبدار اداروں کو شامل کر کے فیصلے کیے جائیں۔
اسی طرح نجی کاری بورڈ میں بھی حکومت اور حزب اختلاف برابر ہوں۔ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور آزاد بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ اس طرح کسی حکومت اور خلائی مخلوق انتخابات میں مخل ہو سکیں، نہ نتائج میں ردو بدل کروا سکیں۔ معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے حزب اختلاف اپنی رائے دے اور حکومت ان کی رائے کو اہمیت دے۔ پیپلزپارٹی سندھ، ن لیگ پنجاب اور پی ٹی آئی خیبر پختون خواہ کے عوام کو ریلیف دینے اور نظام کو درست کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کریں۔